’گبر سنگھ گوا میں پائے جاتے ہیں‘

Image caption نریش گذشتہ پندرہ برسوں سے گبّر سنگھ کے کردار کے انداز میں زندگی بسر کر رہے ہیں

گوا میں 44 واں بین الاقوامی فلم فیسٹیول جاری ہے جس کے سامنے رام گڑھ کی وادی کا ایک سیٹ لگایا گیا ہے جہاں ہر روز گبر سنگھ اپنے گینگ کے ساتھ آتا ہے۔

بی بی سی کے ویبھو دیوان بتاتے ہیں کہ اگر گبر سنگھ کو رام گڑھ کے قرب و جوار کے بجائے بحیرۂ عرب کے ساحلی اور سیاحتی شہر گوا میں تلاش کیا جاتا تو وہ وہاں مل جاتے۔

ان کے بقول گبر سنگھ سنگلاخ چٹانوں کی بجائے ان دنوں خوبصورت اور وسیع سمندر کے کنارے رہتے ہیں۔

گبر سنگھ کے لازوال کردار کو رام گڑھ کی پہاڑیوں کے درمیان ان کی گونجتی ہنسی، دہشت زدہ ماحول اور مہیب سناٹا یہ سب مل کر مزید خوفناک بناتے تھے۔

ویبھو کہتے ہیں کہ رام گڑھ کے اس ڈاکو کا انھوں نے جیتا جاگتا ثبوت گوا میں دیکھا۔

شام کو سات بجتے ہی گبر کی ہنسی دور دور تک گونجنے لگتی ہے۔ ایک ٹیپ پر گبر کے مشہور ڈائیلاگ بجائے جاتے ہیں اور پھرگبر پستول اور بیلٹ لیے پہاڑی سے اترتا ہے۔

گوا کے رہائشی نریش گذشتہ 15 برسوں سے گبر کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں۔

نریش ہوٹلوں میں، آرکسٹرا اور دیگر رنگارنگ پروگراموں میں گبر کا رول ادا کرتے ہیں۔

شو کے بعد لوگ اس گبر سے ہاتھ ملاتے ہیں اور ان کے ساتھ اپنی تصویر لیتے ہیں۔

Image caption نریش ہیرو کو دس دن کے شو کے لیے پچیس ہزار روپے دیئے جائیں گے

نریش بتاتے ہیں ’مجھے میرے دوستوں نے اور بعض ديگر افراد نے بتایا کہ میں گبر سے مماثلت رکھتا ہوں‘۔

’رفتہ رفتہ میں ان کی بات پر یقین کرنے لگا اور پھر میں امجد بھائی جیسا بن گیا۔‘

انھوں نے کہا ’میں نے 70 سے زائد بار فلم ’شعلے‘ دیکھی ہے اور میرےگھر پر اس کے کیسٹ آج بھی موجود ہیں۔میں جب بھی فارغ ہوتا ہوں تو ان کے ڈائیلاگ سن کر ریہرسل کرتا ہوں۔‘

نریش عرف گبر ہندی کی کئی فلموں میں چھوٹے موٹے کردار نبھا چکے ہیں۔

انھیں ان 10 دنوں کی تفریح کے لیے 25 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

شو کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس شو سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور انھیں وہاں آنے والے تمام لوگ جاننے لگے ہیں۔

اسی بارے میں