جرمنی: نازیوں کے چھیننے ہوئے فن پارے برآمد

Image caption ان فن پاروں کی مالیت کا اندازہ سوا ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے

جرمن میں ذرائع ابلاغ کے مطابق میونخ سے پندرہ سو نادر فن پارے برآمد ہوئے ہیں جنھیں نازیوں نے قبضے میں لیا تھا۔

جریدے فوکس کے مطابق ان فن پاروں کو 1930 اور 40 کے دوران قبضے میں لیا گیا تھا اور ان میں شہرۂ آفاق مصور پکاسو، شگال اور ماتیس کے فن پارے بھی شامل ہیں۔

اگر حکام کی جانب سے تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ اب تک لوٹے ہوئے فن پاروں کے ملنے کا سب سے بڑا واقعہ ہو گا۔

ان میں سے کچھ بارے میں کہا جاتا ہے کہ نازیوں نے ان کو انحطاط پذیر قرار دیا تھا جبکہ دیگر کو لُوٹا گیا یا یہودیوں سے زبردستی خریدا گیا تھا۔

فوکس جریدے کے مطابق تفتیش کاروں کا اندازہ ہے کہ ان فن پاروں کی مالیت ایک ارب 35 کروڑ ڈالر کے قریب ہو گی۔

جریدے کے مطابق یہ فن پارے سال 2011 میں اس وقت اتفاقاً ملے جب ٹیکس حکام نے میونخ میں ایک آرٹ ڈیلر کے بیٹے سے تفتیش کی۔

حکام کو کورنیولیس گورلٹ کے بارے میں شک تھا کہ وہ ٹیکس کی ادائیگی میں بدعنوانی کر رہے ہیں اور میونخ میں واقع ان کے مکان کی تلاشی کی اجازت لی گئی تھی۔

اس تلاشی کے دوران حکام کو ان کے مکان سے نازی دور میں غائب ہو جانے والے پندرہ سو فن پارے ملے۔

فوکس جریدے کے مطابق کورنیولیس گورلٹ نے ان فن پاروں کو ایک تاریک کمرے میں رکھا ہوا تھا اور پیسوں کی ضرورت کے وقت ان کو ایک ایک کر کے فروخت کرتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق برآمد ہونے والے فن پاروں میں سے دو سو کی بازیابی کے لیے بین الاقوامی وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق ان میں ماتیس کی تیارہ کردہ ایک عورت کی پینٹگ بھی شامل ہے اور یہ فرانسیسی ٹی وی کی میزبان اینی سینسلر کے دادا کی ملکیت تھا۔

پال روز برگ جو پکاسو اور ماتیس کے فن پاروں کے ڈیلر تھے اور انہیں 1930 میں زبردستی اپنے فن پاروں کے بغیر جرمنی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

ہولو کاسٹ کے یادگاری عجائب گھر کے مطابق نازیوں نے کم از کم 16 ہزار فن پاروں کو قبضے میں لیا تھا۔

نازی دور میں تقریباً تمام جدید آرٹ کو انحطاط پذیر قرار دے دیا گیا تھا اور اس کو یہودی فن کہہ کر پابندی لگا دی تھی۔

اسی بارے میں