بالی وڈ سیاسی فلموں سے کیوں بھاگتا ہے ؟

تصویر کے کاپی رائٹ prakash jha
Image caption راج نیتی فلم پرکاش جھا نے بنائی ہے

سیاستدانوں کی تقاریر، سیاستدانوں کے حیلے بہانے اور سیاستدانوں کے منصوبے یہ سب بھارت کی سیاست کو کافی ڈرامائی بنا دیتے ہیں، تاہم بھارت کی فلم انڈسٹری ان سیاسی ڈراموں کو پردۂ سیمیں پر پیش کرنے میں پس و پیش کرتی ہے۔

فلموں میں سیاسی مسائل تو ہوتے ہیں لیکن خالص سیاسی فلم مشکل سے ہی نظر آتی ہے۔

جب بھارت کے مشہور فلم ساز شیام بینیگل سے بی بی سی کے ویبھو دیوان نے یہ سوال کیا تو وہ بھی سوچ میں پڑ گئے۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعوے کے بعد بھی بھارت سیاسی فلمیں بنانے کے لیے تیار کیوں نہیں ہے؟

مختلف سماجی مسائل کو فلموں کا موضوع بنانے والے فلم ساز اور ہدایت کار شیام بینیگل نے کہا: ’ہمارے ملک میں سینسر کافی حساس ہے۔ اگر ہم نے ایک سیاسی فلم بنا بھی لی تو سینسر اپنی قینچی لیے کھڑا ہوگا۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسی بھی پارٹی یا کسی بھی برادری کے مقاصد اور ان کے نقطۂ نظر کو پردے پر دکھا کر لوگوں کے خیالات تبدیل کیے جائیں۔‘

پھر کیا طریقہ ہے پولیٹکل فلمیں بنانے کا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے بینیگل نے کہا: ’دیکھو اگر ایسی فلمیں بنانی ہی ہیں تو طنز اور ڈرامے کو ساتھ لینا پڑے گا کیونکہ یہاں براہِ راست سیاسی فلم بنانا اور بیچنا مشکل ہے۔ کوئی بھی پروڈیوسر ایسے موضوع پر پیسے لگانے سے پہلے تین بار سوچے گا اور اس لیے کوئی یہ خطرہ نہیں اٹھا سکتا۔ ایسا صرف بھارت میں ہی نہیں دنیا بھر میں ہے۔‘

شیام بینیگل نے مزید کہا: ’اگر کسی کو سیاسی فلم بنانا ہے تو دستاویزی فلم کی طرح سے بنایا جائے کیونکہ فیچر فلم بنانے میں زیادہ خطرہ ہے اور دستاویزی فلم وہی دیکھیں گے جنھیں سیاسی سنیما میں دلچسپی ہے۔‘

فلم ’شپ آف تھيسيس‘ بنانے والے آنند گاندھی آج کل ایک سیاسی ڈاكيومنٹری پر کام کر رہے ہیں۔ اس دستاویزی فلم میں عام آدمی پارٹی کی دہلی اسمبلی انتخابات میں کامیابی اور بھارت میں گذشتہ ایک سال کی سیاسی ہلچل کو کیمرے میں قید کیا گيا ہے۔

آنند گاندھی کہتے ہیں: ’بھارت میں فلم کا مطلب ہے جو آپ کو تفریح فراہم کرے، ناچ گانے والی فلمیں بنائیے۔ کوئی اپنی فلموں کے ذریعے کبھی ایک پارٹی یا ایک معاشرے کی سرگرمیوں پر تبصرہ یا رائے نہیں دے سکتا۔ کئی سالوں سے فلموں کا مطلب ہی تفریح ہو گیا ہے۔ پھر پولیٹکل سنیما کو کیسے جگہ ملے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ pr
Image caption شیام بینیگل نے کئی سماجی مسائل کو اپنی فلم کا موضوع بنایا ہے

انھوں نے مزید کہا: ’کئی ہندوستانی فلموں میں سیاسی گفتگو دکھائی جاتی ہے۔ جیسے کئی فلموں میں بے روزگاری، مہنگائی، بدعنوانی وغیرہ کو مرتکز کیا گيا ہے۔‘

موجودہ دور میں آنے والی فلم ’دیکھ تماشا دیکھ‘ کے ڈائریکٹر فیروز عباس خان اپنی فلم کو سیاسی طنزیہ قراردیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’سنیما دیکھنے والوں کا مقصد اپنی حقیقی دنیا کو بھول کر ایک خواب کی دنیا میں چلے جانا ہے۔ وہ اپنی زندگی کی مشکلات کو سنیما پر نہیں دیکھنا چاہتے اس لیے سیاسی سنیما کا چلن کم ہے۔‘

فیروز عباس سے جب ’اپہرن‘ اور ’راج نیتی‘ جیسی فلمیں بنانے والے ہدایتکار پرکاش جھا کی بات کی گئی تو انھوں نے کہا: ’پرکاش جھا کی تازہ فلموں میں گہرائی نہیں ہے۔ ان میں سب پرانا سا لگتا ہے۔ ان کی فلموں کی آنچ تو پولیٹکل ہے لیکن اندر کی کہانی عام ہوتی ہے، شاید وہ سمجھ گئے ہیں کہ مارکیٹ یہی چاہتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ feroz abbas khan
Image caption فلم ’دیکھ تماشا دیکھ‘ کے ڈائریکٹر فیروز عباس خان اپنی فلم کو سیاسی طنزیہ قراردیتے ہیں

سیاسی فلم بنانے کا موقع بھارت میں بہت کم لوگوں کو ملتا ہے ۔ عباس خان کہتے ہیں کہ ’ایک فلم کے ساتھ بہت سے لوگ جڑتے ہیں اور شاید ان میں سے کچھ کو اس پر یقین نہیں ہے۔ سیاسی موضوع پر مضمون لکھنا آسان ہے، ڈرامہ کرنا آسان ہے، پر فلم بنانا مشکل ہے۔‘

بھارت میں تقریبا‘ 80 کروڑ ووٹرز ہیں اور پولیٹکل فلمیں برائے نام ہی بنتی ہیں۔ دیوان کا کہنا ہے جب تک ہندوستانی سنیما پر سے یہ ناچ گانے والی فلموں کی مہر نہیں اٹھتی اور جب تک فلم سازوں کی سیاست جیسے اہم ایشوز پر فلم بنانے کی خواہش نہیں ہوگی تب تک یہ سوال اٹھتا رہے گا کہ سیاسی فلموں سے کیوں بھاگتا ہے بالی وڈ؟

اسی بارے میں