لتا منگیشکر میڈیا کے رویے سے ناراض

Image caption ہر سال پدم ایوارڈ کی کمیٹی کا خط میرے پاس آتا ہے جس میں وہ میری پسند پوچھتے ہیں: لتا

بھارت کی مقبول ترین گلوکارہ لتا منگیشکر ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہری اعزاز پدم وبھوشن کی نامزدگی پر میڈیا کے رویے سے ناراض ہیں۔

اطلاعات کے مطابق لتا منگیشکر نے پدم ایوارڈ کے لیے اپنی چھوٹی بہن اوشا منگیشکر اور گلوکار سریش واڈیکر کے نام کی سفارش کی تھی۔

تاہم اس بات کو میڈیا میں جس طرح سے نشر گیا اس پر لتا ناراض ہیں اور انہوں نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی جذبات کا اظہار کیا۔

لتا منگیشکر نے لکھا: ’ہر سال پدم ایوارڈ کی کمیٹی کا خط میرے پاس آتا ہے جس میں وہ میری پسند پوچھتے ہیں۔ میں اب تک بہت سے لوگوں کا نام بھیج چکی ہوں۔ اوشا منگیشکر گذشتہ 50 سالوں سے آسامی، گجراتی، ہندی، مراٹھی سمیت کئی زبانوں میں گا چکی ہیں۔ان کے گانے بہت مشہور ہیں۔‘

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ’اسی طرح سریش واڈیكر پچھلے 40 سالوں سے گا رہے ہیں، جن کی موسیقی کے مداح بھارت ہی نہیں امریکہ اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں بھی ہیں۔‘

لتا کے بقول ’اگر میں نے ایسے نامور گلوکاروں کا نام تجویز کیا تو اس میں غلط کیا ہے۔ مجھے پدم ایوارڈ کمیٹی کا خط آتا ہے اور میں انھیں مشورہ دیتی ہوں۔ لیکن آئندہ سے میں کوئی مشورہ نہیں دوں گی۔‘

اسی بارے میں