سلمان خان کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں: میرا چوپڑا

تصویر کے کاپی رائٹ Meera Chopra
Image caption میرا چوپڑہ نے اپنا فلمی کریئر جنوبی ہند کی فلموں سے شروع کیا

ہندی فلموں میں قدم رکھنے والی نئی اداکارہ اور پرینکا چوپڑہ کی رشتے دار میرا چوپڑہ کا کہنا ہے کہ وہ سلمان خان کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہیں۔

اگرچہ پرينیتی کی طرح وہ بھی پرینکا کی سگی بہن نہیں ہیں تاہم دور کے رشتے میں وہ ان کی بہن لگتی ہیں۔

بہر حال میرا چوپڑا کا خیال کہ پرینکا جیسی بڑی سٹار کی رشتہ دار ہونے کے باوجود انھیں بالی وڈ میں کوئی فائدہ نہیں ملا۔

بی بی سی کی مدھو پال سے خصوصی بات چیت کے دوران میرا نے کہا: ’پرینکا کی بہن ہونے سے بس یہ فائدہ ہوا کہ بالی وڈ میں لوگ آپ سے شائشتہ طریقے سے پیش آتے ہیں، بس اس سے آگے کچھ نہیں۔ یہاں لوگ بڑے پروفیشنل ہیں۔ سب کچھ خود کرنا پڑتا ہے۔‘

میرا چوپڑہ بالی وڈ کے سپر سٹار سلمان خان کی زبردست مداح ہیں۔ میرا نے کہا: ’سلمان تو کمال ہیں۔ میں ان کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ ان کے لیے كریزی ہوں۔ ان کے ساتھ فلم کرنے کو مل جائے تو مزا ہی آ جائے۔‘

میرا کی پہلی ہندی فلم ہے ’گینگ آف گوسٹس‘ جو 21 مارچ کو ریلیز ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے وہ کئی جنوبی بھارتی فلموں میں کام کر چکی ہیں۔

پرینیتی اور پرینکا سے تجاویز کے بارے میں میرا نے کہا: ’جنوبی بھارتی فلموں میں کام کرنے سے مجھے کافی تجربہ ہوا ہے۔ مجھے کسی کی تجاویز کی ضرورت ہی نہیں۔ مجھے پتہ ہے کہ بالی وڈ میں کیا کرنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ پرینکا یا پرینیتی سے زیادہ نہیں ملتی ہیں لیکن پرینکا کے کام سے ضرور متاثر ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’پرینکا بہت بڑی سٹار ہیں۔ انھوں نے ہر طرح کے کردار نبھائے ہیں، وہ کمال کی اداکارہ ہیں۔ میں دیپکا پاڈوکون کے کام سے بھی متاثر ہوں۔‘

میرا نے یہ بھی بتایا کہ وہ اکسپوز کرنے کے حق میں نہیں ہے: ’میں نے اب تک ایسے رول قبول نہیں کیے جن میں جسم کی نمائش ہو۔ میں ایسے رول کے لیے تیار نہیں ہوں . تنگ کپڑے پہننے والے رول مجھے منظور نہیں۔ بکنی پہننا بھی مجھے گوارا نہیں ہے۔ مستقبل میں بھی ایسے رول نہیں کروں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Meera Chopra
Image caption ان کا کہنا ہے کہ وہ جسم کے نمائش کرنا نہیں چاہتیں اور مستقبل میں اس سے پرہیز کرے گي

’گینگ آف گوسٹس‘ میں شرمن جوشی، ماہی گل، انوپم کھیر اور ایرانی جیسے فنکاروں کے بھی اہم رول ہیں۔ اس کے ڈائریکٹر ستیش کوشک ہیں۔

میرا نے بتایا کہ وہ فلموں میں نہیں آنا چاہتی تھیں بلکہ صحافی بننا چاہتی تھیں اور اس کے لیے امریکہ میں انھوں نے صحافت کا کورس بھی کیا۔

اس کے علاوہ میرا ماڈلنگ بھی کرتی تھیں اور ان کا ایک اشتہار دیکھ کر انھیں ایک تامل فلم کرنے کی پیشکش کی گئي اور اس طرح سے وہ فلموں میں آ گئیں۔

تاہم وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ شمالی ہندوستان سے تعلق رکھنے کے ناطے ہندی فلمیں ان کی پہلی پسند ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’میں نے جنوبی بھارتی فلموں میں کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ جب مجھے ہندی فلمیں مل رہی ہیں تو میں وہ فلمیں کیوں کروں جن میں آرام محسوس نہ کرتی ہوں۔ اب میں صرف بالی وڈ میں ہی پر فوکس کرنا چاہتی ہوں۔‘

اسی بارے میں