ابنِ سعود کی زندگی پر فلم سے سعودی عرب ناراض

Image caption اس فلم کو شامی ڈائریکٹر نجدہ انزور نے ڈائریکٹ کیا ہے اور اس کا پہلا شو گذشتہ ستمبر کو لندن میں دکھایا گیا

سعودی عرب نے شام میں گذشتہ دنوں جدید سعودی عرب کے بانی کے بارے میں ایک فلم کی تشہیر رکوانے کی کوشش کی تھی۔

بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق ’ریت کے بادشاہ‘ نامی اس فلم میں سعودی عرب کے سابق بادشاہ عبدالعزیز السعود کی زندگی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

’دی اریبیئن بزنس‘ ویب سائٹ کے مطابق ’ریت کے بادشاہ‘ نامی یہ فلم گذشتہ جمعے شامی دارالحکومت دمشق میں دکھائی گئی جس پر سعودی عرب کے شہزادے طلال بن عبدالعزیز نے تنقید کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ اس فلم میں ایک تاریخی شخصیت کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے۔

اس فلم میں سعودی عرب کے سابق بادشاہ عبدالعزیز السعود کے بیسویں صدی کے دوران عروج کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ انھیں’ابنِ سعود‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اس فلم کی ہدایات شامی ڈائریکٹر نجدہ انزور نے دی ہیں اور اس کا پہلا شو گذشتہ ستمبر کو لندن میں دکھایا گیا۔ خیال رہے کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی فلم ہے جس میں ابنِ سعود کا کردار دکھایا گیا ہے۔

فلم میں ’ابنِ سعود‘ کا کردار اطالوی اداکار فابیو تیستی نے نبھایا ہے۔

ایرانی پریس ٹی وی نے رواں برس کے شروع میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کے مطابق یہ ایک متنازع فلم ہے اور اس میں ابنِ سعود کو ایک لاپروا، خوں خوار اور عیاش شخص کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو برطانیہ کی کٹھ پتلی تھے۔

فلم کے ٹریلر میں ابنِ سعود کو ایک ایسے نوجوان مذہبی جنونی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو برطانیہ کے انٹیلی جنس افسر جان فلبی کو اسلام اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور جو خود محض نام کا مسلمان ہے اور اسلامی شعار پر عمل نہیں کرتا۔

فلم کے ٹریلر کے ایک دوسرے منظر میں ابِن سعود کو اپنے بیڈ روم میں ایک نوجوان خاتون کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ان کی فلم تاریخی لحاظ سے سبق آموز ہے جس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سو برس پہلے ’عرب دنیا‘ کیسی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ فلم مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتِ حال پر تبصرہ بھی ہے۔

سعودی عرب کے شہزادے طلال بن عبدالعزیز نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس فلم پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلم بالآخر ناکام آرٹ فلموں کی ردی کی ٹوکری میں جا پہنچے گی۔

سعودی عرب کے شہزادے طلال بن عبدالعزیز ابنِ سعود کے 18 بیٹوں میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے شام کے صدر بشارالاسد اور اپنے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے اس فلم کی شام میں نمائش رکوانے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ان کی یہ کوشش ناکام ہو گئی اور دمشق میں اس فلم کی نمائش جاری ہے۔

اسی بارے میں