’آسکر پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں‘

Image caption نصیرالدین شاہ ڈیڑھ عشقیہ میں مادھوری کے مدمقابل کام کر رہے ہیں

بالی وڈ کے منجھے ہوئے اداکار نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ ’آسکر ایوارڈ بھی کسی عام پان مسالہ فلم ایوارڈز کی طرح ہی پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں ان کے پیچھے بھاگنا بیکار ہے۔‘

اداکار نصیر الدین شاہ عوامی طور پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بہت کم ہی نظر آتے ہیں یہاں تک کہ اپنی آئندہ فلم ’ڈیڑھ عشقیہ‘ کی تشہیر کے لیے بھی وہ بہت جھجکتے ہوئے سامنے آ رہے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کی عمر میں رومانس کے مواقع

اور اب جب وہ بولے ہیں تو میڈیا سے نہ صرف اپنی فلم ’ڈیڑھ عشقیہ‘ بلکہ دیگر بالی وڈ اور بھارتی فلموں پر بھی بات کی۔ انھوں نے اس بات پر حیرانی کا اظہار کیا کہ بہت سے بھارتی فلم ساز آسکر ایوارڈز کے پیچھے بھاگتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’آسکر کے لیے یہ چاہت مجھے مضحکہ خیز لگتی ہے، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں کبھی آسکر نہیں ملے گا اس لیے اس کی فکر چھوڑ کر ہمیں ویسی ہی فلمیں بنانی چاہییں جیسی ہم بناتے چلے آ رہے ہیں۔‘

نصیر الدین شاہ نے بتایا کہ وہ زیادہ ہندی فلمیں نہیں دیکھتے لیکن گذشتہ سالوں میں انھیں ’دیو ڈی،‘ ’ڈیلي بیلي،‘ ’گینگز آف واسع پور‘ اور پرنس ہيراني کی فلمیں پسند آئیں۔

وہ کہتے ہیں کہ عرفان، نوازالدين صدیقی اور منوج واجپائی جیسے اداکار انتہائی اچھے لگے ہیں۔

نصیر الدین شاہ نے بتایا کہ ’ڈیڑھ عشقیہ‘ میں مادھوری دکشت ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا۔

وہ کہتے ہیں: ’مادھوری دکشت کمال کی اداکارہ ہیں۔ اتنی کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی ان کی سادگی دل موہ لیتی ہے۔ میں ان کا پرستار ہوں۔‘

فلم میں ان کے اور مادھوری دکشت کے درمیان انتہائی قربت والے رومانوی مناظر کی افواہ گردش کر رہی ہے۔

اس بات سے پردہ اٹھاتے ہوئے نصیر الدین شاہ بولے: ’میرے اور مادھوری کے درمیان کچھ رومانی منظر ہیں لیکن انتہائی قربت کے مناظر بالکل نہیں ہیں۔ تو جو لوگ اس امید میں ہیں انھیں بتا دوں کہ ایک بھی منظر اس قسم کا نہیں ہے۔‘

انھوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ ان کے اور ارشد وارثی کے تعلقات ایک بار پھر ناظرین کو پسند آئیں گے۔

’ڈیڑھ عشقیہ‘ سال 2010 میں ریلیز ہونے والی فلم عشقیہ کا سيكوئل ہے۔ نئی فلم دس جنوری 2014 کو ریلیز ہوگی۔

اسی بارے میں