ایک کروڑ جیتنے والی پہلی مسلم خاتون

Image caption کے بی سی میں ایک کروڑ جیتے والی پہلی مسلم خاتون شو کے میزبان امیتابھ بچن کے ساتھ

ملالہ یوسف زئی کو اپنا آئیڈیل ماننے والی 22 سالہ فیروز فاطمہ نے معروف ٹی وی شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم جیت لی ہے۔

ان کا یہ پروگرام آج سونی ٹی پر دیکھا جا سکتا ہے۔

بی بی سی ہندی کی مدھو پال کہتی ہیں: ’ان کے چہرے کی خوشی دیدنی ہے۔ وہ بات بات پر ہنس دیتی ہیں لیکن جب میں نے ان سے انٹرویو شروع کیا تو پوری طرح سنجیدہ نظر آئیں۔‘

مدھو پال کے مطابق ان کی سنجیدگی اور شائستگی ایسی چیزیں ہیں جو انھیں گیم شو میں ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم جیتنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔

فیروز فاطمہ اتر پردیش کے سہارنپور ضلعے کے سنسارپور نامی گاؤں کی رہنے والی ہیں اور انھوں نے اسی سال بی ایس سی مکمل کی ہے۔

اپنی جیت کا کریڈٹ وہ اپنی تعلیم کو دیتی ہیں۔ فیروز فاطمہ نے کہا: ’میرے والد دو سال پہلے انتقال کر گئے تھے اس کے بعد ہمارے خاندان پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اگر میں تعلیم یافتہ نہ ہوتی تو یہ کامیابی حاصل نہ کر پاتی۔ آج میں جو کچھ ہوں اپنی تعلیم کی وجہ سے ہوں۔‘

Image caption فیروز فاطمہ لباس سے زیادہ افکار و خیالات پر زور دیتی ہیں

فیروز کے گھر میں ان کی ایک بہن اور ماں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بچپن سے ہی ان کے رشتہ دار انھیں تعلیم دینے کے مخالف تھے۔

وہ کہتی ہیں: ’میرے والدین سے سب کہتے کہ لڑکیوں کو کیوں پڑھا رہے ہو؟ انھیں آخر روٹی ہی تو بنانی ہے لیکن میرے ماں باپ نے ان کی ایک نہ سنی۔ اب دیکھیے میری جیت سے ان لوگوں کو سخت جواب مل گیا ہوگا۔‘

فیروز کا دعویٰ ہے کہ جب سے لوگوں کو پتہ چلا ہے کہ انھوں نے ’كے بي سي‘ میں ایک کروڑ روپے جیت لیے ہیں، تب سے ان کی سوچ بھی بدل رہی ہے اور اب وہ بھی اپنی بچیوں کو تعلیم دینے کے حامی بن گئے ہیں۔

فیروز کے ساتھ ان کی والدہ بھی شو میں آئی تھیں۔ وہ اپنی ماں کو ایک بہادر خاتون بتاتی ہیں کیونکہ ان کے مطابق والد کے انتقال کے بعد ماں کی وجہ سے ہی وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

Image caption فیروز فاطمہ اس جیت کا سہرا اپنی تعلیم کے سر باندھتی ہیں

روایتی مسلم لباس میں ملبوس فاطمہ کا کہنا ہے کہ لباس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ انسانی سوچ بہتر ہونی چاہیے۔ وہ ملالہ يوسف زئی کو اپنا آئیڈیل مانتی ہیں۔

شو کے میزبان امیتابھ بچن کے بارے میں فیروز نے کہا: ’جب میں ہاٹ سیٹ پر پہنچی تو بے حد نروس تھی، لیکن امیتابھ جی نے مجھے حوصلہ دیا اور اتنی اچھی باتیں کیں کہ میری ساری گھبراہٹ دور ہو گئی، میں ان سے گلے بھی ملی، مجھے بہت اچھا لگا۔‘

شادی کے بارے میں انھوں نے کہا: ’ابھی اس بارے میں کچھ نہیں سوچا ہے، لیکن جب بھی شادی کروں گی ماں کی رضامندی سے کروں گی۔‘

وہ اس ایک کروڑ روپے کا کس طرح استعمال کریں گی؟ اس سوال پر فاطمہ نے بتایا: ’والد کے علاج کے لیے جو قرض لیا تھا اسے چكاؤں گي۔ پھر اپنی اور بہن کی تعلیم کے لیے پیسے کا استعمال کروں گی۔ پھر کیا کروں گی کبھی سوچا نہیں تھا کہ اتنا پیسہ ایک ساتھ مل جائے گا۔‘

فیروز فاطمہ اب پبلک سروس کمیشن امتحانات کی تیاری کرنا چاہتی ہیں۔

اسی بارے میں