ملائکہ کو آئٹم گرل کی اصطلاح پر اعتراض کیوں؟

Image caption ملائکہ خان سلمان خان کے بھائی ارباز خان کی اہلیہ ہیں

بالی وڈ میں ’چل چھياں چھياں‘، ’منّی بدنام ہوئی‘ اور ’انارکلی ڈسکو چلی‘ جیسے سپر ہٹ آئٹم سانگز پر اداکاری کرنے والی اداکارہ ملائکہ اروڑا خان اپنے لیے ’آئٹم گرل‘ جیسی اصطلاح نہیں سننا چاہتیں۔

ممبئی میں ایک ریئلیٹی شو ’انڈيازگاٹ ٹیلنٹ‘ کے حوالے سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں ملائکہ نے کہا ’میں جن نغموں پر اداکاری کرتی ہوں انھیں آئٹم سانگ کیوں کہا جاتا ہے؟ انھیں سپیشل سانگ بھی تو کہا جا سکتا ہے۔ ایک ایسا گیت یا نغمہ جو لوگوں میں تجسس اور بیتابی بڑھائے اسے آئٹم سانگ کہنا قابل اعتراض اور پاگل پن ہے۔‘

اب کرینہ کپور، دیپکا پاڈوکون اور پریانکا چوپڑا جیسی مین سٹریم ہیروئنیں بھی فلموں میں آئٹم سانگ کرنے لگی ہیں ایسے میں اس طرز کے گیت کے لیے مخصوص اداکاراؤں کے کیریرز پر کیسے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں ملائکہ نے کہا ’مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کوئی فرق پڑے گا۔ بالی وڈ میں اتنا کام ہے کہ ہر کسی کے لیے یہاں گنجائش موجود ہے۔‘

مختلف طرز کے رقص میں مہارت رکھنے والی ملائکہ کی خواہش بیلی ڈانس سیکھنا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ابھی تک بالی وڈ فلموں میں اس طرز کے رقص کو استعمال ہی نہیں کیا گیا ہے۔

ملائکہ کہتی ہیں ’دیپکا پاڈوکون اور قطرینہ کیف جیسی بعض اداکاراؤں نے بیلی ڈانس کے ایک یا دو سٹیپ کبھی کبھار کیے لیکن صحیح معنوں میں اب تک ہماری فلموں میں اس کا استعمال ہوا ہی نہیں ہے۔‘

Image caption ملائکہ ریئلیٹي شو ’انڈياز گاٹ ٹیلنٹ‘ کے تازہ ورژن میں کیرن کھیر اور کرن جوہر کے ساتھ جج ہیں

ملائکہ جلد ہی ریئلیٹي شو ’انڈياز گاٹ ٹیلنٹ‘ کے تازہ ورژن میں کیرن کھیر اور کرن جوہر کے ساتھ منصف کے کردار میں جج کے فرائض انجام دیتی نظر آئیں گی۔

’انڈياز گاٹ ٹیلنٹ‘ میں بعض اوقات امیدوار اپنا ہنر دکھانے کے لیے انتہائی خطرناک کاموں کو انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا اس سے ٹی وی پر شو دیکھنے والے بچوں پر برے اثرات تو نہیں پڑیں گے۔

اس کے جواب میں شو کے دوسرے جج کرن جوہر نے کہا ’شو میں ہم بار بار یہ تنبیہ کرتے ہیں کہ اس طرح کے کاموں کو اپنے گھر پر انجام نہ دیں۔ ہم تو شو میں بھی مکمل احتیاط برتنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

کرن جوہر نے مزید کہا کہ دوسرے بہت سے ٹی وی شوز ناظرین پر زیادہ برے اثرات ڈالتے ہیں۔ انھوں نے کہا ’پرائم ٹائم پر تو مختلف قسم کے پروگرام نشر ہوتے ہیں جو لوگوں کے ذہنی فروغ کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں اور ان پروگراموں میں تو تنبیہ بھی نہیں چلائی جاتی۔‘

کرن جوہر اس شو کے علاوہ ’کافی ود کرن‘ جیسے ٹی وی پروگرام میں بھی نظر آتے ہیں۔

اسی بارے میں