چار ہم شکل بہنیں پہلی بار تمل فلم میں

ایک تمل فلم ڈائریکٹر جی رمیش ایسی فلم بنانے والے ہیں جس میں چار حقیقی بہنیں کام کر رہی ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ یہ چاروں ایک ساتھ پیدا ہوئی تھیں۔

’ایننا ستم اد نیرم‘ نامی اس فلم میں چنئی کی رہنے والی آرتی، آکرتی، آپتی اور اکشتی کام کر رہی ہیں۔

نام کی ہی طرح ان چاروں بہنوں کی شکل بھی ملتی ہے۔ ان بہنوں سے ملنے پر ہی رمیشکو یہ اپنی فلم کے لیے موزوں فنکار لگیں۔

جی رمیش کہتے ہیں، ’یہ کہانی کے لیے کسی بھی طرح ایسے ’چوجڑواں‘ یا كواڈروپلیٹس (یعنی ایک ساتھ پیدا ہونے والے چار بچے) چاہییے تھے۔ ان کے بارے میں پتہ چلنے کے بعد بھی اتنی امید نہیں تھی کیونکہ ان کو اور ان کے گھر والوں کو سینیما کی سمجھ نہیں تھی یہاں تک کہ وہ زیادہ ٹی وی بھی نہیں دیکھتے تھے۔‘

بی بی سی ہندی کی جیشری کے مطابق ان چاروں بہنوں کے ماں باپ شرُتی اور وویک سے جی رمیش نے جب اس بارے میں بات کی تو پہلے تو وہ چونک گئے لیکن بعد میں انھوں نے ان بچیوں کو فلم میں کام کرنے کی اجازت دے دی۔

آرتی، آکرتی، آپتی اور اکشتی کو مائیک یا کیمرے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور جی رمیش کے لیے ان بچیوں سے اداکاری کروانا تھوڑا مشکل تھا۔

جی رمیش نے پہلے ان چاروں بہنوں کو فلموں اور اداکاری کے بارے میں تھوڑی تربیت دی۔ شوٹنگ سے پہلے یہ چاروں بہنیں سیٹ پر خوب شرارت کرتی تھیں لیکن ’شاٹ ریڈي‘ کی آواز سنتے ہی تجربہ کار اداکاروں کی طرح شاٹ کے لیے تیار ہو جاتی تھیں۔

Image caption اداکارہ مان کی بھی یہ پہلی فلم ہے

کچھ دنوں کے بعد تو ڈائریکٹر اور کیمرا مین کو یہ چاروں بہنیں شاٹس کے بارے میں اپنی رائے بھی بتانے لگیں۔ شکل ایک جیسی ہونے کی وجہ سے پروڈیوسر کو انھیں شناخت میں بھی دقت ہوتی تھی۔

اسی فلم کے ذریعہ تامل اداکارہ مان بھی پھر سے فلموں میں آ رہی ہیں۔ مان ان چاروں بہنوں کے بارے میں کہتی ہیں: ’سب سے اچھی بات تو یہ ہے کہ ان کا سلوک سب کے ساتھ بہت اچھا ہے اور وہ اتنے اچھے اچھے سوال پوچھتی ہیں کہ ہمیں جواب دینے میں مشکل ہوتی ہیں۔‘

چار گنا پڑھائی بھی

ان چاروں بہنوں کو فلم کی شوٹنگ کے لیے اسکول سے چھٹی لینی پڑی اور اس وجہ سے ان کو ایک نہیں چار گنا زیادہ پڑھائی کرنی پڑی۔

ان چاروں بہنوں کی ماں شرتی کہتی ہیں: ’سب سے پہلے تو ان کی پڑھائی، اس کے بعد ہی فلمیں اور باقی سب کچھ، کسی بھی حالت میں پڑھائی متاثر نہیں ہونے دیں گے۔‘

حالانکہ یہ فلم جنوری میں ریلیز ہوگی لیکن چار سگی بہنوں کے اس فلم میں کام کرنے کی وجہ سے اسے ’لیمكا بک آف ریکارڈز‘ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر جی رمیش اور پوری ٹیم کا کہنا ہے کہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لیے اب دباؤ اور بڑھ گیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ لوگ اس کامیڈی تھرلر کو پسند کریں گے۔

اسی بارے میں