’ہر نسل اداس سے اداس تر ہوتی جا رہی ہے‘

Image caption عبداللہ حسین ان دنوں شدت پسندی کے پس منظر میں ایک اور ناول لکھ رہے ہیں

پاکستان کے نامور ناول نگار اور مصنف عبداللہ حسین کا کہنا ہے کہ جب سے ’اداس نسلیں‘ لکھی گئی اس وقت سے اس کتاب کی خوش قسمتی اور ہماری بدقسمتی ہے کہ ہر نسل اداس سے اداس تر ہوتی جا رہی ہے۔

کراچی میں ادبی میلے میں ’اداس نسلیں‘ کے 50 برس مکمل ہونے پر ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اپنے پہلے ناول ’اداس نسلیں‘ کو ایک حادثے کا نتیجہ قرار دیا۔

انھوں نے بتایا کہ میانوالی کے پاس ایک جگہ تھی دادؤ خیل، جہاں وہ ایک سیمنٹ فیکٹری میں بطور کیمسٹ کام کرتے تھے۔ وہ وہاں آٹھ گھنٹے کام کرتے تھے اور آٹھ گھنٹے سوتے تھے، باقی کے آٹھ گھنٹوں میں وہاں کچھ کرنے کو نہیں تھا، اس کے برعکس اگر وہ کراچی یا لاہور میں ہوتے تو وہاں وقت گزارنے کے کئی مقامات تھے اور کبھی لکھنے کا خیال نہ آتا۔ اتفاق سے وہ ایک ایسی جگہ تھےجہاں فالتو وقت تھا۔

’ایک دن میں نے لکھنا شروع کر دیا، اس وقت میرے ذہن میں ایک لو سٹوری تھی، جس میں ایک نواب کی بیٹی ہوتی ہے، اس کی کسان کے بیٹے سے محبت ہو جاتی ہے۔ وہ پورے خاندان کے ساتھ جنگ کرتی ہے، ان دنوں ایسا نہیں ہوتا تھا کہ ایک کسان کے بیٹے سے نواب کی بیٹی کی شادی ہو سکے۔ ایک بڑی جنگ ہوتی اور بالآخر شادی میں کامیاب ہوجاتی ہے میرا خیال تھا کہ اس سے بڑی محبت کی کہانی نہیں ہو سکتی۔‘

Image caption ’اداس نسلیں‘ کی اشاعت کے 50 سال مکمل ہو گئے ہیں

عبداللہ حسین کے مطابق وہ آگے لکھتے گئے اور اس کی شکل کچھ اور بنتی گئی، ایک مقام پر وہ آ کر رک گئے اور سوچا کہ یہ بلا تو ان کے گلے پڑ گئی ہے، وہ تو ایک چھوٹی کہانی لکھنے والے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں سوچتا رہا بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ اب اس کو انجام تک پہنچانا ان کا فرض بنتا ہے۔

’جیسے کہانی آگے بڑھتی گئی اس میں تاریخ آ گئی اور مجھے برصغیر سے انگریزوں سے چھٹکارے کی تاریخ میں جانا پڑا اور کہانی میں جب پہلی جنگ عظیم کا قصہ آ گیا تو عبداللہ حسین کو بھارت کا سفر کرنا پڑا۔‘

عبداللہ حسین نے اعتراف کیا کہ وہ انگریزی پڑھتے تھے اور انھیں اردو زبان نہیں آتی تھی: ’ایک مرتبہ والد نے کہا تھا کہ اگر تم انگریزی نہیں پڑھو گے تو ریلوے سٹیشن پر جو لمبی نیکریں پہن کر چائے بیچتے ہیں تم بھی وہ کام کرو گے، مجھے چائے بیچنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن میلی کچیلی نیکر پہننے سے ڈرتا تھا۔ اس خوف سے انگریزی پڑھتے رہے۔

’جب لکھنا شروع کیا تو جو اردو رائج الوقت تھی اس میں بڑے مشکل الفاظ تھے، لچھے دار زبان مجھے نہیں آتی تھی، جو الٹی سیدھی زبان آئی اس کو لکھتا گیا۔ مجھے تو پتہ نہیں تھا کہ اس کو کوئی پڑھے گا یا شائع بھی کرے گا۔‘

یونیسکو سے شائع شدہ اور کئی بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ’اداس نسلیں‘ کو شائع کرنا بھی اتنا آسان نہ تھا۔ عبداللہ حسین کے مطابق جب وہ پبلشر کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ آپ کہاں چھپے ہوئے تھے اتنی موٹی کتاب پر بڑے پیسے لگیں گے اس کو خریدے گا کون؟

ان کے مطابق پبلشر نے مشورہ دیا کہ وہ ایک رسالہ نکالتے ہیں ’سویرا‘ اس میں کچھ کہانیاں لکھ کر دیں، تاکہ لوگ نام سے واقف ہوں۔

’اس طرح میں نے پہلا افسانہ لکھا ندی کے نام سے جو کینیڈا کے پسِ منظر میں تھا۔‘

عبداللہ حسین اداس نسلیں شائع ہونے کے تین سال کے بعد میں انگستان چلے گئے جہاں انھوں نے کوئلے سے گیس بنانے والی کمپنی میں ملازمت اختیار کی، جب قدرتی گیس آگئی تو یہ کام بند ہوگیا اور کمپنی نے انھیں ریٹائر کر دیا اور انھوں نے اس رقم سے لندن میں شراب خانہ کھول لیا۔

عبداللہ حسین کے مطابق اسی علاقے میں صحافی، دانشور، آرٹسٹ، رائٹر بڑی تعداد میں رہتے تھے اور شراب خانے میں بھی آتے تھے، وہاں ایک شخص آتا تھا اس نے کہا کہ تم ایک کاغذ پر کچھ لکھتے رہتے ہو یہ کیا ہے تو میں نے اسے بتایا کہ میں کہانیاں لکھتا ہوں، اس نے پوچھا کہ ان دنوں کیا لکھ رہے ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پہلا افسانہ ندی کے نام سے لکھا جو کینیڈا کے پسِ منظر میں تھا: عبداللہ حسین

’میں ان دنوں پاکستان سے غیر قانونی طریقے سے انگلستان آنے والے لوگوں کی کہانی لکھ رہا تھا جو برمنگھم میں چھپ کر رہتے تھے، وہ سن کر متاثر ہوا اور کہا کہ چند صفحے انگریزی میں لکھ کر دو، وہ کہانی لے کر رینی گیٹ کمپنی کے سربراہ رابرٹ بکلر کے پاس گیا جس نے اس کا سکرین پلے لکھا اور بی بی سی ٹو نے اس پر دستاویزی فلم بنائی، جس کا نام انھوں نے’برادرز ان ٹربل‘ رکھا۔

عبداللہ حسین کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ پڑھا تھا کہ لکھاری کا پتہ اس کے دوسرے ناول سے چلتا ہے، کیونکہ ہر آدمی کے اندر ایک ناول ہوتا ہے اب وہ اسے لکھے یا نہ لکھے۔ پہلے ناول سے تو وہ ادیب نہیں بنتا دراصل ادیب تو وہ بنتا ہے اپنے دوسرے ناول سے۔

انھوں نے بتایا کہ ان دنوں وہ ایک اور ناول لکھ رہے ہیں، جو شدت پسندی کے پس منظر میں ہے۔

اسی بارے میں