آسکر انعام یافتہ اداکارہ جؤن فونٹین نہیں رہیں

Image caption فونٹین کو عام طور پر نفسیاتی اور جذباتی کردار نبھانے کے لیے جانا جاتا ہے

آسکر انعام یافتہ ہالی وڈ اداکارہ جؤن فونٹین کا کیلیفورنیا میں 96 سال کی عمر میں انتقال ہو گيا ہے۔

انھوں نے معروف فلم ‎ساز آلفریڈ ہچکاک کی کئی نفسیاتی تھریلرز میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

فونٹین کا اصل نام جؤن دا بیوو دا ہیولینڈ تھا۔ ان کا انتقال اتوار کی شب امریکہ کے شہر کارمیل میں اپنی رہائش پر ہوا۔

ان کی گہری دوست نوئل بوٹیل نے بتایا کہ فونٹین بڑھاپے کی وجہ سے روز بروز کمزور ہوتی جا رہی تھیں اور ان کی پرسکون موت نیند میں ہی واقع ہو گئی۔

دا گارڈین اخبار کے مطابق انھوں نے ایک بار کہا تھا: ’آپ کو معلوم ہے میری زندگی بہت رنگارنگ رہی۔ صرف اداکاری کی وجہ سے ہی نہیں۔ میں نے غبارے کی ایک بین الاقوامی دوڑ کے مقابلے میں حصہ لیا، میں نے اپنا جہاز خود اڑایا۔ شکاری کتوں کے ساتھ رہی۔ میں نے بہت ساری دلچسپ چیزیں کیں۔‘

فونٹین جاپان میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والدین برطانوی تھے۔ وہ اپنی بڑی بہن اولیویا کے ساتھ اداکاری کے شعبے میں اپنی قسمت آزمانے امریکہ چلی آئی تھیں۔

انھیں فلم ’سسپیشن‘ کے لیے سنہ 1942 میں آسکر انعام سے نوازا گیا۔ اس فلم میں انھوں نے ایک کمزور بیوی کا کردار نبھایا ہے۔

ہچکاک نے انھیں اپنی پہلی ہالی وڈ فلم ’ریبیکا‘ میں لیڈ کردار نبھانے کے لیے کاسٹ کیا تھا۔

انھوں نے 30 سے زیادہ فلموں میں اداکاری کی۔ فونٹین کی معروف فلموں میں ’دا کانسٹینٹ نیمف‘، ’جین آئر‘ اور ’لیٹر فرام این انّون وومن‘ شامل ہیں۔

انھیں عام طور پر نفسیاتی اور جذباتی کردار نبھانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

فونٹین نے چار شادیاں کیں اور ان کی ہر بار طلاق ہو گئی۔ اپنی بہن سے ان کی مسلسل اور تاحیات لڑائی ہالی وڈ کے لیجنڈ میں شمار کی جاتی ہے۔

ان کے پاس امریکہ کے علاوہ برطانوی شہریت بھی تھی۔

اسی بارے میں