زبیدہ خانم: اداکارہ سے گلوکارہ تک

Image caption زبیدہ خانم نے اپنے آخری ایام لاہور میں گزارے

پاکستانی فلموں کے لیے ڈھائی سو سے زیادہ نغمے گانے والی گلوکارہ زبیدہ خانم کو لاہور میں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

وہ 78 برس کی عمر میں سنیچر کو حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال کر گئی تھیں۔

1935 میں امرتسر میں پیدا ہونے والی زبیدہ خانم تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آ گئی تھیں۔

دورانِ تعلیم ان کے ایک استاد نے ان کی گلوکاری سے متاثر ہو کر انہیں ریڈیو پاکستان میں متعارف کروا دیا جہاں سے ان کے فنی سفر کا آغاز ہوا۔

پاکستان کی فلمی دنیا سے ان کا تعلق 1951 میں قائم ہوا تھا جب انہوں نے فلم ’بلّو‘ میں اداکاری کی۔

اپنے کیریئر کے ابتدائی برسوں میں وہ اداکاری کرتی رہیں اور مورنی اور پاٹے خان جیسی فلموں میں کام کرتی دکھائی دیں۔

تاہم انہیں اصل شناخت 1953 میں اس وقت ملی جب وہ بطور پلے بیک سنگر سامنے آئیں۔ انہوں نے اس سال ریلیز ہونے والی فلم ’شہری بابو‘ کے لیے گیت گائے جو بہت مقبول ہوئے۔

بی بی سی سے ایک بات چیت میں زبیدہ خانم نے کہا تھا کہ ان کے اہلخانہ موسیقی کو بطور کیریئر اپنانے پر ان سے ناخوش تھے تاہم ’مجھے ہمیشہ سے گائیکی کا شوق تھا اور میں جب بھی سٹوڈیو جاتی تھی تو بہت خوشی محسوس کرتی تھی۔‘

انہوں نے بتایا تھا کہ انہیں فلم سات لاکھ کا گانا ’آئے موسم رنگیلے سہانے‘ بہت پسند تھا: ’مجھے اس کی موسیقی اور بول دونوں ہی بےحد اچھے لگتے ہیں۔‘

اپنے کیریئر کے عروج پر زبیدہ خانم نے پاکستانی فلمی صنعت کے معروف کیمرہ مین ریاض بخاری سے شادی کر کے موسیقی کی دنیا کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

انہوں نے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔

اسی بارے میں