پاکستان بھارت کو مشترکہ فلم سازی پر غور کرنا چاہیے

تصویر کے کاپی رائٹ pr
Image caption شبانہ اعظمی کو سندھ فیسٹیول میں شرکت کی دعوت بلاول بھٹو زرداری نے دی تھی

سندھ فیسٹیول کے ایک حصے کے طور پر دو روزہ سندھ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کا آغاز کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع ایک سینیما گھر میں ہوا۔

افتتاحی تقریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پیٹرن ان چیف بلاول بھٹو زرداری، ممتاز بھارتی اداکارہ شبانہ اعظمی، ممتاز برطانوی اداکار راجر ایشٹن گرفتھ اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں اور ان فلموں کے پروڈیوسروں، ہدایت کاروں اور بعض کے اداکاروں نے شرکت کی جن کی فلمیں اس فیسٹیول میں نمائش کے لیے منتخب کی گئی ہیں۔

یہ پروڈیوسر، ہدایت کار اور اداکار کل ہی کراچی پہنچے تھے۔ فیسٹیول میں شبانہ اعظمی کی اگر چہ کوئی فلم نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ بلاول بھٹو کی خصوصی دعوت پر فیسٹیول میں شریک ہونے آئی ہیں۔

شبانہ اعظمی نے افتتاحی تقریب کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کے جواب دیے اور اپنے اس خیال کو دہرایا کہ پاکستان اور ہندوستان کو مشترکہ فلم سازی پر غور کرنا چاہیے۔

وہ اس سے پہلے کہہ چکی ہیں کہ اگر انھیں اچھے موضوع پر اچھے سکرپٹ کے ساتھ پیشکش کی گئی تو وہ پاکستان میں بننے والی فلموں میں کام کرنا پسند کریں گی۔

تاہم وہ اس سے پہلے بھی اس کے ساتھ اشارہ دے چکی ہیں کہ وہ فن کار ہیں انھیں جہاں بھی کام ملے گا وہ کام کریں گی۔ ’پاکستان میں بھی‘ انھوں نے کہا ، ویزا اور کام ملا تو ضرور کام کروں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شبانہ کراچی ادبی میلے میں شرکت کے لیے کراچی آئی تھیں

ہندوستان کی راجیا سبھا یا ایوانِ بالا کی رکن شبانہ اعظمی نے تھیٹر سے اداکاری کی ابتدا کی لیکن فلمی دنیا میں ان کی آمد عالمی سطح پر معروف ہدایت کار شیام بینیگل کی فلم’ انکور 1974‘ سے ہوئی۔

اگرچہ شبانہ اعظمی نے کمرشل فلمیں بھی کی ہیں لیکن ان کی زیادہ شہرت متبادل سینیما یا آرٹ فلموں کے سبب ہے۔ انھیں آرٹ فلموں کی سرِ فہرست اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ان کی چند مشہور فلموں میں انکور ، شطرنج کے کھلاڑی، جنون، سپرش، ارتھ، معصوم، منڈی اور امراؤ جان ادا، کے نام لیے جاتے ہیں اور ان کی اب تک کی آخری فلم ’ری لکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ‘ تھی جو پاکستان کے انگریزی ناول نگار محسن حامد کے ناول پر بنائی گئی تھی۔

وہ بہترین اداکاری کے پر 1975، 1983، 1985 اور 1999 میں ہندوستان کے نیشنل فلم ایوارڈ اور 1978، 1984 اور 1985 کے فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل کر چکی ہیں۔ انھیں ہندوستان کے کئی بڑے حکومتی ایوارڈ حاصل ہو چکے ہیں لیکن وہ پہلی بھارتی خاتون ہیں جنہیں 2006ء میں گاندھی انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اسی بارے میں