مائیکل جیکسن کے مداحوں کے لیے جذباتی نقصان کا ازالہ

Image caption مائیکل جیکسن وفات سے قبل ایک لمبے وقفے کے بعد دوبارہ فن کا مظاہرہ کرنے والے تھے

فرانس کی ایک عدالت نے گلوکار مائیکل جیکسن کی موت سے ان کے پانچ مداحوں کو ہونے والے ’جذباتی نقصان‘ کے ازالے کے طور پر انہیں ایک یورو فی کس ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

34 مداحوں نے مائیکل جیکسن کے ڈاکٹر کے خلاف ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا جو پہلے ہی سنہ 2011 سے مائیکل جیکسن کے نادانستہ قتل کے الزام میں جیل میں ہیں۔

مائیکل جیکسن کی موت انتہائی طاقتور مسکّن اعصاب دوا پروپوفول کی زائد مقدار استعمال کرنے سے ہوئی اور یہ دوا انہیں ان کے گھر پر دی گئی تھی۔

عدالت نے مائیکل جیکسن کی موت کے سلسلے میں ان کے ڈاکٹر کونریڈ مرے پر قتل خطا کی فرد جرم عائد کی تھی۔

فراسن کی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پانچ مداحوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ گلوکار کی موت سے انہیں جذباتی مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔

جن مداحوں کے حق میں فیصلہ ہو ا ہے ان میں سے دو کا تعلق فرانس، دو کا سوئٹزر لینڈ اور ایک کا بیلجیئم سے ہے اور یہ سب فرانس میں قائم مائیکل جیکسن کے مداحوں کے ایک کلب کے ارکان ہیں۔

ان کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے عدالت میں ان افراد کے بیانات اور طور رپورٹس سے یہ ثابت کیا کہ انہیں جذباتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے خبر رساں ادرے ایک ایف پی کو بتایا ’جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ پوری دنیا میں پہلی بار ہوا ہے پاپ سٹار کے حوالےسے کسی کے جذباتی نقصان کے خیال کو تسلیم کیا گیا ہو۔‘

’انہیں تکلیف اٹھانی پڑی اور میں خوش ہوں کے قانون نے ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ نقصان علامتی ہے اور مدعی ڈاکٹر سے رقم لینے کے خوہاں نہیں ہیں۔

ان پانچوں کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد انہیں لاس ایجنلس میں مائیکل جیکسن کی قبر تک رسائی دی جائے گی۔

مائیکل جیکسن کی قبر پر عام عوام کو رسائی حاصل نہیں ہے۔

مائیکل جیکسن پچیس جون سنہ 2009 میں دوا کی زیادہ خوراک کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے۔

وہ کئی برس تک عوام کی نگاہوں سے دور رہے لیکن موت سے قبل وہ دوبارہ لندن میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

اسی بارے میں