سیاستدان اور ’مرتد‘ نشانے پر

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سابق صدارتی امیدوار مہدی کرّابی ورچوئل بندوق کے نشانے پر

ایران میں ویڈیو گیمز کھیلنے والوں نے اپنی بندوقوں کا رخ ملک کے اعتدال پسند رہنماؤں اور ان کے گھر کے افراد کی جانب موڑ لیا ہے اور وہ اپنی ورچوئل بندوقوں سے ان کرداروں پر گولیاں برسا رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ’مختار کی واپسی‘ نامی ایک ویڈیو گیم کے دو کردار سنہ 2009 کے متنازعہ عام انتخابات میں ایران کی صدارت کے امیدواروں میر حسن موسوی اور مہدی کّرابی کے شبیہوں کو سامنے رکھ کے بنائےگئے۔

یاد رہے کہ انتخابات میں میر حسن موسوی اور مہدی کرّابی دونوں سابق صدر احمدی نژاد کے ہاتھوں شکست کھاگئے تھے اور یہ دونوں سنہ 2011 سے اپنےگھروں پر نظر بند ہیں۔

’مختار کی واپسی‘ میں کھیلنے والا مختلف تنگ راستوں سے نا صرف دونوں کرداروں کی شبیہوں کو گولی مار سکتا ہے بلکہ میر حسن موسوی کی اہلیہ زہرا راہنورد اور سابق صدر محمد خاتمی سمیت ایران کے دیگر معتدل رہنماؤں کو بھی گولیوں کا نشانہ بنا سکتا ہے۔

’مختار کی واپسی‘ نامی اس ویڈیو گیم کو انٹرنیٹ پر ’ہنرِ نابِ اسلامی‘ نامی ایک ویب سائٹ نے لانچ کیا ہے جو انٹرنیٹ پر اس قسم کا مواد متعارف کرانے کے لیے مشہور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ویڈیو گیم کے اس منظر میں کھیلنے والے نشانے پر میر حسن موسوی کا چہرہ ہے

اس گیم کے علاوہ ایران میں انٹرنیٹ پر ایک اور گیم بھی کھیلی جا سکتی ہے جس کا نام ہے ’مرتد کو مارنا‘۔ اس گیم میں کھیلنے والے کی گولیوں کا نشانہ جرمنی میں مقیم ایرانی ریپ سِنگر شاہین نجفی ہیں۔ یاد رہے کہ شاہین نجفی ایران میں سماجی موضوعات پرگانے گاتے ہیں اور ان گانوں میں وہ انتہاپسندوں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر ’مختار کی واپسی‘ کے حوالے سے بحت چھڑ چکی ہے، تاہم اس حوالے سے متضاد خبریں آ رہی ہیں کہ آیا یہ گیم ابھی تک انٹرنیٹ پر دستیاب ہے یا اسے ہٹا لیا گیا ہے۔

ایران کی ایک خبروں والی ویب سائیٹ کا کہنا ہے کہ جس بلاگر نے شروع شروع میں اس گیم کو اپ لوڈ کیا تھا اب اس نے اسے انٹرنیٹ سے ہٹا لیا ہے۔

اسی بارے میں