تبدیلی کی لہر سے سرشار پاکستانی سنیما

Image caption وار پاکستان کی پہلی بڑے بجٹ کی ایکشن فلم ہے، باکس آفس پر اس نے کامیابی کے پرچم گاڑے ہیں

پاکستانی سینما میں فلم ’وار‘ کی کامیابی کو نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ فلم رواں سال ریلیز ہونے والی کامیاب ترین فلموں سے ایک ہے۔

فلم ’وار‘ یعنی جنگ سنہ 2009 میں ایک اہم پولیس اکیڈمی پر ہونے والے طالبانی حملے کے سچے واقعات پر مبنی ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی بڑے بجٹ کی ایکشن فلم ہے اور باکس آفس پر اس فلم نے کامیابی کے پرچم گاڑے ہیں۔

ایک وقت تھا جب پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری متحرک اور فعال ہوا کرتی تھی لیکن حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہے۔

اس سال ’وار‘ کی طرح ہی نمایاں طور پر کم از کم 21 فلمیں پاکستان میں ریلیز ہوئی ہیں اور انہیں پاکستان میں فلم سازی کے وجود کو آکسیجن ملنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستانی ہدایتکار ارم پروین بلال نے حال ہی میں اپنی فلم ’جوش‘ کی کامیابی دیکھی ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’پاکستانی فلم ساز کے طور پر کام کرنے کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ آپ کی رسائی ایسے ممالک تک ہو جاتی ہے جہاں پہنچ پانا کم ہی لوگوں کے بس میں ہوتا ہے۔ اس علاقے میں فلم سازی سے متعلق سرگرمیاں عام طور پر بڑھ ہی رہی ہیں۔ یہاں کئی قسم کی آزاد آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنیں گی۔‘

Image caption تبدیلی کی تازہ ہوا کے جھونکے نے نہ صرف سینما کی دنیا کو تازگی بخشا ہے بلکہ ڈرامے کی دنیا کو بھی بیدار کیا ہے

پاکستان میں تھیٹر بھی 90 کی دہائی میں دھیرے دھیرے کم ہونے لگے تھے، لیکن تبدیلی کی تازہ ہوا کے جھونکے نے نہ صرف سینما کی دنیا کو تازگی بخشی ہے بلکہ ڈرامے کی دنیا کو بھی بیدار کیا ہے۔

آئندہ سال ایڈنبرا فرنج فیسٹیول میں پہلی بار کسی پاکستانی ڈرامے کو پیش کیے جانے کا پروگرام ہے۔

ان باتوں نے پاکستان کے فلم اور تھیٹر کی دنیا سے وابستہ لوگوں کے درمیان یہ امید پیدا کی ہے کہ گہری نیند میں سو نے والی تفریح کی صنعت پھر بیدار ہو سکتی ہے۔

سنہ 80 کی دہائی میں پاکستان کا تھیئٹر اپنے عروج پر ہوا کرتا تھا لیکن اسٹیج پر پیش کی جانے والی چیزوں کے طور طریقوں میں آنے والے زمانے میں کچھ ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن سے شائقین کی تعداد کم ہونے لگی۔ تھیٹر جانے والے بعض ڈرامہ کے پرستاروں کے خیال میں یہ تبدیلیاں تھیٹر کی دنیا میں فحاشی کی جانب میلان تھا۔

کراچی کے عمیر علوی کو ڈرامے کے ناقد کے طور پر جانا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’زيادہ تر لوگوں کو تھیٹر کے سٹیج پر فنکاروں کو رقص کرتے دیکھنا اچھا نہیں لگا۔ اداکاروں کی زبان میں سطحی مذاق انہیں پسند نہیں آیا۔ ان میں کامیڈی بھی اعلی معیار کے مطابق نہیں تھی۔‘

Image caption پاکستان میں اداکاروں اور ہدایت کاروں کی نئی نسل سامنے آ رہی ہے جنہوں نے ڈرامے کی تعلیم بھی حاصل کر رکھی ہے

لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ ایک بار پھر سے ملک کے نوجوانوں کو سٹیج کی تازہ ہلچل سے ایک امید سی جگی ہے۔ اداکاروں اور ہدایت کاروں کی نئی نسل سامنے آ رہی ہے جنہوں نے ڈرامے کی تعلیم بھی حاصل کر رکھی ہے۔

اداکار، مصنف اور ہدایت کار عثمان خالد بٹ بھی اسی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

خالد کہتے ہیں: ’ایک بار اگر ناظرین نے دیکھ لیا کہ یہ ایک اچھی اور ثقافتی چیز ہے، تو پھر گھر والوں نے اپنے بچوں کو اجازت دینی شروع کر دی اور پھر لوگوں نے اس میں حصہ لینا شروع کر دیا۔‘

عثمان کے ڈرامے ’سم لائک اٹ ہاٹ‘ اور ’فریڈم بونڈ‘ کو ہزاروں لوگوں نے دیکھا۔ وہ ان دنوں ایڈنبرا فرنج فیسٹیول میں دکھائے جانے والے ڈرامے کی تیاری میں مشغول ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ہمیں دنیا کو دکھانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پاس بھی ٹیلنٹ (صلاحیت) ہے۔ ہمیں تھیٹر کے پروموشن اور نشر و اشاعت کے لیے سرکاری امداد کی بھی امید ہے۔‘

اسی دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستانی سنیما کو بین الاقوامی شناخت ملنی شروع ہو گئی ہے۔ 50 سال میں پہلی بار اردو فلم ’زندہ بھاگ‘ آسکر ایوارڈز کے غیر ملکی زبان کے زمرے میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہے۔

اسی بارے میں