افسانہ نگار ایلس منرو نے ادب کا نوبیل انعام جیت لیا

Image caption ایلس منرو کے ایک درجن سے زیادہ افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں

کینیڈا سے تعلق رکھنے والی افسانہ نگار ایلس منرو کو 2013 کے نوبیل انعام برائے ادب سے نوازا گیا ہے۔

سویڈش اکیڈمی کے مستقل سیکریٹری پیٹر انگلنڈ نے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہم عصر افسانے کی ماہر ہیں۔

وہ 13ویں ادیبہ ہیں جنھیں ادب کا نوبیل انعام ملا ہے۔

منرو نے انعام کے اعلان کے بعد کینیڈیئن میڈیا کو بتایا: ’مجھے معلوم تھا کہ میں بھی اس دوڑ میں شامل ہوں لیکن مجھے کبھی خیال نہیں آیا کہ میں جیت سکتی ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں ہمیشہ سمجھتی تھی کہ میرے لیے نوبیل انعام جیتنا ایک غیرحقیقت پسندانہ خواب کی طرح ہے، جو ہو سکتا ہے کہ سچا ثابت ہو جائے لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ نہ ہو۔‘

انھوں نے ایک بار اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میرے خیال سے میں اس لیے کامیاب ہوں کہ مجھ میں کوئی اور خاصیت نہیں ہے۔ میں کوئی دانشور نہیں ہوں، میں تو بس ایک عام سی خاتونِ خانہ ہوں۔‘

ایلس منرو دس جولائی 1930 کو کینیڈا کے شہر ونگہیم میں پیدا ہوئی تھیں۔ انھوں نے لڑکپن ہی میں لکھنا شروع کر دیا تھا، اور ان کی پہلی کہانی 1950 میں اس وقت شائع ہوئی جب ان کی عمر 19 برس تھی۔ اس وقت وہ یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو میں انگریزی کی طالبہ تھیں۔

ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’ہیپی شیڈز‘ 1968 میں شائع ہوا، جسے کینیڈا کا سب سے بڑا ادبی انعام گورنر جنرل ایوارڈ دیا گیا۔اب تک ان کے افسانوں کے ایک درجن سے زیادہ مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جن میں ’رن اوے،‘ ’ڈیر لائف،‘ اور ’ڈانس آف دا ہیپی شیڈز‘ شامل ہیں۔

پیٹر انگلنڈ نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا: ’مجھے اعلان سے قبل ان سے رابطہ کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، اس لیے میں نے ان کے فون پر پیغام ریکارڈ کر دیا کہ وہ جیت گئی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’انھوں نے افسانے کی صنف اختیار کی، جسے ناول کے مقابلے میں کمتر سمجھا جاتا ہے، اور اسے عروج تک پہنچا دیا۔‘

2009 میں انھیں مین بکر عالمی انعام سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انھیں دولتِ مشترکہ کا ادبی انعام بھی مل چکا ہے۔

بی بی سی کے آرٹ ایڈیٹر ول گومپرٹس کہتے ہیں کہ منرو نے ’شروع ہی سے کمال حاصل کر لیا تھا۔ بہت کم ادیب ان کی ٹکر کے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’وہ انسان کے دل کی گہرائیوں تک رسائی حاصل کر لیتی ہیں۔‘

منرو کو رواں برس کا نوبیل انعام ملنے کی خاص بات یہ ہے کہ عام طور پر ادب کا نوبیل انعام ناول نگاروں اور شاعروں کو دیا جاتا ہے، جب کہ ایلس منرو نے صرف افسانے ہی تحریر کیے ہیں اور کوئی ناول نہیں لکھا۔ البتہ ان کے چند افسانوی مجموعوں میں ایسی کہانیاں شامل ہیں جو آپس میں منسلک ہوتی ہیں۔

یہ انعام نوبیل فاؤنڈیشن کی جانب سے ہر سال پیش کیا جاتا ہے اور اس کی مالیت تقریباً 12 لاکھ 27 ہزار ڈالر کے مساوی ہوتی ہے۔ منرو کو دس دسمبر کو سٹاک ہوم میں ایک رسمی تقریب میں انعام دیا جائے گا۔ اسی دن نوبیل انعام کے بانی الفریڈ نوبیل کا انتقال ہوا تھا۔

گذشتہ برس یہ انعام چینی ناول نگار مو یان کو ملا تھا۔

اسی بارے میں