معروف بھارتی گلوکار منّا ڈے انتقال کرگئے

Image caption منّا ڈے کو ان کے لازوال گیتوں کے لیے یاد کیا جاتا ہے

بھارت کے معروف گلوکار منّا ڈے طویل علالت کے بعد 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔

طبعیت بگڑنے پر انہیں بنگلور کے ہسپتال لایا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے جمعرات کو صبح چار بجے ان کے انتقال کا اعلان کیا۔

اس سے قبل رواں برس جون میں بھی انہیں سینے میں انفیکشن کے سبب ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل کیا گیا تھا لیکن پھر وہ رو بہ صحت ہو کر گھر آ گئے تھے۔

منا ڈے کا اصل نام پربودھ چندر ڈے تھا لیکن وہ اپنی عرفیت سے ہی پہچانے گئے۔

ہر طرح کے نغموں کو باآسانی گانے کا ہنر رکھنے والے منّا ڈے کا شمار انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے اہم پلے بیک سنگروں میں ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سچن دیو برمن کے ساتھ بطور معاون موسیقار بھی کام کیا تھا۔

بطور پس منظر گلوکار انہوں نے اپنے کیریئر کی شروعات 1943 میں آنے والی فلم ’تمنا‘ سے کی تھی۔

ویسے تو منّا ڈے نے ہر طرح کے گیت گائے، لیکن ان کی خاص شہرت اور مہارت کلاسیکی انداز کی گائیکی تھی اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو مہارت انھیں کلاسیکی گائیکی میں حاصل تھی، وہ بالی وڈ کے کسی دوسرے مرد گلوکار کو حاصل نہیں ہوئی۔

Image caption منّا ڈے کو پدم شری اور پدم بھوشن جیسے اعزازات سے نوازا گیا

منّا ڈے ’لاگا چنری میں داغ‘ یا پھر ’پوچھو نہ کیسے میں نے رین بتائی‘ کے علاوہ ’اے مری زہرہ جبیں‘، ’پھول گیندوا نہ مارو‘، ’کون آیا میرے من کے دوارے‘ یا ’یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے‘، ’تو پیار کا ساگر ہے‘، ’یاری ہے ایمان میرا یار میری زندگی،‘ ’اے بھائی ذرا دیکھ کے چلو،‘ ’تجھے سورج کہوں یا چندا‘ اور ’یہ رات بھیگی بھیگی‘، جیسے گیتوں کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔

وہ یکم مئی 1919 میں بھارتی ریاست بنگال کے شہر کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اپنے کیریئر میں مادری زبان بنگالی کے علاوہ ہندی، اردو، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، کنّڑ اور آسامی زبان میں فلموں کے لیے گیت گائے۔

انھیں کلاسیکی موسیقی سے رغبت تھی اس لیے انہوں نے استاد امان علی خان اور استاد عبدالرحمٰن خان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی تھی۔

منّا ڈے کی آواز کے رینج کو فلمی دنیا میں کافی سراہا جاتا تھا۔ وہ محمد رفیع، طلعت محمود، کشورکمار اور مکیش جیسے بڑے گلوکاروں کے زمانے میں اپنی مخصوص پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔

بہت سے فلم ناقدین کا کہنا ہے کہ بالی وڈ نے منّا ڈے کی صلاحیت سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا اور ان کی پورے رینج کا استعمال نہیں کیا۔

منّا ڈے کو موسیقی کے میدان میں ان کے کام پر بہت سے انعامات سے نوازا گیا۔ انہیں بنگالی فلم ’نشی پدمو‘ میں گائیگی کے لیے پہلی بار نیشنل ایوارڈ ملا تھا۔ اس کے بعد 1971 میں پدم شری، 2005 میں پدم بھوشن ایوارڈ جبکہ 2007 میں بھارتی فلمی صنعت میں سب سے اہم سمجھا جانے والا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ بھی منا ڈے کو دیا گیا۔

منّا ڈے نے دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے۔

اسی بارے میں