غیر ملکی فنکاروں کی بالی وڈ میں مقام پانے کی جستجو

Image caption ہالینڈ کی اداکارہ سپورا انا زوٹویلے کے لیے بھارتی ڈرامے میں کردار حاصل کرنا بڑی کامیابی ہے

بھارتی ٹیلی ویژن پر’فرنگی بہو‘ کے نام سے ایک سیریل آنے والی ہے جو ثقافتی ٹکراؤ اور بدلتے سماجی طور طریقوں کی کہانی ہے۔

یہ کہانی ایک روایتی گجراتی خاندان کی ہے جس کے گھر یورپ کی ایک لڑکی بہو بن کر آتی ہے۔

بہو کے کردار کے لیے منتخب کی گئیں ہالینڈ کی اداکارہ سپورا انا زوٹویلے کے لیے یہ بڑی کامیابی ہے، کیونکہ بھارتی سکرین پر غیر ملکی فنکاروں کو مشکل سے ہی کوئی اہم کردار ادا کرنے کو ملتا ہے۔

زوٹویلے کا کہنا ہے کہ بالی وڈ میں کام حاصل کرنے کے لیے آپ کو خوش قسمت ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا: ’یہاں بڑا کردار حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے کیونکہ یہ صرف آپ کے ٹیلنٹ کا مسئلہ نہیں بلکہ آپ کس کو جانتے ہیں، یہ بہت معنی رکھتا ہے۔‘

دراصل ناظرین مقامی فنکاروں ہی کو پسند کرتے ہیں اسی لیے زیادہ تر کردار مقامیوں کے ہوتے ہیں۔

ان دنوں دنیا کے کونے کونے سے بالی وڈ میں قسمت آزمانے کے لیے فنکار بھارت آ رہے ہیں۔ تاہم اس بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں کہ ان کی تعداد کیا ہے۔ فنکاروں کا چناؤ کرنے والے ڈائریکٹر مکیش چھابڑا کا کہنا ہے کہ انہیں ہر ماہ مشتاق غیر ملکیوں کی دس سے پندرہ ای میلز آتی ہیں۔

Image caption بالی وڈ میں غیر ملکی رقاصاؤں کی بھی بہت مانگ ہے

عام طور پر ڈائریکٹر غیر ملکی اداکاراؤں کو بطور رقاصہ یا پھر منظر کو پرکشش بنانے کے لیے فلموں میں لیتے ہیں۔

زوٹویلے کہتی ہیں کہ غیر ملکی ہونے کے ناطے عام طور پر آپ کو ’آئیٹم گرل‘ کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔

بھارت میں ملٹی پلیکس کے بڑھتے شائقین کو دیکھتے ہوئے فلم ساز روایت سے ہٹ کر کہانیوں کو آزما رہے ہیں، جس سے غیر ملکی فنکاروں کے لیے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

چھابڑا کا یہ بھی کہنا ہے کہ انڈسٹری کو مزید غیر ملکی چہرے چاہییں کیونکہ وہ ایک ہی چہرے کو ہر فلم میں نہیں دکھا سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی فنکار یہاں ٹکنا نہیں چاہتے۔ زیادہ تر اچھے اداکار ہالی وڈ کا رخ کر لیتے ہیں لیکن اگر وہ یہاں رک جائیں تو یقینی طور پر انہیں زیادہ کام ملے گا۔

Image caption لیزا لذارس بالی وڈ میں کام کرنے سے قبل کبھی بھارت نہیں آئی تھیں

لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں غیر ملکی فنکاروں کو اب بھی اہم کردار نہیں ملتا۔

بالی وڈ میں قسمت آزمانے کے لیے ویلز سے آنے والی سابق مس لینیلي لیزا لیزارس کا کہنا ہے کہ اگر آپ یہاں آتے ہیں تو آپ کو سخت محنت کرنے اور خود کو وقف کرنے کے لیے تیار کرنا ہوگا۔

تاریخی ڈرامے ’ویر‘ میں کام کرنے سے پہلے وہ کبھی بھارت نہیں آئی تھیں۔ وہ بالی وڈ کے تجربے کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہاں کافی دباؤ ہے۔

کئی بار تو وہ 24 گھنٹے کی شوٹنگ کے بعد گھر جا کر خوب روتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ایک ڈریس کا وزن 15 کلو تھا اور ان کو اسے تین ہفتے تک پہننا تھا۔

اس بارے میں زوٹویلے کہتی ہیں کہ اگر آپ سخت محنت کرتے ہیں تو آپ کو سکھانے اور تعاون کرنے والے لوگ مل جاتے ہیں، تمام برائیوں اور کام کے لیے ناجائز فائدہ اٹھانے کے واقعات سے بھری اس صنعت میں آپ کو یہ پتہ ہونا چاہییے کہ آپ کیا چاہتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہاں پر لوگ کئی طرح پیشکشیں کرتے ہیں اور یہ تمام انتہائی دلکش نظر آتی ہیں لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں