’اگر اچھا ڈرامہ بناتے ہیں تو ڈرنے کی ضرورت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption ٹیلی ویژن ڈرامہ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ اس کام میں ان کے لیے سب سے بڑی مشکل منجھے ہوئے اداکاروں کی عدم دستیابی ہے

پاکستان میں پچھلے دس سالوں کے دوران نجی ٹیلی ویژن چینلز کی تعداد کافی بڑھ چکی ہے اور ان میں ایسے چینلز بھی شامل ہیں جو 24 گھنٹے اپنی نشریات پیش کرتے ہیں۔

سنہ 2013 کے دوران ان چینلوں پر پیش کیے جانے والے تین ڈرامے ’زندگی گلزار ہے،‘ ’رہائی‘ اور ’اسیر زادی‘ بہت مشہور ہوئے تاہم کوئی ایک ڈرامہ بھی شہرت کی اُس بُلندی تک نہ پہنچ سکا جو گذشتہ برس ڈرامے ’ہمسفر‘ نے حاصل کی تھی۔

2013 میں پاکستانی ڈرامہ: سالنامہ سنیے

ڈرامہ نگار حسینہ معین کے خیال میں ڈرامے کو اب کوئی بھی فن پارے کی نظر سے نہیں دیکھتا بلکہ اسے کاروبار بنا لیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ 50 چینلوں پر ایک جیسے ڈرامے ایک جیسے چہروں کے ساتھ نشر کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں اداکارہ ثانیہ سعید کا کہنا ہے ’جب آپ 80 چینل کھول دیں گے اور کام کرنے والے لوگ نہ ہوں، نہ آپ کے پاس پیسہ ہو اور نہ ہی آرٹسٹ تو ایسی صورت میں کچھ چیزیں ہوں گی جو معیاری ہوں گی اور کچھ نہیں ہوں گی۔‘

ٹیلی ویژن ڈرامہ بنانے والوں کا کہنا ہے کہ اس کام میں ان کے لیے سب سے بڑی مشکل منجھے ہوئے اداکاروں کی عدم دستیابی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) جیسی اکیڈمی موجود ضرور ہے لیکن وہاں سے اتنے لوگ گریجویٹ ہوکر نہیں نکلتے کہ وہ مارکیٹ میں فنکاروں کی کمی کو پورا کرسکیں اسی لیے غیر تربیت یافتہ اداکاروں کو کام کے لیے لایا جاتا ہے اور انھیں کام کے دوران ہی تربیت حاصل ہوتی ہے۔

اسی سال نشر کیے جانے والے دیگر ڈراموں میں ایک ڈرامہ ’رہائی‘ ہے جو کہ ڈرامہ کشف فاؤنڈیشن کے تعاون سے پیش کیا گیا جو پاکستان میں کینیڈا کی امداد کے ذریعے کم آمدنی والے طبقے خصوصاً خواتین کو اپنے کاروبار میں مدد کے لیے چھوٹے پیمانے پر قرضے فراہم کرتی ہے۔ یہ وہ ڈرامہ ہے جسے سال کا بہترین ڈرامہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ گو اس ڈرامے میں بھی خواتین اور ان کے مسائل ہی زیرِ بحث رہے لیکن یہ مسائل روایتی نہ تھے۔ اس میں نعمان اعجاز، ثمینہ پیرزداہ اور ماریہ واسطی جیسے معروف اداکاروں نے کام کیا۔

’رہائی‘ میں معاشرے کے پسماندہ طبقوں میں خواتین کی تعلیم اور روزگار جیسے اہم موضوعات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا۔

سنہ 2013 کے دیگر ڈرامے جو قدرے مشہور ہوئے اُن میں ’کنکر،‘ ’وراثت،‘ ’شک،‘ ’سلوٹیں،‘ ’عون زارا،‘ ’دل مضطر‘ اور ’نم‘ وغیرہ شامل ہیں لیکن ان ڈراموں میں روایتی کہانیاں ہی دہرائی گئیں۔

سینیئر اداکارہ بدر خلیل کہتی ہیں ’پاکستان میں ڈرامے کی مقبولیت میں کمی کی بنیادی وجہ صرف اور صرف کمزور، بے مقصد کہانیاں اور جھول والے سکرپٹ ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption ٹیلی ویژن ڈرامے سے وابستہ اداکار ہدایت کاروں اور ڈرامہ نگاروں سب کا موقف ہے کہ پاکستان میں اداکاروں اور ڈرامہ نگاروں کی تربیت کے لیے مزید ادارے بنانے کی ضرورت ہے

دوسری جانب پاکستان میں مزاحیہ ڈراموں میں نام پر چند ڈرامے نشر ہوتے ہیں جن میں ’قدوسی صاحب کی بیوہ،‘ ’بُلبلے‘ یا ’ڈولی کی آئے گی بارات‘ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ وہ مزاحیہ ڈرامے ہیں جنھیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد باقاعدگی سے دیکھتی ہے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ان ڈراموں میں مزاح کا عُنصر کم اور پھکڑ پن زیادہ ہوتا ہے۔

ڈرامہ نگار حسینہ معین کہتی ہیں ’مزاح لکھنا اور اسے نبھانا بہت مشکل اور محنت طلب کام ہے۔ بے وقوفی کی حرکات کروا دینے، زبان کو توڑ مروڑ دینے اور چال کوٹیڑھا میڑھا کر دینے سے کامیڈی نہیں ہوجاتی۔‘

انھیں شکایت ہے کہ ایسے ڈرامے دیکھنے سے بچوں کو منع نہیں کیا جاسکتا اور بچے پھر وہی حرکات نقل کرتے ہیں جو انھوں نے ان ڈراموں سے سیکھی ہوتی ہیں۔

سنہ 2012 میں ترکی کے ڈرامے ’عشقِ ممنوع‘ کے مقبول ہونے کی وجہ سے سنہ 2013 میں اکثر نجی ٹی وی چیلنوں نے غیر ملکی ڈرامے اردو زبان میں ڈب کر کے چلانے شروع کر دیے اور وہ کافی مقبول بھی ہوئے۔

ترکی کے ان ڈراموں کو خصوصا پرائم ٹائم یعنی شام سات سے رات 11 بجے کے درمیان نشر کیا گیا جس کے خلاف ملک کے کئی فنکار سراپا احتجاج ہوگئے۔ ان ڈراموں کو پرائم ٹائم پر نشر کرنے کی وجوہات بتاتے ہوئے ہدایت کار اقبال انصاری کہتے ہیں کہ زیادہ چینل آنے سے ڈرامے کی مانگ بڑھ گئی ہے اور ترکی کے ڈراموں نے اس ضرورت کو پورا کیا ہے۔

ناظرین میں ان ڈراموں کی مقبولیت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے اداکارہ ثانیہ سعید کہتی ہیں: ’لوگ ہمیشہ اس چیز کی طرف راغب ہوتے ہیں جو ان کو نئی لگتی ہے۔ ہم لوگ تھوڑے سے دوغلے ہیں۔ ہم باتیں کرتے ہیں کہ ہماری تہذیب میں یہ نہیں ہوتا وہ نہیں ہوتا۔ اگر وہی چیز ترکی کے ڈرامے ’خلیل و مناہل‘ میں دکھائی جائے گی تو دیکھ لیں گے اور اگر یہی کہانیاں ہم دکھانا چاہیں تو آپ نہیں دیکھیں گے۔‘

اداکارہ بدر خلیل کے بقول ’آپ ان غیر ملکی ڈراموں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے پاکستان میں بھی اچھے ڈرامے بنیں تاکہ لوگ خود بخود ان کو دیکھنے پر مجبور ہوں‘۔

ترکی کے ڈراموں کے خلاف احتجاج کرنے والے فنکاروں اور ہدایت کاروں کا موقف ہے کہ اس سے پاکستان کا ڈرامہ خطرے میں پڑسکتا ہے جسے پہلے ہی بھارتی ڈراموں سے ملنے والے دھچکوں کے بعد اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے میں کافی وقت لگا۔

لیکن ڈرامہ نگار حسینہ معین کا خیال مختلف ہے۔ وہ کہتی ہیں: ’ماضی میں پاکستانی ڈراموں کو بھارت میں بے پناہ پذیرائی ملی۔ اگر آپ آج بھی اچھا ڈرامہ بناتے ہیں تو آپ کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

ٹیلی ویژن ڈرامے سے وابستہ اداکار ہدایت کاروں اور ڈرامہ نگاروں سب کا موقف ہے کہ پاکستان میں اداکاروں اور ڈرامہ نگاروں کی تربیت کے لیے مزید ادارے بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس شعبے میں فنکاروں کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ وہ اس بات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیتے ہیں کہ ٹیلی ویژن مالکان اپنی ذمے داری نبھاتے ہوئے غیر معیاری مواد نشر نہ کریں۔

اسی بارے میں