فلپ ہوفمین کی موت کی تحقیقات: چار افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان کی موت کی حتمی وجہ معلوم نہیں لیکن پولیس تفتیش کر رہی ہے

اطلاعات کے مطابق ہالی وڈ کے آسکر انعام یافتہ اداکار فلپ سیمور کی موت کی تحقیقات کے سلسلے میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

فلپ سیمور ہوفمین گذشتہ اتوار کو نیویارک میں اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائے گئے تھے اور ان کی ہلاکت کی وجہ ابتدائی اندازوں کے مطابق مقررہ مقدار سے زیادہ دوا لینا بتائی جا رہی ہے۔

امریکی میڈیا نے مقامی پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ مین ہٹن میں ان گرفتاریوں کے دوران ہیروئن کے تقریباً 350 تھیلے قبضے میں لے لیے گئے۔

نیویارک کی پولیس کا کہنا ہے ہوفمین کی لاش اتوار کی صبح ساڑھے 11 بجے مین ہٹن میں ان کی رہائش گاہ پر غسل خانے سے ملی۔

46 سالہ اداکار کی لاش گذشتہ اتوار کو ان کے گھر سے ملی تھی جس کے قریب مشتبہ ہیروئن کے تھیلے بھی پڑے تھے۔ ان میں بعض پر دل اور دوسرے مخصوص نشان لگے ہوئے تھے جسے گلیوں میں ہیروئن کا کاروبار کرنے والوں کا برانڈ سمجھا جاتا ہے۔

ان کی موت کی حتمی وجہ معلوم نہیں لیکن پولیس کی تفتیش جاری ہے۔

گذشتہ برس ہوفمین نے نیوز ویب سائٹ ’ٹی ایم زیڈ‘ کو بتایا تھا کہ انھوں نے منشیات کی عادت سے چھٹکارا پانے کے لیے علاج کروایا تھا۔

ہوفمین نے 1990 کی دہائی میں ’بُوگی نائٹس‘ اور ’بگ لیبوسکی‘ جیسی فلموں سے نام بنایا اور پھر 2005 میں انھیں مصنف ٹرومین کپوئے پر بننے والی فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے پر آسکر انعام دیا گیا۔

انھوں نے ہالی وڈ میں 60 سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ ان کا حالیہ فلموں میں ’ہنگر گیمز‘ سیریز کی فلمیں شامل ہیں۔

فلپ نے فلموں کے علاوہ امریکی تھیئیٹر میں بھی کام کیا اور براڈوے پر اپنے کام کے لیے دو مرتبہ ٹونی ایوارڈز کے لیے بھی نامزد ہوئے۔

اداکاری کے علاوہ فلپ ہوفمین نے ہدایت کاری بھی کی۔ 2010 میں بننے والی ’جیک گوز بوٹنگ‘ بطور ہدایت کار ان کی پہلی فلم تھی۔ اس فلم میں انھوں نے اداکاری بھی کی تھی۔

اسی بارے میں