کراچی: بچوں کے میلے کا پہلا دن

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیلا جمیل، امینہ سید اور زبیدہ مصطفٰی نے ایک اجلاس میں بچوں میں پڑھنے کی عادتوں پر بات کی

کراچی میں بچوں کا گیارہواں سالانہ ادبی میلہ آرٹس کونسل کراچی میں شروع ہوا جس میں بچوں اور بڑوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس دو روزہ میلے کا اہتمام ادارہ تعلیم وآگاہی کی بیلا رضا جمیل، شریک بانی آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی مینجنگ ڈائریکٹر امینہ سید، اوپن سوسائٹی فاونڈیشنز کی آفیسر نرگس سلطانہ، آرٹس کونسل آف پاکستان کے سیکریٹری احمد شاہ، کراچی یوتھ انیشیٹو اور حبیب بینک لیمیٹڈ کے باہمی اشتراک کیا گیا ہے۔

میلے کا باقاعدہ آغاز بیلا رضا، جمیل امینہ سیّد، نرگس سلطانہ، احمد شاہ، مشہودرضوی، سیما کامل اورایڈیشنل چیف سیکریٹری ایجوکیشن اینڈ لٹریری ڈیپارٹمنٹ حکومت ِ سندھ ڈاکٹر فیض اللہ پیچوہو کے خطاب سے ہوا۔

مطالعہ کی عادت کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ آج کی مختلف رنگا رنگ سرگرمیوں میں خالد انعم کے ساتھ میوزک سیشن، علی بابا اور چالیس چور، چلغوزے اور موزے جیسے تھیٹر ڈرامے، ٹوفی ٹی وی: کہانی ٹائم، سنگ سانگ جیسے ڈرامے اور کٹھ پتلی تماشا بھی شامل تھا۔

نصاب اور نصابی کتب: موجودہ مسائل کیا ہیں؟ کیا اُن کا کوئی حل ہے؟ مختلف طریقوں سے اوائل عمری میں مطالعہ کو فروغ دینا جیسے موٰضوعات پر گفتگو اور21 ویں صدی کے سکولوں کے لیے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری اور فکر کی اہمیت پر اجلاس بھی سرگرمیوں کا حصہ تھے ان اجلاسوں میں بچے تو تھے ہی نہیں اکثر کرسیوں پر والینٹئر اور بڑے بیٹے تھے اور وہ بھی گنے چنے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیپال سے آنے والی مندوب شانتا دکشت نے بچوں کے تصویری کہانیوں کی اہمیت کے بارے میں بتایا

مختلف زبانوں میں داستان گوئی کے متعدد سیشنز ہوئے جن کی رہنمائی کے فرائض عامرہ عالم، سیمی زیدی عائشہ عمر، فواد خان، فاطمہ نعیم، عطیہ داؤد، علی ناصر آفریدی اور صائمہ اصغر ریاض نے کی۔

سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن، ٹین ٹے ٹیو کولیکٹیو، فوزیہ من اللہ، خدا بخش ابڑو اور آرٹیپینیور فار چینج کی طرف سے لگائے گئے رنگا رنگ اسٹال بچوں کی توجہ کا مرکز رہے۔

کہیں بچوں کو شمسی نظام کے بارے میں بتایا جا رہا تھا اور یہ سکھایا جا رہا تھا کہ کہانی کیسے لکھی جائے۔ آصف سینن موسیقی کے بارے میں ورکشاپ کرا رہے تھے تو عمرانہ مقصود کہانیاں لکھنا سکھا رہی تھیں۔ عذرا نسیم، یوسف کیرائی اور شہروز حسین نے بچوں کو جنوبی ایشیائی موسیقی کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کی۔

میلے میں کتابوں کی رونمائی کی اپنی روایت کو برقرار رکھا گیا۔ عامرہ اسلم کی مرتب کردہ اڑن طشتری کے چوتھے ایڈیشن، فریدہ مرزا کی’سورج دی ٹائیگر کب ‘ کا اجراہوا۔ بچوں کے لیے رومانہ حسین کی چار کتابیں بھی رونمائی میں شامل تھیں۔

آرٹس کونسل کا اوپن ائر گراونڈز تفریحی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا تھا۔

’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘ جیسے بھاری عنوان سے پروگرام کا اہتمام آئی اے ٹی نے کیا۔ اس پروگرام میں بچوں نے کھُل کر باتیں کیں۔

بچے مختلف سٹالوں سے اپنی پسند کی کتابیں خرید رہے تھے۔ اکثر بچے یونیفارمز میں تھے۔

میلے کے لیے کھانوں کا پنڈال سی ایل ایف ڈھابا کے نام سے لگایا گیا تھا لیکن زیادہ توجہ کتابوں کو ہی حاصل تھی۔

کئی جگہ بڑی بچیاں چھوٹی بچیوں ہاتھوں اور گالوں پر دھل جانے والے رنگوں سےنقش نگار بنا رہی تھیں۔

پہلے روز کا آخری پروگرام معروف و مقبول گلوکار شہزاد رائے کا پروگرام تھا جس میں بچوں اور بڑوں نے کئی گانوں میں ان کا ساتھ دیا۔

اسی بارے میں