میں سیاست کے لیے نہیں بنا: سنی دیول

تصویر کے کاپی رائٹ hoture images
Image caption سنی دیول نے کئی معروف فلمیں کی ہیں جن میں ’سوہنی مہیوال‘، ’یتیم، ’گھایل‘، ’غدر ایک پریم کتھا‘ وغیرہ شامل ہیں

بھارت میں پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر ہر جگہ سیاسی ہلچل نظر آ رہی ہے یہاں تک کہ اس دوران ریلیز ہونے والی فلموں کے پروموشن میں بھی انتخابات کے تعلق سے باتیں ہو جاتی ہیں۔

ممبئی میں ایک فلم کے پروموشن کے دوران معروف اداکار سنی دیول نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ سیاست کے لیے نہیں بنے ہیں۔

یاد رہے کہ ان کے والد اور اپنے زمانے کے معروف اداکار دھرمیندر بھی سیاست کے میدان میں اتر چکے ہیں جبکہ ان کی سوتیلی ماں ہیما مالنی تو بی جے پی کا معروف چہرہ تصور کی جاتی ہیں۔

سنہ 1983 میں فلم ’بیتاب‘ سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کرنے والے سنی دیول گذشتہ دنوں ممبئی میں فلم ’دھشکیاؤں‘ کے پروموشن کے لیے آئے تھے جس میں وہ ’لکوا‘ کا کردار نبھا رہے ہیں۔ وہاں انھوں نے بی بی سی سے بات کی۔

انتخابات کے بعد ملک میں وہ کس قسم کی تبدیلی دیکھنا چاہیں گے؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: ’تبدیلی پہلے ہم سب کو اپنے اندر لانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر چیز صحیح طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کوئی کام کرنے جا رہے ہیں اور وہ کام نہیں ہو پا رہا ہے ، تو ہمیں اس کے لیے رشوت نہیں دینی چاہیے۔‘

Image caption سنی دیول نے فلم بیتاب سے اپنے کریئر کی شروعات کی تھی

انھوں نے کہا: ’اگر آپ کسی قطار میں لگے ہوں تو اس قطار کو نہ توڑیں اور کوڑا کرکٹ ادھر ادھر نہ پھینکیں۔ اگر ہم یہ سب کریں اور کسی کی برائی نہ کریں تو ملک میں اپنے آپ ہی تبدیلی آ جائے گي۔‘

سنی دیول نے کئی معروف فلمیں کی ہیں جن میں ’سوہنی مہیوال‘، ’یتیم، ’گھایل‘، ’غدر ایک پریم کتھا‘، ’بورڈر‘ وغیرہ شامل ہیں۔

کیا سنی دیول کا فلموں سے سیاست میں آنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں؟ اس کے جواب میں سنی نے کہا: ’میں ابھی اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ کل کیا ہوگا، کوئی نہیں جانتا البتہ میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میں اس ڈھنگ کا آدمی نہیں ہوں اور میں سیاست کے لیے نہیں بنا ہوں۔‘

ٹی وی میں آنے کے سوال پر انھوں نے کہا: ’اگر ٹی وی میں مجھے کچھ ایسا شو ملے، جس میں ایک اچھی کہانی ہو اور اس کے کردار اچھے ہوں تو میں اس پروگرام کو ضرور کرنا چاہوں گا۔‘

واضح رہے کہ امیتابھ، سلمان، شاہ رخ، اور عامر خان جیسے بڑے اداکار ٹی وہ پر بھی موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Singh Saheb the great
Image caption سنی دیول بہت سی فلموں میں سکھ کے کردار میں نظر آئے ہیں

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ٹی پروگرام ’ستیہ مے و جیتے جیسے کسی پروگرام کا حصہ بننا چاہتے ہیں جس میں سماجی مسائل پر بحث کی جاتی ہے تو انھوں نے کہا: ’دیکھئے میں نے یہ شو نہیں دیکھا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ اگر کسی شو میں اچھی کہانی ہوگی تو میں اسے ضرور کرنا چاہوں گا۔‘

سنی دیول کا زور کہانی پر تھا لیکن کہا جاتا ہے کہ آج کل کہانی سے زیادہ اس کی پروموشن فلم کی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے۔ اس بات پر سنی دیول نے کہا: ’دیکھیے پبلسٹی پر ہی فلمیں نہیں چلتیں۔ پبلسٹی کو صرف بیداری پھیلانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس کے بعد ہی لوگوں کو آپ کی فلم کے ٹریلر اچھے لگیں گے، آپ کی فلم کی جھلک اچھی لگے گی تو وہ فلم دیکھنے آئیں گے۔ عوام کو اس وقت کیا کھانے کی خواہش ہے ، وہ پتہ نہیں۔‘

اسی بارے میں