شبانہ کی پاکستانی فلم میں کام کرنے کی شرط

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شبانہ عورتوں کی آزادی اور حقوق، بچوں کے تحفظ اور ایڈز کے انسداد کی سرگرم کارکن ہیں

ممتاز بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی نے کہا ہے کہ اگر اچھے موضوع اور اچھے سکرپٹ کے ساتھ پیشکش ہوئی تو پاکستانی فلم میں بھی کام کریں گی۔

کہا جا رہا ہے وہ بلاول بھٹو کی دعوت پر سندھ فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے آئی ہیں تاہم پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ فیسٹیول کے منتظمین کی جانب سے اس بار ے میں اب تک کچھ نہیں کہا گیا۔

سندھ فیسٹیول کے منتظمین نے اتوار کو جاری کیے جانے والے پریس ریلیز میں کہا تھا کہ وہ سندھ فیسٹیول کے حوالے سے کراچی میں پیر اور منگل کو ہونے والے انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کے لیے آئی ہیں۔

اب تک 120 سے زائد فلمیں کرنے والی اداکارہ نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سندھ فیسٹیول میں بلائے جانے پر خوشی کا اظہار کیا۔

انھوں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور رہنا چاہتے ہیں اور وہ ایک فنکار ہیں انھیں جہاں بھی کام کرنے کی پیشکش ہوگی وہ اُس پر غور کریں گی۔’پاکستان میں بھی، ویزا اور کام ملا تو ضرور کام کروں گی۔ ‘

ہندوستان کی راجیا سبھا یا ایوانِ بالا کی رکن شبانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کو مشترکہ فلم سازی پر غور کرنا چاہیے۔

شبانہ اعظمی نے تھیٹر سے اداکاری کی ابتدا کی لیکن فلمی دنیا میں ان کی آمد عالمی سطح پر معروف ہدایت کار شیام بینیگل کی فلم’انکور 1974‘ سے ہوئی۔

اگرچہ شبانہ اعظمی نے کمرشل فلمیں بھی کی ہیں لیکن ان کی زیادہ شہرت متبادل سینما یا آرٹ فلموں کے سبب ہے۔ انھیں آرٹ فلموں کی سرِ فہرست اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ان کی چند مشہور فلموں میں انکور ، شطرنج کے کھلاڑی، جنون، سپرش، ارتھ، معصوم، منڈی اور امراؤ جان، کے نام لیے جاتے ہیں اور ان کی اب تک کی آخری فلم ’ری لکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ‘ تھی جو پاکستان کے انگریزی ناول نگار محسن حامد کے ناول پر بنائی گئی تھی۔

وہ بہترین اداکاری کے پر 1975، 1983، 1985 اور 1999 میں ہندوستان کے نیشنل فلم ایوارڈ اور 1978، 1984 اور 1985 کے فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ انھیں ہندوستان کے کئی بڑے حکومتی ایوارڈ حاصل ہو چکے ہیں لیکن وہ پہلی بھارتی خاتون ہیں جنھیں 2006ء میں گاندھی انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔

وہ اردو کے مشہور شاعر کیفی اعظمی کے ہاں 18 ستمبر 1950 کو دہلی میں پیدا ہوئیں اور 9 دسمبر 1984 سے مقبول شاعر جاوید اختر کی شریکِ حیات ہیں۔

شبانہ عورتوں کی آزادی اور حقوق، بچوں کے تحفظ اور ایڈز کے انسداد کی سرگرم کارکن ہیں۔ وہ اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ کی سفیر بھی ہیں۔

اسی بارے میں