دلیپ کمار کی ان دیکھی فلم ریلیز کرنے کی تیاریاں

Image caption 11 دسمبر کو دلیپ کمار کی 91 ویں سالگرہ کے موقعے سے بالی وڈ کی معروف ترین ہستیاں ان کے گھر پہنچیں

بھارت کے معروف اداکار دلیپ کمار جنھوں نے حال ہی میں اپنی 91 ویں سالگرہ منائی ہے برسوں پہلے فلموں میں کام کرنا بند کر چکے ہیں لیکن اب ان کے مداحوں کو ان کی ایک ایسی فلم بڑے پردے پر دیکھنے کو مل سکتی ہے جو آج تک کسی کے سامنے نہیں آئی۔

سنہ 1980 کی دہائی میں اس فلم کے پرنٹ غائب ہو گئے تھے مگر اب اس کے ہدایتکار اسے دوبارہ ریلیز کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

’آگ کا دریا‘ نام کی اس فلم میں معروف اداکارہ ریکھا، پدمنی کولہاپوری، امرتا سنگھ اور امریش پوری جیسے اداکار دلیپ کے ساتھ ہیں۔

’آگ کا دریا‘ کی ہدایات جنوبی بھارت کے مشہور فلم ہدایت کار وی ایس راجندر بابو نے دی ہے جو اس سے قبل ’شرارا‘، میری آواز سنو‘ اور ’ایک سے بھلے دو‘ نام کی مقبول ہندی فلمیں بنا چکے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہدایت کار راجندر بابو نے بتایا ’سنہ 1991 اور 1992 میں ہم نے اس فلم کی شوٹنگ کی اور یہ اس دور کی سب سے مہنگی فلموں میں سے ایک تھی جس پر اس زمانے میں تقریباً پانچ کروڑ روپے لاگت آئی تھی۔‘

Image caption فلم ’کرما‘ کی شوٹنگ کے دوران انیل کپور، دلیپ کمار اور جیکی شروف

فلم کی ریلیز نہ ہو پانے کے بارے میں راجندر بابو نے کہا ’ریلیز کے وقت فلم مالی مشکلات سے دو چار ہو گئی تھی اور فلم ساز آر وینكٹ رمن کو بعض قانونی پیچیدگیاں درپیش تھیں۔ انھیں عدالت کے چکر بھی لگانے پڑے اور اسی دوران ان کا انتقال ہو گیا اور فلم کی ریلیز ہی رک گئی۔‘

راجندر بابو نے بتایا کہ فلم کےحوالے سے اب کسی قسم کے قانونی مسائل نہیں ہیں اور اسے اب ریلیز کیا جا سکتا ہے۔

لیکن فلم کی ریلیز میں سب سے بڑا مسئلہ تھا اس کے پرنٹس کا۔

راجندر بابو نے کہا ’ہم سب اس فلم کے بارے میں تقریباً بھول چکے تھے۔ لیکن گذشتہ دنوں میں ہیما مالنی کی بیٹی اہانا کی شادی میں گیا، جہاں سائرہ جی سے میری ملاقات ہوئی اور انھوں نے دلیپ صاحب کے سامنے پوچھا کہ ’آگ کا دریا‘ کا کیا ہوا۔ میں نے بنگلور آ کر جب فلم کے پرنٹس تلاش کیے تو وہ خستہ حال تھے۔ پھر مجھے یاد آیا کہ ہم نے فلم بنانے کے بعد اس کا ایک پرنٹ سنگاپور کے ایک ڈسٹری بیوٹر کو روانہ کیا تھا۔‘

راجندر بابو نے بتایا کہ انھوں نے سنگاپور کے اس فلم تقسیم کار سے رابطہ کیا اور جب انھیں یہ پتہ چلا کہ ان کے پاس ’آگ کا دریا‘ کے پرنٹس بالکل صحیح حالت میں محفوظ ہیں تو انھیں بے حد خوشی ہوئی۔

انھوں نے بتایا کہ فی الحال اس فلم کے پرنٹس کو ڈیجیٹل کرنے کا عمل جاری ہے اور اس کے بعد اس کا پوسٹ پروڈکشن کیا جائے گا اور فلم ریلیز کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے گي۔

دلیپ کمار سے اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے ہدایت کار راجندر بابو بتاتے ہیں ’مجھے ہیما مالنی نے پہلی بار دلیپ صاحب سے ملوایا تھا۔ انھوں نے میرے بارے میں بتایا اور دلیپ صاحب نے مجھے گھر بلایا۔ میں ان کے گھر فلم کی کہانی لے کر گیا۔‘

راجندر بابو نے مزید کہا ’کہانی سننے کے بعد انھوں نے کچھ نہیں کہا اور میں واپس آ گیا۔ اس کے بعد شام کو مجھے فون آیا کہ دلیپ صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں ان سے پھر ملا تو انھوں نے بتایا کہ انھیں فلم کی کہانی پسند ہے۔‘

فلم میں دلیپ کمار نے فضائیہ کے آفیسر کا کردار ادا کیا ہے اور ریکھا نے ان کی بیوی کا کردار نبھایا ہے۔ پدمنی كولہاپور ان کی بیٹی کے رول میں ہیں۔

فلم میں امرتا سنگھ نے ایک آئٹم سانگ بھی کیا ہے۔ یہ ایک خاندان کہانی ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح ایک ایماندار افسر کا خاندان نظام میں پھیلی بدعنوانی کا شکار ہوتا ہے اور اس سے لڑتا ہے۔

اسی بارے میں