بامبے ٹاکیز ایک بار پھر متحرک

Image caption بامبے ٹاکیز نے 20 سال میں سو سے زیادہ فلمیں دیں جن میں زیادہ تر کافی مقبول رہیں

بامبے ٹاکیز سٹوڈیوز جس نے دلیپ کمار، مدھوبالا، راج کپور، کشور کمار، ستیہ جیت رے، بمل رائے اور دیوآنند جیسے معروف فنکاروں کو موقع فراہم کیا، وہ ایک بار پھر شروع ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ کامیابی کی بلندیوں کو چھونے والا یہ سٹوڈیو خاصے عرصے سے بالکل بند پڑا تھا لیکن اس کے بانیوں میں سے ایک راج نارائن دوبے کے پوتے نے اسے پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وہ اسے اپنی فلم ’چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے‘ سے شروع کرنے والے ہیں جو آئندہ سال ریلیز ہوگی۔ سنہ 2014 میں اس سٹوڈیو کے 80 سال بھی پورے ہو رہے ہیں۔

بامبے ٹاکیز کے بانیوں میں تین افراد ہیمانشو رائے، دیویکا رانی اور راج نارائن کا نام آتا ہے۔

راج ناراين کے پوتے ابھے فلم سازی کے علاوہ اس فلم میں اداکاری بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے صحافی مدھو پال سے بات کرتے ہوئے کہا: ’بامبے ٹاکیز ہندوستان اور ہندوستان سے باہر بہت معروف رہا اور اس کا دوبارہ شروع ہونا ان تمام لوگوں کے لیے ایک تحفہ ہے جو اس سے منسلک رہے ہیں۔

’فلموں میں کام کرنے والے لوگوں کے بارے میں سماج کا اچھا تاثر نہیں تھا۔ فلموں میں کام کرنے والی لڑکیوں کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ بعض مجبوری میں فلموں میں کام کرتی تھیں۔ اس زمانے میں لوگ اپنے خاندان والوں سے چھپ کر سینیما دیکھنے جایا کرتے تھے۔ بچوں کو تو سینیما دیکھنے کی اجازت ہی نہیں تھی۔‘

ابھے بتاتے ہیں کہ انھی وجوہ پر ان کے دادا جی راج نارائن اور ہمانشو رائے نے یہ طے کیا کہ وہ بھارتی فلموں کو باعزت مقام دلائیں گے۔ انھوں نے کوشش کی اور لوگوں کی سوچ اس وقت بدلی جب دیویکا رانی ہندی سینیما کے ساتھ وابستہ ہوئیں۔ انھوں نے فلموں میں کام کیا اور آگے چل کر ان کی شادی ہمانشو رائے سے ہوئی۔ دیوکا رانی معروف ادیب روندر ناتھ ٹیگور کی بھانجي تھیں۔‘

Image caption اس یادگار تصویر میں دلیپ کمار کے علاوہ نرگس، راجندر کمار بھی پہچانے جا سکتے ہیں

ابھے کے مطابق ’اس کے بعد ہندوستانی سینیما کو اہمیت دی جانے لگي اور اچھی فلمیں بننے لگیں۔ ’اچھوت کنیا‘ اور ’بندھن‘ جیسی فلمیں بنیں۔ اشوک کمار کی ’قسمت‘ پہلی میگا ہٹ فلم تھی جو 350 دنوں تک سینیما گھروں میں لگی رہی۔ بامبے ٹاکیز نے 280 فنکاروں کو موقع دیا۔

’بامبے ٹاکیز سے پہلے کوئی بھی فلم ہٹ نہیں ہوا کرتی تھی البتہ ان کے بارے میں باتیں ضرور ہوتی تھیں۔ ’عالم آرا‘ پہلی بولتی فلم تھی، ’راجہ ہریش چندر‘ پہلی فلم تھی۔ اس وقت ذرائع کم تھے۔ ہمارا سینیما تکنیك کے لحاظ سے زیادہ اچھا نہیں تھا۔ کئی طرح کی كمياں تھیں۔ بامبے ٹاکیز نے ان خامیوں کو دور کیا۔‘

انھوں نے کہا: ’بامبے ٹاکیز نے پہلی بار ایڈیٹنگ، ڈبنگ، لباس، مکسنگ، لوکیشن، اور فنکاروں کے لُک، ان تمام چیزوں کا مکمل ذمہ اٹھایا۔ 1934 سے لے کر 1954 تک 102 فلمیں بنائی گئیں، اس دوران دوسری عالمی جنگ بھی ہوئی اور چار سال تک کوئی فلم نہیں بن سکی۔ زیادہ تر فلمیں کامیاب ہوئیں۔ 1954 میں بامبے ٹاکیز کے پاس کوئی چیلنج نہیں رہا اس لیے وہ بند ہو گیا۔‘

’دلیپ صاحب، مدھوبالا، اشوک کمار، راج کپور جیسے کئی فنکاروں کو موقع دیا گیا۔ ان تمام کو کامیابی کی بلندی پر جاتے دیکھ کر میرے دادا جی بہت خوش تھے اور ان کی فلم بنانے کی کوئی خواہش نہیں رہی۔

ابھے نے ایک عجیب بات کہی کہ جس نے بامبے ٹاکیز میں تھپڑ کھائے ان کی قسمت چمکی۔ راج کپور ہوں یا دلیپ کمار یا پھر دیوآنند سبھی کی بامبے ٹاکیز کے متعلق اپنی اپنی داستانیں ہیں۔

اسی بارے میں