لاکھوں ڈالر کی تصویر صرف 100 یورو میں

Image caption پکاسو نے ’مین ود دا اوپرا ہیٹ‘ نامی تصویر 1914 میں بنائی تھی

فنِ مصوری کے دلدادہ ایک پچیس سالہ امریکی نے مشہور مصور پابلو پکاسو کی ایک لاکھوں ڈالر مالیت کی تصویر آن لائن خیراتی قرعہ اندازی میں صرف 100 یورو میں حاصل کی ہے۔

جیفری گونانو کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کمرے کی دیوار پر آویزاں کرنے کے لیے ایک تصویر کی تلاش میں تھے جب انھوں نے پکاسو کے فن پارے ’مین ود دا اوپرا ہیٹ‘ کے بارے میں سنا۔

یہ فن پارہ مشہور نیلام گھر سودیبے نے بدھ کو پیرس میں قرعہ اندازی کے لیے پیش کیا تھا۔ گونانو کے مطابق ’میں کسی فن پارے کی تلاش میں تھا سو میں نے سوچا کیوں نہ اس میں حصہ لوں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس فن پارے کی اصل قیمت جاننے کے باوجود وہ اسے فی الحال فروخت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اب بھی اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آ رہا: ’میں ابھی تک بےیقینی کی حالت میں ہوں۔ میں نے اس سے پہلے کبھی یوں کچھ نہیں جیتا تھا۔‘

گونانو کا انعامی ٹکٹ ان 50 ہزار ٹکٹوں میں سے ایک تھا جسے لبنان میں واقع قدیم شہر طائر کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کی مدد کے لیے فنڈ جمع کرنے کی خاطر جاری کیا گیا تھا۔

قرعہ اندازی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں امریکہ سے لے کر ایران اور کرغزستان تک فنِ مصوری کے شوقین افراد نے حصہ لیا۔

پکاسو نے ’مین ود دا اوپرا ہیٹ‘ نامی تصویر 1914 میں بنائی تھی اور اسے ’ایسوسی ایشن ٹو سیو طائر‘ نے نیویارک کی ایک آرٹ گیلری سے خریدا تھا۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ سودیبے نے اس کی قیمت کا اندازہ دس لاکھ ڈالر لگایا تھا تاہم تنظیم کو یہ تصویر اس سے کچھ کم قیمت پر ہی ملی تھی۔

اسی بارے میں