جاپان میں عربی خطاطی کی مقبولیت

Image caption جاپانی بچوں کو پرائمری سکول ہی سے خطاطی کی تربیت دی جاتی ہے

جاپان اور عرب دنیا روایتی طور پر ایک دوسرے سے کٹے رہے ہیں، اور بظاہر بیچ میں حائل وسیع و عریض سمندر کی وجہ سے دونوں تہذیبوں نے ایک دوسرے کو متاثر نہیں کیا۔

لیکن اب دیر آید درست آید کے مصداق یہ ثقافتی فاصلے کم ہو رہے ہیں۔

کوئیچی یامااوکا کیوتو، اوساکا اور کوبے میں عربی خطاطی کے لیے قائم کردہ خصوصی مراکز میں استاد ہیں، جہاں تین سو سے زیادہ جاپانی طلبہ کو عربی خطاطی سکھائی جاتی ہے۔

جاپان میں خود خطاطی کی طویل روایت موجود ہے، جاپانی بچوں کو پرائمری سکول ہی سے خطاطی کی تربیت دی جاتی ہے اور خطاطوں کو صدیوں سے جاپانی معاشرے میں اہم حیثیت دی جاتی رہی ہے۔

لیکن یامااوکا جاپانی خطاطی چھوڑ کر عربی کی جانب کیسے راغب ہوئے، اور دونوں فنون میں کیا قدرِ مشترک ہے؟

انھوں نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’دونوں فنون میں صرف ایک قدرِ مشترک ہے کہ دونوں میں الفاظ کو سیاہی سے سفید کاغذ پر لکھا جاتا ہے،‘ لیکن اس کے بعد ہر چیز مختلف ہے۔ جاپانی خطاطی قلم سے کی جاتی ہے، جب کہ عربی خطاطی سرکنڈے کے قلم سے۔

یامااوکا نے بتایا کہ جاپان میں سرکنڈا دستیاب تو ہے، لیکن یہ اتنا نرم ہوتا ہے کہ اس سے خطاطی کے لیے قلم نہیں تیار کیا جا سکتا، اس لیے وہ چھوٹے اور پتلے بانس سے بنائی گئی قلم استعمال کرتے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود کاغذ پر حروف کی نشست و برخاست سے ان کی معنی اجاگر کرنا اور دیکھنے والوں کے دل میں مخصوص تاثر پیدا کرنا دونوں فنون میں مشترک ہے۔

یامااوکا نے بتایا کہ ان کے اکثر طلبہ عربی زبان سے واقف نہیں ہیں، وہ صرف اس رسم الخط کی دل فریبی سے متاثر ہو کر اسے فن کارانہ انداز میں کاغذ پر اتارنے کا فن سیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن خود یامااوکا نے پہلے عربی زبان میں مہارت حاصل کی اور اس کے بعد خطاطی کی جانب راغب ہوئے۔

یامااوکا کس قسم کی تحریروں کو اپنے فن کا موضوع بناتے ہیں؟ وہ عام طور پر عربی اقوالِ زریں، مشہور فقروں یا اشعار کی خطاطی کرتے ہیں۔

عربی خطاطی مختلف خطوں میں کی جاتی ہے۔ یامااوکا اس بارے میں کہتے ہیں: ’میں نے خطِ نسخ سے شروع کیا، اور اس کے بعد خطِ رقعہ اور دیوانی میں بھی مہارت حاصل کی۔ اب میں خطِ ثلث سیکھنے کی مشق کر رہا ہوں۔‘

لیکن انھوں نے کہا کہ ’ثلث بےحد مشکل خط ہے اور اس کو سیکھنے میں وقت لگتا ہے۔‘ البتہ خود ان کا پسندیدہ خط نسخ ہے، جو ثلث سے قریب ہے۔

یامااوکا کے استاد فواد کوئیچی ہونڈا ہیں، جو جاپان کے سب سے مشہور عربی خطاط ہیں اور ان کے فن کی نمائشیں کئی اسلامی ملکوں میں بھی منعقد ہو چکی ہیں۔

یامااوکا اور فواد ہونڈا نے 2006 میں مل کر جاپان عربک کیلی گرافک ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی، جو جاپان میں عربی خطاطی کی ترویج کے لیے کام کر رہی ہے۔ ہونڈا تنظیم کے صدر اور یامااوکا اس کے جنرل سیکریٹری ہیں۔ اس وقت اس تنظیم کے ایک سو سے زیادہ ارکان ہیں۔

اسی بارے میں