طویل ترین ناول، کمسن ترین فاتح

Image caption کیٹن نے یہ طویل ناول لکھتے ہوئے دو برس لگائے

نیوزی لینڈ کی مصنفہ ایلانور کیٹن نے 28 سال کی عمر میں مین بکر انعام جیت کر 50 ہزار پاؤنڈ مالیت کے انعام کی کمسن ترین فاتح ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔

یہ انعام انھیں ناول ’دا لومینیریز‘ (The Luminaries) پر عطا کیا گیا ہے، جس کی کہانی 19ویں صدی کے نیوزی لینڈ میں سونے کی کانوں کے گرد گھومتی ہے۔

832 صفحوں پر مشتمل یہ ناول مین بکر کی 45 سالہ تاریخ میں انعام جیتنے والا ضخیم ترین ناول بھی ہے۔

انعام کے سربراہ جج رابرٹ میکفارلین نے کہا: ’یہ شاندار اور درخشاں کام ہے۔ یہ طویل ہے لیکن طولانی نہیں۔‘

کیٹن کے جیتنے کا اعلان منگل کی رات کو لندن کے گلڈ ہال میں کیا گیا۔

یہ کتاب وکٹوریائی عہد پر مبنی ہے، اور اس میں نیوزی لینڈ میں سونے کی تلاش کے بارے میں ایک پراسرار کہانی بیان کی گئی ہے۔ کتاب کا ڈھانچہ علمِ نجوم کے چارٹوں پر تیار کیا گیا ہے اور اس کا ہر باب پچھلے باب سے آدھا ہے۔

میکفارلین نے کہا: ’آپ اسے شروع کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے آپ ایک بے ہنگم عفریت کے شکنجے میں آ گئے ہیں، لیکن بعد میں اس کی رفتار مسلسل بڑھتی جاتی ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم نے اسے تین بار پڑھا ہے اور ہر بار اس کے اندر سے کوئی غیر معمولی پہلو برآمد ہوا ہے۔‘

مین بکر انعام کی فہرست میں شامل دوسرے مصنفین میں نووائلٹ بلاوائیو، جم کریس، جھمپا لاہڑی، روتھ اوزیکی، اور کولم ٹوئبن شامل تھے۔

سٹے بازوں کے مطابق کریس یہ انعام جیتنے کے لیے زیادہ مقبول امیدوار تھے، لیکن اختتامِ ہفتہ کیٹن کی حمایت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

میکفارلین نے کہا کہ ججوں نے تقریباً دو گھنٹے کی تند و تیز بحث کے بعد فاتح کا فیصلہ کیا۔

کیٹن کینیڈا میں پیدا ہوئی تھیں، لیکن ان کی پرورش نیوزی لینڈ میں ہوئی۔ وہ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والی دوسری مصنفہ ہیں جنھوں نے یہ انعام جیتا ہے۔ ان سے پہلے کیری ہلم نے 1985 میں انعام حاصل کیا تھا۔

میکفارلین نے ناول کی طوالت کے بارے میں ازراہِ مذاق کہا: ’جنھوں نے اسے کتابی شکل میں پڑھا ہے ان کے اوپری جسم کی خوب ورزش ہوئی ہے۔‘

کیٹن نے یہ ناول اس وقت لکھنا شروع کیا تھا جب ان کی عمر 25 سال تھی۔ اسے ختم کرتے ہوئے انھیں دو سال لگے۔

اسی بارے میں