سنجے دت کو پیرول دیے جانے کی تحقیقات

Image caption سنجے دت غیرقانونی ہتھیار رکھنے کے جرم میں قید کاٹ رہے ہیں

بالی وڈ کے اداکار سنجے دت کو ایک ماہ کے لیے پھر سے پیرول پر رہا کیے جانے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کے بعد مہاراشٹر کی ریاستی حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

سنجے دت نے اپنی اہلیہ مانیتا دت کی بیماری اور ان کے علاج کے سلسلے میں جیل سے باہر آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن مانیتا کی ایک دن پہلے کی ہی کچھ تصاویر سامنے آئی ہیں، جن میں انھیں ایک فلم کی سکریننگ پارٹی میں شریک دیکھا جا سکتا ہے۔

ممبئی سے بی بی سی کی نامہ نگار مدھو پال کا کہنا ہے کہ سنجے دت کی بیوی مانیتا دت جمعہ کو فلم ’آر راجکمار‘ کی سکریننگ پارٹی میں گئی تھیں۔ وہ اس پارٹی میں تقریباً ایک گھنٹے تک شریک رہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ مانیتا کا آپریشن ہونے والا ہے اور اسی سلسلے میں سنجے دت نے جیل کے حکام کو ڈاکٹروں کی جانب سے دیے گئے کاغذات کی بنیاد پر پیرول کی درخواست کی تھی۔

تاہم بی بی سی سے بات چیت میں ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر نے آپریشن کی بات سے انکار کیا ہے۔

ادھر اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل نےسنجے دت کو پیرول دیے جانے کی وجہ کی تحقیقات کروانے کا حکم دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق پاٹل نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہاء ’ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہم نے وہ کاغذات منگوائے ہیں جن کی بنیاد پر پیرول دینے کا فیصلہ کیا گیا۔‘

Image caption پیرول کے لیے مانیتا کی طبی دستاویزات جیل حکام کو دی گئی ہیں

سنیچر کو پونے کی يروڈا جیل کے باہر رپبلکن پارٹی آف انڈیا کے کارکنوں نے مظاہرہ کر کے پیرول منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

53 سالہ سنجے دت کو 1993 کے ممبئی دھماکوں کے معاملے میں غیر قانونی ہتھیار رکھنے کا مجرم پایا گیا تھا، جس کے بعد انہیں پانچ سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسی سال مئی میں انہیں ممبئی کی آرتھر روڈ جیل سے پونے کی يروڈا جیل منتقل کیا گیا تھا۔

تھوڑے دن پہلے سنجے خود اپنی صحت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ایک ماہ کے لیے پیرول پر جیل سے باہر آئے تھے اور اب انہیں ان کی اہلیہ کی خراب طبیعت کی وجہ سے پھر پیرول دیا جا رہا ہے۔

پونے کے ڈویژنل کمشنر پربھاکر دیش مکھ نے جیل حکام کی سفارش پر جمعے کو انھیں پیرول دینے کا حکم دیا تھا۔

اس کی مخالفت میں رپبلکن پارٹی کے کارکنوں نے يروڈا جیل کے باہر سیاہ جھنڈوں کے ساتھ مظاہرہ کیا۔ انہوں نے جیل حکام پر سنجے دت سے نرمی برتنے کا بھی الزام لگایا۔

مظاہرین کے ترجمان نے کہا:’ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جانا چاہیے، جیسا دوسرے قیدیوں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

یہ ابھی طے نہیں کہ سنجے دت کو کس دن رہائی ملے گی۔ پونے کے ڈویژنل کمشنر پربھاکر دیش مکھ نے کہا:’انھیں جیل حکام کی سفارش پر ایک ماہ کا پیرول دیا گیا ہے۔ رہائی کی تاریخ بعد میں طے ہوگی۔‘

اسی بارے میں