ہالی وڈ کی فلم ’نوح‘ پر مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ noah movie
Image caption ’یہ بہت اہم ہے کہ مذاہب کا احترام کیا جائے اور یہ فلم نہ دکھائی جائے‘

مشرق وسطیٰ کے تین ممالک متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین نے ہالی وڈ کی نئی فلم ’نوح‘ پر پابندی عائد کردی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے قومی میڈیا سینٹر کے جما اللیم نے کہا ’اس فلم کچھ مناظر ایسے ہیں جو اسلام اور بایبل کے خلاف ہیں اور اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس فلم پر پابندی عائد کردی جائے۔‘

فلم ’نوح‘ میں رسل کرو کو نوح کی کشتی تیار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

جما اللیم نے کہا ’یہ بہت اہم ہے کہ مذاہب کا احترام کیا جائے اور یہ فلم نہ دکھائی جائے۔‘

دوسری جانب مصر میں الاظہر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس فلم پر اس لیے تنقید کرتے ہیں کہ یہ اسلامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہے اور ممکنہ طور پر ’لوگوں کے جذبات مجروح کرے گی‘۔

اطلاعات کے مطابق اس فلم کو بنانے میں 125 ملین ڈالر لاگت آئی ہے اور اس کو امریکہ میں ٹیسٹ سکریننگ کے دوران اچھے ریویو نہیں ملے تھے۔

پیراماؤنٹ پکچرز کے بینر میں بننے والی اس فلم کے بارے میں پیراماؤنٹ پکچرز نے اعتراف کیا ہے کہ اس فلم کو ’آرٹسٹک لائسنس‘ ملا ہے۔

اس فلم کو جہاں مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا ہے وہیں قدامت پسند عیسائیوں سے بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پیغمبر اسلام کی کشتی پر بچوں کی کئی فلمیں اور کارٹون فلمیں بنی ہیں لیکن کسی میں بھی پیغمبرِ اسلام کا چہرہ نہیں دکھایا گیا۔

دیگر اسلامی ممالک کا بھی کہنا ہے کہ مشکل ہے کہ اس فلم کو سینسر بورڈ دکھانے کی اجازت دے۔

پاکستان سینسر بورڈ کے محمد ظریف کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ابھی تک یہ فلم نہیں دیکھی لیکن میرے خیال میں یہ فلم پاکستانی سینما گھروں میں نہیں دکھائی جائے گی۔‘

تیونس میں وزارت ثقافت کے ترجمان فیصل رخ نے کہا کہ ابھی تک ان کے پاس کسی فلم ڈسٹریبیوٹر کی جانب سے اس فلم کو دکھانے کی درخواست نہیں آئی ہے لیکن ایسی فلمیں دکھائی نہیں جاتیں جن میں پیغمبر اسلام کا چہرہ دکھایا گیا ہو۔

سعودی عرب اور غزہ میں سینما گھر نہیں ہیں لیکن مغربی کنارے میں ایک تھیٹر کے مینیجر کا کہنا تھا کہ انہوں نے نوح فلم آرڈر کی ہے۔

اس تھیٹر کے مینیجر کا کہنا تھا ’جس فلم پر اس خطے کے کئی ممالک نے پابندی عائد کردی ہے اس کو دیکھنے کا مزہ آئے گا۔ اس فلم کی پروڈکشن بہت عمدہ ہے اور کہانی بھی اچھی ہے۔‘