’فلم میں واحد کشش قطرینہ کا رقص‘

Image caption اداکار عامر خان کی نئی فلم ’دھوم تھری‘ نے بھارت میں ابتدائی دو دنوں میں 70 کروڑ روپے کا ریکارڈ کاروبار کیا ہے

بالی ووڈ کی نئی فلم دھوم تھری نے پاکستان کے سینما گھروں میں تو دھوم مچا ہی دی ہے جہاں اس وقت ڈھونڈنے سے بھی اس کا ٹکٹ نہیں مل رہا۔

ویسے یہ امر بھی شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ دھوم تھری کے لیے سینما مالکان نے ٹکٹ کی قیمتوں میں بھی سو سے ڈیڑھ سو روپے تک کا اضافہ کردیا ہے۔

اس صورتِ حال میں سوشل میڈیا یعنی فیس بک اور ٹوئٹر پر کئی افراد نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا تو انگریزی فلموں کے شوقین افراد نے مشورہ دیا کہ دھوم تھری دیکھنے سے بہتر ہے کہ آپ دو انگریزی فلمیں Prestige اور Now You See Me دیکھ لیں کیونکہ دھوم تھری انہی دو فلموں کا چربہ ہے۔

فیس بک کے ایک صارف فاروق نیاز نے کہا کہ جس نے بھی یہ دونوں انگریزی فلمیں دیکھی ہیں اس کے لیے دھوم تھری میں واحد کشش قطرینہ کیف کا رقص ہی ہو سکتا ہے۔

بس پھر کیا تھا شائقین نے ویڈیو شاپس کا رخ کرلیا۔

Now you see me تو رواں سال ریلیز ہوئی تھی اس لیے وہ مارکیٹ میں دستیاب تھی جبکہ Prestige سال 2006 میں ریلیز ہوئی تھی۔ چھ سال پرانی فلم ہونے کی وجہ مارکیٹ میں اس کی کم سی ڈیز دستیاب تھیں اور فوراً ہی ختم ہوگئیں۔

کراچی کے مرکزی علاقے صدر کی مشہور ترین مارکیٹ رینبو سینٹر میں اس وقت Prestige کی ایک بھی کاپی موجود نہیں ہے۔ وہاں کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ جمعہ 20 دسمبر کو دھوم تھری ریلیز ہوئی تھی اور پیر 23 دسمبر کو شام تک مارکیٹ سے پرسٹیج بالکل غائب ہوچکی تھی۔

البتہ Now you see me کی بلو رے کاپیز ابھی دستیاب ہیں۔ دکانداروں نے بتایا کی 24 دسمبر کو چہلم اور 25 دسمبر کو کرسمس کی وجہ سے مارکیٹ بند تھی اسی لیے مزید کاپیز تیار نہیں کی جا سکیں جس پر جمعرات کو کام ہو رہا ہے۔

ایک دکاندار کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ عجیب بات یہ ہے کہ لوگ دھوم تھری کی پائریٹڈ کاپی کی جگہ انگریزی فلمیں مانگ رہے ہیں۔

اس صورتِ حال میں بھی ان دکانداروں کا فائدہ ہورہا ہے جو فلمیں ایکسٹرنل ہارڈ ڈسک پر کاپی کر کے دیتے ہیں۔

Now you see me کی کہانی کے مرکزی کردار چار جادوگر ہیں جو اپنے کرتب دکھاتے ہوئے بینک لوٹ لیتے ہیں۔ جبکہ Prestige کی کہانی دو جادوگروں کی باہمی چپقلش اور نت نئے کرتب دکھا کر عوام کا رجحان اپنی طرف مبذول کرنے کی کشمکش پر مبنی ہے جو آخر میں خونی رنگ اختیار کرلیتی ہے۔

دھوم تھری دیکھنے والے اختر رحمان اور محمد علی حسن کا کہنا ہے کہ دھوم تھری کی کہانی انہی دو فلموں کی کہانی کو ملا کر بنائی گئی ہے اور اسے صرف اعلیٰ درجے کی چربہ سازی ہی کہا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں