بالی وڈ نے پاکستانی فلمی صنعت میں جان ڈال دی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

محمد اشرف 23 سال سے راولپنڈی کے ایک سینما میں پروجیکٹر چلاتے ہیں۔

ان میں یہ شوق بچپن میں پہلی بار سینما جانے کے بعد پیدا ہوا۔ ان کو فلموں کی رنگینیاں اتنی پسند ہیں کہ اور کوئی کام نہیں، اپنی سرکاری ملازمت کے ساتھ وہ راولپنڈی کے سیروز سینما میں ریل لگانے کا کام کرتے ہیں۔

’یہ کام میں سینما کی وجہ سے کرتا ہوں ورنہ اس سے مجھے اور کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘

پاکستانی فلموں میں بڑھتا ہوا نیا رجحان

محمد اشرف تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے کام کا مستقبل تاریک ہے۔ یہ ایسا ہنر ہے جو پاکستان میں آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 600 سینما گھر ہوا کرتے تھے، لیکن منافع نہ کمانے کی وجہ سے ان کی تعداد سو سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ان سینما گھروں کی کمائی اب صرف انڈین فلموں اور غیر قانونی فحش فلموں کی وجہ سے ہے۔

لیکن جہاں ایک دروازہ بند ہوتا نظر آتا ہے، وہیں دوسرے کے کھلنے کے آثار بھی نمایاں ہیں۔

2007 میں کراچی میں پاکستان کا پہلا ملٹی پلیکس سینما گھر قائم ہوا۔ ملٹی پلیکس میں ایک سے زیادہ چھوٹی سکرینیں ہوتی ہیں اور ڈیجٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے فلموں کی نمائش کی جاتی ہے۔ ان کے ٹکٹ بھی کئی گنا زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔

جب حکومتِ پاکستان نے لالی وڈ کے ہدایت کاروں اور پرڈیوسروں کے اعتراضات کے باوجود سینما مالکان کے مطالبے پر بالی وڈ فلموں کو 2007 میں پاکستان میں سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت دی تو ملٹی پلیکس دھڑا دھڑ بننے لگے۔

ندیم مانڈوی والا تیس برسوں سے فلمی صنعت سے وابستہ ہیں اور ایٹریم پلیکس کے مالک ہیں۔

Image caption فلم وار حال ہی میں نمائش کے لیے پیش کی گئی اور بے حد پسند کی جا رہی ہے

ان کا کہنا ہے کہ ملٹی پلیکس کی مقبولیت اور فلم بینوں کی طلب کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 2007 میں محض تین سکرینیں تھیں، 2010 سے 2012 تک پچیس بنی اور 2013 میں پاکستان کے تین بڑے شہروں میں 17 نئی سکرینز قائم ہوئیں۔

اتنے مہنگے ٹکٹ کے باوجود پاکستانی فلم بین یہ ملٹی پلیکس کیوں پسند کر رہے ہیں؟

ملک کے دارالحکومت اسلام آباد کے ’سینٹورس‘مال میں ایک دہائی بعد شہر کا پہلا سینما گھر قائم ہوا ہے۔

یہاں فلم دیکھنے کے لیے آنے والی گھریلو خاتون ثمینہ کے مطابق’ملٹی پلیکس میں اچھا ماحول ملتا ہے۔ اگر سستے ٹکٹ والے سینما میں جائیں گے تو وہاں کے ناظرین فضول باتیں کرتے ہیں جس سے جو لوگ اپنے خاندان کے ساتھ آتے ہیں انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔‘

ملٹی پلیکس کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے پاکستانی فلم سازوں کو بھی کئی سالوں کے بعد ایک بھی ایک نیا پلیٹ فام میسر آیا ہے۔

لالی وڈ کے زوال کا ماتم کئی بار کیا جا چکا ہے۔ تاہم جیسے پرانے طرز کے سینماؤں کی جگہ ملٹی پلیکس لے رہے ہیں، اسی طرح روایتی لالی وڈ فلموں کے برعکس نئے رجحان کی پاکستانی فلمیں اپنا مقام بنا رہی ہیں۔

ان فلموں کے بجٹ کم ہوتے ہیں اور یہ لاہور کے فلم سٹوڈیوز میں نہیں بنتیں۔ اس سال اگست سے اس طرح کی کئی فلمیں ریلیز ہوئی ہیں جن میں جوش، زندہ بھاگ، میں ہوں شاہد آفریدی شامل ہیں۔ان فلموں نے پاکستان کے متوسط طبقے میں پاکستانی فلموں کی مارکیٹ کے لیے راہ ہموار کی ہے۔

ندیم مانڈوی والا کہتے ہیں’پاکستانی فلموں کو ایک یہ فائدہ ہے کہ ان کی فلموں کی غیر قانونی سی ڈیز نہیں بنتی ہیں جس کی وجہ سے ان کا کاروبار غیر ملکی فلموں سے زیادہ ہوتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’میں ہوں شاہد آفریدی‘ فلم نے اپنی منفرد کہانی کی وجہ سے خوب کاروبار کیا۔ جبکہ فلم ’وار‘نے تو پہلے دن ریکارڈ توڑ دیے۔‘

شدت پسندی اور پاکستانی فوج کے بارے میں فلم ’وار‘ اسی ہفتے میں ریلیز ہوئی ہے اور اس کے ہدایت کار بلال لاشاری اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی فلم کو کامیابی کا موقع ملٹی پلیکس کی وجہ سے ملا۔

وہ کہتے ہیں کہ ایسی فلموں کے سرمایہ کاروں کے پاس مارکیٹنگ یعنی تشہیر کے لیے پیسے کم ہوتے ہیں۔

’ملٹی پلیکس یعنی زیادہ سکرینوں کی وجہ سے چھوٹے بجٹ کی فلموں کو فائدہ ہوتا ہے۔ لوگ بڑے بجٹ کی فلمیں دیکھنے آتے ہیں اور پھر ایسی فلموں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جب فلم ان لوگوں میں مقبول ہوتی ہے تو وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو بتاتے ہیں اور مزید لوگ دیکھنے آتے ہیں۔‘

ندیم مانڈوی والا کہتے ہیں کہ جیسے دنیا بھر میں سینما کی صنعت ترقی کر رہی ہے، پاکستان میں بھی اب بحالی کا عمل شروع ہو رہا ہے۔

’اچھے سینما گھروں کی وجہ سے اب لوگ بین الاقوامی معیار کی فلموں کی خواہش کر رہے ہیں۔‘

اگر سینما کا موازنہ دکان سے کیا جائے اور فلم سازی کو فیکٹری سے، تو ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ غیر ملکی مصنوعات کی وجہ سے مزید دکانیں بنیں اور پھر فیکٹریاں۔ شاید 2013 پاکستانی فلمی صنعت کے لیے سنگِ میل ثابت ہو۔

اسی بارے میں