معمر خواتین کے لیے فلمیں کیوں نہیں لکھی جاتیں؟

Image caption شرمیلا ٹیگور سنسربورد کی صدر بھی رہ چکی ہیں اس کے علاوہ انہیں فلم کے لیے متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے

بھارت کی معروف اداکارہ شرمیلا ٹیگور نے شکایت کی ہے کہ ان جیسی معمر اداکاراؤں کے لیے کوئی فلم نہیں لکھی جاتی۔

یہ بات انھوں نے دہلی میں ’ہندوستانی سنیما میں خواتین کی تصویر کشی‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سمینار میں کہی۔

انھوں نے کہا ’امیتابھ بچن، نصیرالدین شاہ اور انوپم کھیر جیسے اداکاروں کے لیے سکرپٹ لکھی جاتی ہے لیکن ہم جیسی ہیروئینوں کے لیے کوئی نہیں لکھتا۔‘

شرمیلا نے مزید کہا ’ہم 40 اور 50 سال کی عمر والے اداکاروں کو نوجوان اور ٹین ایج خاتون اداکاراؤں کے ساتھ اکثر رومانس کرتے دیکھتے ہیں لیکن اس کے برعکس اسے ہماری فلموں میں پیش نہیں کیا جاتا۔‘ (یعنی خواتین اداکارائیں چالیس پچاس کی ہوں اور ان کا رومانس نوجوان لڑکوں سے دکھایا جائے)

بھارتی اداکار سیف علی خان اور سوہا علی خان کی والدہ 68 سالہ شرمیلا ٹیگور کا کہنا ہے کہ بھارتی فلموں میں زیادہ تر اداکاراؤں کو محض شو پیس کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’اگر متوازی سنیما کے بعض استثنی کو چھوڑ دیا جائے تو ہماری زیادہ تر فلموں میں خواتین کی یہی تصویر پیش کی جاتی ہے۔ بطور خاص مین سٹریم ہندی فلموں میں یہ روش زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہے‘۔

شرمیلا ٹیگور نے کہا کہ اب ہیروئنوں کے حوالے سے سماج کے رویے میں تبدیلی آئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب انھوں نے سنہ 1959 میں معروف ہدایت کار ستیہ جیت رے کی بنگالی فلم ’اپور سنسار‘ میں اداکاری کی تھی تو ان کے پرنسپل نے انھیں سکول چھوڑنے کا حکم دیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں دوسری لڑکیوں پر اس کا غلط اثر پڑے گا۔

انھوں نے کہا ’کسی بھی طبقے کی کوئی خاتون اس گرے ہوئے پیشے میں کام کرنا نہیں چاہتی تھی‘۔

Image caption شرمیلا نے کافی متنوع کردار ادا کیے ہیں

شرمیلا ٹیگور کے مطابق لیجنڈری کرکٹر منصور علی خان پٹودی سے ان کی شادی نے ان کے حوالے سے سماج کے رویے میں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا اور سماج اور میڈیا کے نظریے میں تبدیلی آئی۔

انھوں نے کہا ’میری شادی پر میڈیا میں بحث جاری رہی کہ شادی اور پیشہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے لیکن میرے معاملے میں کام سے میری شادی متاثر نہ ہو سکی اور شادی ماں اور کریئر میں ٹکراؤ نہیں آیا‘۔

شرمیلا ٹیگور نے سنہ 1960 کی دہائی میں اپنے فلمی کیریر کا آغاز کیا تھا۔

شممي کپور کے ساتھ ان کی فلم ’کشمیر کی کلی‘ سے انھیں مقبولیت ملی اور ان کی اداکاری کی کافی تعریف ہوئی۔

انھیں اپنے دور کی سب سے خوبصورت اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔ سنہ 1967 کی فلم ’این ایوننگ ان پیرس‘ میں انھوں نے بكيني پہنی جسے اس دور کی رو سے انتہائي جدت پسندانہ قدم قرار دیا گيا تھا۔

انھوں نے گلیمرس رول کے علاوہ ’آرادھنا‘، ’سفر‘، ’امر پریم‘ اور ’چپکے چپکے‘ جیسی فلموں میں متنوع اور رنگا رنگ کردار ادا کیا ہے اور ناظرین اور ناقدین دونوں سے داد حاصل کی ہے۔

اسی بارے میں