میڈم نورجہاں کا آخری انٹرویو

Image caption نور جہاں کا گلو کاری میں کوئی ثانی نہیں تھا

لندن میں آج سے چودہ برس پہلے کا موسمِ گرما ویسا ہی تھا جیسا ہر برس ہوا کرتا ہے۔ ہر رہ گزر پر بھانت بھانت کے سیاحوں کی بھر مار، مے کدوں کے باہر فٹ پاتھ پر لگی کرسیوں کی قطاریں اور اُن پر بیئر کے گلاس ہاتھوں میں تھامے، ہر عمر کے مرد و زن، سڑکوں پر کھلی چھت والی دو منزلہ بسوں کی ریل پیل اور کوونٹ گارڈنز میں لندن کے مخصوص تحفے بیچنے والے کھو کھوں پر بچوں اور بڑوں کی بھیڑ۔

بش ہاؤس میں بی بی سی کا دفتر بھی اپنی روزمرہ مصروفیات میں مگن تھا کہ اردو سروس کے ایک ڈیسک پر فون کی گھنٹی بجی، کال یونان سے آئی تھی جہاں مقیم میڈم نور جہاں کے ایک شیدائی کو اُڑتی اُڑتی خبر ملی تھی کہ میڈم چل بسی ہیں۔ تھوڑی دیر بعد کیلی فورنیا سے بھی ایسی ہی ایک کال آئی۔۔۔ اور پھر تو دنیا بھر سے کالز کا تانتا بندھ گیا۔

بی بی سی اردو سروس نے اِس افواہ کی حقیقت جاننے کا فریضہ مجھے سونپا، میں نے لاہور میں میڈم کے گھر فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بغرضِ علاج لندن گئی ہوئی ہیں۔ فوراً اُن کے لندن والے دوستوں سے رابطہ کیا۔ میڈم واقعی لندن میں تھیں لیکن دوستوں کے یہاں قیام کرنے کی بجائے انھوں نے ایج وئر روڈ کے علاقے میں ایک فلیٹ کرائے پر لے لیا تھا۔ میں نے فون کر کے میڈم کو اُن افواہوں کے بارے میں بتایا مگر وہ تو پہلے ہی بھری بیٹھی تھیں۔ چھوٹتے ہی لاہور کے ایک اخبار نویس کو کھری کھری سننانے لگیں جس نے بقول میڈم کے اپنے شام کے اخبار میں اُن کی موت کی افواہ شائع کی تھی۔ بہر حال طے یہ پایا کہ میڈم کی آواز میں کچھ گفتگو ریکارڈ کر کے بی بی سی اردو سروس سے نشر کر دی جائے تا کہ اُن کے شیدائیوں کی تسلی ہو جائے۔

میں ریکارڈنگ کا سامان لے کر ان کے فلیٹ پر پہنچ گیا۔ اگرچہ چند جملے ریکارڈ کرنے کی بات ہوئی تھی لیکن جب گفتگو شروع ہوئی تو پھر چلتی ہی گئی اور دو گھنٹے سے اوپر کی ریکارڈنگ ہو گئی جس میں کئی ایسی باتیں سامنے آئیں جو پہلے نہیں سنی گئی تھیں۔

سفید ساڑھی سے عشق

سفید ساڑھی سے اپنے عشق کا پس منظر انھوں نے یوں بتایا:

’میں 9 برس کی عمر میں کلکتہ چلی گئی تھی جہاں آغا حشر کی شریکِ حیات مختار بیگم نے مجھے اپنے سایہء شفقت میں لے لیا۔ وہ اس وقت کی مشہور گائیکہ تھیں اور میری آئیڈیل بھی۔ میرے ننھے سے دل میں اس وقت ایک ہی تمنا تھی کہ میں مختار بیگم جیسی بن جاؤں۔ سفید ساڑھی مختار بیگم کی شخصیت کا اٹوٹ انگ تھی اور وہیں سے یہ لباس میری زندگی میں داخل ہوا۔آج اگر آپ میرا وارڈ روب دیکھیں تو آپ کو بلا مبالغہ وہاں سینکڑوں سفید ساڑھیاں نظر آئیں گی۔‘

Image caption نور جہاں کا پسندیدہ لباس ساڑھی تھا

میں نے میڈم سے پوچھا کہ پاک و ہند کے اتنے موسیقاروں کے ساتھ کام کرنے کے بعد آپ کسے بہترین موسیقار قرار دیتی ہیں۔ میڈم نے نوشاد، خورشید انور اور حسن لطیف کے علاوہ بھی کئی نام لیے لیکن ساتھ ہی کہا کہ ’ہر موسیقار کا اپنا ڈھنگ ہوتا ہے اور ان کا باہمی مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

فلم انڈسٹری میں یہ تاثر عام تھا کہ موسیقار فیروز نظامی کی دھنیں اصل میں نور جہاں تیار کرتی تھیں لیکن میرے پوچھنے پر میڈم نے سختی سے اس کی تردید کی اور کہا کہ وہ ایک استاد موسیقار تھے اور فن کا خزانہ تھے۔

انھوں نے ایک قدرے غیر معروف لیکن انتہائی ذہین موسیقار سجاد حسین کا ذکر بھی بڑے احترام سے کیا جو اپنے آپ میں مگن رہنے کے سبب کاروباری طور پر کامیاب نہ ہو سکے لیکن اُن کی بنائی ہوئی دھنیں لا زوال ہیں (مثلاً یہ ہوا یہ رات یہ چاندنی)۔

میں نے کہا کہ سجاد حیسن کے بارے میں سنا ہے کہ بڑے خود سر تھے اور کسی کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ یہ سن کر میڈم گویا بھڑک اُٹھیں اور کڑک کر بولیں ’مجھ سے زیادہ خود سر تو نہیں تھے۔۔۔‘ پھر قدرے تحمل سے انھوں نے سمجھانے کے انداز میں کہا کہ بات غرور یا تکبر کی نہیں بلکہ یہ عزتِ نفس کا مسئلہ ہے۔ اگر ہمیں خود اپنی عزت کا خیال نہ ہو تو دوسرے ہماری کیا عزت کریں گے۔

لندن میں آلو کا سوپ

Image caption نور جہاں کے گائے ہوئے گانے اور غزلیں آج بھی مقبول ہیں

فلم اور موسقی کے بارے میں اگرچہ میڈم نے بہت سی باتیں کیں لیکن جو کچھ انھوں نے ذاتی زندگی، مشاغل اور پسند نا پسند کے بارے میں بتایا وہ زیادہ وقیع اور نادر تھا۔ کوئی ایک گھنٹے کی گفتگو کے بعد وہ اُٹھ کر کچن میں گئیں اور ایک پیالے میں ہلکے رنگ کا گاڑھا سا مشروب لے کر آئیں۔ میں نے چکھا تو بہت مزے کا تھا، جب پوچھا کہ یہ کیا ہے تو کہا کہ خود بوجھیے۔ میں نے ایک دو اندازے لگائے جو غلط نکلے۔ تب انھوں نے بتایا کہ یہ آلو کا سوپ ہے۔

آلو کا سوپ لندن میں عام ملتا ہے اور میں کئی بار پی چکا تھا لیکن یہ سوپ بالکل مختلف تھا، میڈم نے بتایا کہ وہ تین آلو رات کو ہلکی آنچ پہ رکھ دیتی ہیں اور ساری رات اُبلنے دیتی ہیں۔ صبح تک آلو خود بہ خود پانی میں گھُل جاتے ہیں۔۔۔ اور یوں دنیا کا بہترین سوپ تیار ہو جاتا ہے۔ ( میں نے گھر جا کر یہ تجربہ کیا تو سخت ناکامی ہوئی، کیونکہ آلو خود بہ خود گھلنے کا نام نہ لیتے تھے اور چمچے سے دبا کر اُن کا مالیدہ بنانے سے میڈم نے منع کر رکھا تھا۔) میڈم نے اپنے لذیز سوپ کے حق میں سب سے وزنی دلیل یہ دی تھی کہ درجن بھر مصالحے ڈال کر پلاؤ قورمے اور متنجن تو ہر کوئی بنا سکتا ہے لیکن صرف آلو، نمک اور پانی کی مدد سے کوئی ایسا سوپ تیار کر کے تو دکھائے!۔۔۔ اور واقعی اُن کا یہ دعویٰ سچا تھا۔

سوپ پینے کے بعد گفتگو کا رخ فلموں اور گیتوں سے کھانے پینے کی طرف منتقل ہوگیا۔ میڈم نے بتایا کہ وہ سندھی بریانی بہت شاندار بناتی ہیں اور اُس میں بڑے سائز کے آلو استعمال کرتی ہیں۔ جب وہ اپنی پسند کی ڈشیں اور پکانے کے طریقے بتا چکیں تو میں نے بھی ڈینگ ماری کہ میں کوفتے بہت شاندار بناتا ہوں۔ میرا خیال تھا کہ وہ مجھ سے نسخہ دریافت کریں گی لیکن وہ کچھ دیر خاموش رہیں اور پھر چیں بجبیں ہو کر بولیں ’ دنیا میں اگر مجھے کسی ڈش سے نفرت ہے تو وہ ہیں کوفتے!‘

گویا فنِ طباخی پر جو لیکچر میں دِل ہی دِل میں تیار کر رہا تھا میڈم نے اس پر گھڑوں پانی ڈال دیا۔

برطانوی تعلیم سے متاثر

میڈم برطانیہ کی بہت مداح تھیں گفتگو کے دوران اچانک اُن کا رُخ برطانوی تعلیمی اداروں کی طرف مڑ گیا اور بولیں کہ تمھاری تمیز و تہذیب میں برطانوی تربیت کا اثر ہے۔

جب میں نے بتایا کہ میں تو بڑا ہونے کے بعد برطانیہ آیا ہوں۔ میری تعلیم تو پاکستان میں ہوئی تھی۔ تو وہ حیرت سے بولیں ’لیکن سوپ پینے کے بعد تم اپنا خالی پیالہ سِنک میں رکھ کر آئے ہو، پاکستانی مرد تو ایسا کبھی نہیں کرتے۔‘

یہ سن کر میں بھی فخر سے پھول گیا اور بولا ’ میں تو اپنا برتن خود ہی دھو بھی دیا کرتا ہوں۔‘

میڈم فوراً بولیں ’تو آؤ کچن میں ڈھیر لگا ہے۔ یہ کام تو کرتے ہی جاؤ‘ اور پھر انھوں نے ایک زور دار قہقہ لگایا جس میں اُن کے فلمی قہقہوں والا طنطنہ تو نہیں تھا لیکن خلوص کی گھلاوٹ ضرور تھی۔

میڈم کے ساتھ جاری رہنے والی یہ گوناگوں گفتگو کسی نشریاتی ادارے کے لیے یہ ان کا آخری انٹرویو تھا، جسے ان کی وفات کے اگلے روز یعنی 24 دسمبر 2000 کو تدوین شدہ شکل میں اردو سروس سے نشر کیاگیا۔

بعد ازاں، چند برس تک یہ انٹرویو اُن کی برسی پر بھی نشر ہوتا رہا اور آج کل بھی بی بی سی اردو سروس کے آواز خزانے میں یہ انٹرویو مستقبل میں سننے والوں کے لیے محفوظ ہے۔

اسی بارے میں