’مڈل کلاس کے لیے ڈرامے لکھتا ہوں‘

Image caption یہ ڈرامہ اب آرٹس کونسل کے تھیٹر میں 10 دسمبر سے 10 جنوری تک ہر روز پیش کیا جا ئے گا

پاکستان کے معروف ڈرامہ نگار انور مقصود نے کہا ہے کہ وہ مڈل کلاس لوگوں کے لیے ڈرامے لکھتے ہیں تاکہ ان کے تھکے ہوئے ذہنوں کو شادابی مل سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈرامہ’ ہاف پلیٹ ‘میں نے خالدہ ریاست کے لیے لکھا تھا اس کے نمایاں فنکاروں میں معین اختر، لطیف کپاڈیہ، خالدہ ریاست، جمشید انصاری، بدر خلیل اور ارشد محمود شامل تھے۔

یہ ڈرامہ اب آرٹس کونسل کے تھیٹر میں 10 دسمبر سے 10 جنوری تک ہر روز پیش کیا جا ئے گا جس کے ہدایتکار داور محمود ہیں جبکہ فنکاروں میں یاسر مرزا، مریم سلیم، زاہد بٹ اور دیگر شامل ہیں۔

انور مقصود سنیچر کو آرٹس کونسل کراچی کے آڈیٹوریم میں ڈرامہ ہاف پلیٹ کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس ڈرامے کی ٹیم اچھی ہے اور ہر فنکار نے بڑی محنت سے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

انور مقصور کے مطابق پرنٹ، الیکٹرانک میڈیا اور آرٹس کونسل کراچی نے ڈرامہ پونے چودہ اگست اور سوا چودہ اگست کی کامیابی میں بڑا اہم کردا ادا کیا ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ ٹی وی اداکارہ خالدہ ریاست نے مجھ سے کہا تھا کہ میں مر رہی ہوں اور آپ کا ڈرامہ مجھے زندہ کرسکتا ہے اس لیے میں نے یہ ڈرامہ ہاف پلیٹ لکھا تھا جو خالدہ ریاست، معین اختر، محسن علی، لطیف کپاڈیہ کے لیے ایک ٹریبیوٹ ہے۔

صدر آرٹس کونسل کراچی احمد شاہ نے کہا کہ تھیٹر اب کمرشل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اب اس کے معیار میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔

’ہم نے تھیٹر کی ترقی اور کامرانی کے لیے دن رات کام کیا ہے۔یہ بہت بڑا کریڈیٹ ہے کہ میڈیا ادبی، تعلیمی اور ثقافتی تقریبات کو بھر پور کوریج دے رہا ہے۔‘

اس موقع پر ڈرامے کے ڈائریکٹر داور محمود نے کہا کہ انور مقصود کے ساتھ میرا یہ چوتھا ڈرامہ ہے اور تحریر عمدہ ہونے کی وجہ سے ذمہ داری بھی اور بڑھ جاتی ہے کہ اس کو کرداروں میں پوری طرح ڈھالا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام اداکاروں نے بہترین تیاری کی ہے۔

ڈرامے کےاداکاروں یاسر مرزا، مریم سلیم اور خالد بٹ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں