بھارت: فلموں کے بعد اب نغمات پر بھی سنسر بورڈ کی نظر

Image caption فلم باس کے گیت پارٹی آل دا نائٹ کے بعض الفاظ پر اعتراض ظاہر کیے گئے ہیں

بھارت میں اطلاعات و نشریات کی وزارت کے ذریعے تشکیل دی جانے والی ایک کمیٹی نے مشورہ دیا ہے کہ سنسربورڈ کو فلموں کے علاوہ ان کے گیتوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے اور ان کی نگرانی کی جانی چاہیے۔

گذشتہ دنوں جاری ہونے والے کئی گیتوں میں مبینہ طور پر بعض قابل اعتراض الفاظ استعمال کیے گئے تھے جن کے خلاف شکایتیں درج کی گئی تھیں اور عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔

ان شکایات کے بعد وزارت اطلاعات و نشریات نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی اور اس بارے میں ان سے تجاویز مانگی تھی۔

کمیٹی نے اپنی تجاویز میں کہا: ’فلموں کے علاوہ سنسر بورڈ کو گانوں پر بھی نگاہیں رکھنی چاہیے اور اچھی طرح سے جانچ پڑتال کے بعد ہی انہیں ہری جھنڈی دی جانی چاہیے۔‘

کمیٹی نے اپنے مشاہدے میں گانوں پر نگرانی رکھنے کی ضرورت پر یہ کہتے ہوئے زور دیا ہے کہ فلموں کو تو سنسر بورڈ کے سرٹیفیکیٹ کی بنیاد پر خاص عمر تک کے لوگوں تک محدود کیا جا سکتا ہے لیکن نغمے یو ٹیوب، ٹی وی اور ریڈیو پر ہر عمر کے ناظرین اور سامعین تک پہنچتے ہیں اس لیے نغموں کے لیے بھی سند کی بھی ضرورت ہے۔

Image caption کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو فلم کے ٹریلرز اور پوسٹرز پر بھی نظر رکھنے کی صلاح دی ہے

اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے یہ تجویز بھی دی کہ گانوں کے علاوہ فلم کے پوسٹرز، پروموز، ٹریلرز وغیرہ پر بھی سنسر بورڈ کو گہری نظر رکھنی چاہیے۔

حال ہی میں ریلیز ہونے والی اکشے کمار کی فلم ’باس‘ کے ایک نغمے ’پارٹی آل نائٹ‘ کے کچھ الفاظ پر ایک عدالت نے اعتراض کرتے ہوئے انہیں ہٹانے کی ہدایات دی تھیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی کئی فلموں کے پروموز اور ٹریلرز پر اعتراض کیے گئے تھے۔

ان کے باوجود اطلاعات کے مطابق کئی قسم کی گالیوں اور قابل اعتراض الفاظ کے باوجود رام گوپال ورما کی آنے والی فلم ’ستيا 2‘ کو سنسر بورڈ نے نمائش کی اجازت دے دی ہے۔ البتہ اس فلم کو بالغوں کے لیے مخصوص ’اے‘ سرٹیفیکیٹ دیا گیا ہے۔

اس سے قبل ’گرینڈ مستی‘ اور ’کیا سوپر کول ہیں ہم‘ کے فلم سازوں نے اپنی فلموں کے لیے دو مختلف قسم کے ٹریلرز لانچ کیے تھے۔

یو ٹیوب پر فلم کے غیر سنسر شدہ پروموز ڈالے گئے تھے جبکہ ٹی وی پر سنسربورڈ سے پاس ٹریلر دکھائے گئے۔

یو ٹیوب اور دیگر ویڈیو شیئرنگ سائٹوں پر فلموں کے ٹریلرز اور پروموز کو کنٹرول کرنے کا مسئلہ فی الحال جوں کا توں ہے۔

اسی بارے میں