انٹرنیٹ پر تفریح، نئی نسل کا ’کیوٹیاپا‘

تصویر کے کاپی رائٹ TVF
Image caption ٹی وی ایف نے یو ٹیوب پر’كيوٹياپا‘ کے نام سے کئی ویڈیوز لوڈ کیا ہے

پہلے ٹی وی پروگرام بنائیں پھر اسے نشر کرنے کے لیے مختلف ٹی وی چینلوں کے چکر لگائیں۔ یہ سب پرانی باتیں ہو چکی ہیں کیونکہ انٹرنیٹ نے نوجوانوں کو ایک نیا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔

بی بی سی کے ودت مہرہ کا کہنا ہے کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دکھانے کے مواقع نہیں مل رہے ہیں ان کے لیے انٹرنیٹ کسی غیر متوقع نعمت سے کم نہیں۔

ودت کے مطابق ’ٹي وی ایف‘ یعنی ’دا وائرل فيور‘ اور ’اے آئی بی‘ یعنی ’آل انڈیا بک‘ دو ایسےگروپ ہیں جو اپنی تخلیقی صلاحیت یوٹیوب پر ناظرین کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور انھیں خاصی مقبولیت بھی مل رہی ہے۔

ٹی وی ایف نے یو ٹیوب پر’كيوٹياپا‘ کے نام سے کئی ویڈیوز لوڈ کیا ہے۔

اس کے بانی ارونبھ کمار آئی آئی ٹی كھڑگپور سے انجینیئرنگ گریجویٹ ہیں جبکہ اے آئی بی کے بانی کامیڈین گروسمرن کھمبا ، تنمے بھٹ، روہن جوشی اور آشیش شاكیہ ہیں۔

یہ نوجوان نئے نئے ويڈيوز بنا کر انہیں براہ راست یو ٹیوب پر لانچ کرتے ہیں اور یہ ويڈيوز تکنیکی طور پر عمدہ معیار کے ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TVF
Image caption ارونبھ کہتے ہیں کہ انھیں بہت سارے لوگ ملتے ہیں اور کہتے ہیں وہ بہت صحیح کام کر رہے ہیں اور ایسا کرتے رہنا چاہیے

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے ويڈيوز تیار کرنے کے لیے انھیں پیسہ کہاں سے ملتا ہے اور ان کی کمائی کا ذریعہ کیا ہے؟

تنمے نے کہا ’ہم یہ تو نہیں بتا سکتے کہ ہمیں پیسے کون دے رہا ہے پر زیادہ تر پیسے ہمیں اپنی جیب سے دینے پڑتے ہیں۔ یوٹیوب کے ذریعے بھی ہم تھوڑے بہت پیسہ کما لیتے ہیں۔ بہر حال وہ اتنے نہیں ہوتے کہ اس سے ہم نئی ویڈیو بناسکیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’ہم سب کامیڈین ہیں۔ ہم فلموں کے لیے سکرپٹ لکھتے ہیں، ریڈیو میں کام کرتے ہیں اور کبھی کبھی اگر ہمیں کوئی مہنگی فلم بنانی ہوتی ہے تو اس کے لیے تھوڑا بہت پیسہ ہماری جیب سے بھی جاتا ہے۔‘

جبکہ دوسری جانب ارونبھ کمار کہتے ہیں ’یو ٹیوب پر آپ کے ويڈيوز کو جتنے لوگ دیکھتے ہیں اس کی بنیاد پر تھوڑے پیسے مل جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی برانڈز بھی ہمارے پاس آتے ہیں جو ہمیں کہتے ہیں کہ آپ ہمارے لیے بھی ایسے ويڈيوز بنائيں اور پھر وہ ہمیں پیسے دیتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AIB
Image caption اے آئی بی گروپ ورکنگ کامیڈین ہیں اور انھیں امید ہے کہ اس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا

یہ دونوں یوٹیوب، فیس بک اور ٹوئٹر پر کافی مقبول ہیں۔

ارونبھ کمار کہتے ہیں ’مجھے بہت سارے لوگ ملتے ہیں اور کہتے ہیں آپ بہت صحیح کام کر رہے ہیں اور ایسا کرتے رہنا چاہیے۔ میرا مقصد ہے کہ میں بھارت میں ایک ایسا ٹی وی چینل لانچ کروں جو آج کے نوجوانوں کو لبھائے میں ٹی وی ایف کو اس ملک کا ’ڈزني‘ یا ’ایچ بی او‘ بنانے کی تمنا رکھتا ہوں۔‘

دوسری طرف اے ایف بی کا مقصد بہت سادہ اور عام ہے۔ تنمے بھٹ کہتے ہیں ’ہمیں بہت سے لوگ پسند کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے بطور اسٹینڈ اپ کامیڈین بھی ہماری مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔‘

اس قسم کے ویڈیوز کی روز افزوں مقبولیت سے یہ اندازہ تو ہو ہی جاتا ہے کہ نوجوان نسل کا جھکاؤ روایتی ’ساس بہو‘ یا دوسرے تفریحی سیریل کے تئيں کم ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں