بےنظیربھٹو، قاتل بچ نکلا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’یہ بےنظیر بھٹو کے قتل اور ان کے عہد کے متعلق میرا ذاتی نقطۂ نظر ہےاور اقوام متحدہ یا تفتیشی کمیشن کے دیگر ارکان کے خیالات کا لازمی طور پر عکاس نہیں‘

نام کتاب: بے نظیر بھٹو، قاتل بچ نکلا

مصنف: ہیرالڈو میونوز (سربراہ ،اقوام متحدہ انکوائری کمیشن)

ناشر: نگارشات پبلشرز، 24 مزنگ روڈ، لاہور

صفحات: 185

قیمت:595 روپے

یہ کتاب بے نظیر بھٹوکےقتل کی تحقیقات کےلیے اقوامِ متحدہ کے قائم کردہ کمیشن کے سربراہ ہیرالڈو میونوز کا بیان ہے جسے اس قتل پر حرف آخر بھی قرار دیا جاتا ہے۔

ہیرالڈو میونوز کی اس رازوں بھری تحریر کو میں بیان اس لیے کہہ رہا ہوں کہ وہ خود کہتے ہیں: ’یہ بے نظیر بھٹو کے قتل اور ان کے عہد کے متعلق میرا ذاتی نقطۂ نظر ہےاور اقوامِ متحدہ یا تفتیشی کمیشن کے دیگر ارکان کے خیالات کا لازمی طور پر عکاس نہیں۔‘

اس کتاب پر بہت سے تبصرے ہوئے ہیں۔ این بی سی کے ٹام بروکاو کا کہنا ہے کہ ’یہ امریکہ کے اتحادی پاکستان میں اقتدار کی بلند ترین سطح پر دھوکے بازی، بدعنوانی اور قتل کا خون سرد کر دینے والا بیان ہے۔ یہ حکومت کے بھیس میں چھپی ٹریجڈی کی بھرپور تحقیق اور قائل کردینے والی کہانی ہے۔‘

افغانستان میں امریکہ کے سابق سفیر زلمے خلیل زاد کہتے ہیں: ’تاریخ میں قتل کی مشہور ترین وارداتیں جان ایف کینیڈی کے قتل سمیت بے نظیر بھٹو کی ہلاکت بھی افواہوں، قیاس آرائیوں اور شبہات کے پردے میں لپٹی ہے ۔۔۔ کھوج کی یہ کہانی پڑھنے میں نہایت دلچسپ ہے لیکن پاکستانی معاشرے اور اس کی سیاسی ثقافت کی نوعیت کے بارے میں مصنف کے خیالات کہیں زیادہ قابلِ قدر ہیں۔‘

’پیشگوئی کردہ قتل‘ کے عنوان سے قائم کیے گئے پہلے ہی باب میں مصنف ہمیں بتاتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو نے وطن واپسی سے کچھ ہی پہلے ایک پرواز کے دوران کہا تھا: ’ویسے بھی میں، چند ماہ میں مر جاؤں گی۔‘ وہ 18 اکتوبر 2007 کو واپس پاکستان پہنچیں اور 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے دروازے پر قتل کر دی گئیں۔

اتفاق یہ ہے کہ ان دنوں جب ہیرالڈو میونوز کی کتاب ’گیٹنگ اوے ود مرڈر‘ (Getting Away With Murder) کا اردو ترجمہ شائع ہوا ہے، ہیرالڈو میونوز چلی میں امورِ خارجہ کے سربراہ بنائے جا چکے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے ایک سابق اعلیٰ افسر نے کمیشن کو بتایا تھا کہ آئی ایس آئی نے بے نظیر قتل کی خود تفتیش کروائی اور ایک عسکریت پسند سیل سے چار مشکوک افراد کو پکڑا اور حراست میں رکھا لیکن ان کا کمیشن ان چار افراد کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ کر پایا۔

میونوز بتاتے ہیں کہ ان کے کمیشن کا کام بے نظیر کے قتل کے حقائق اور واقعات کو سامنے لانا تھا یہ کوئی ایسا ٹریبونل نہیں تھا جو مجرموں کا تعین کرتا۔

اپنے انتخاب کے بارے میں وہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا ملک چلی پاکستان کے بارے میں کوئی مخفی ایجنڈا یا تعصبات نہیں رکھتا شاید یہ بات اقوام ِمتحدہ اور اسلام آباد کی نظر میں مثبت تاثر رکھتی تھی۔

یہاں پاکستان اور چلی کے حوالے سے ایک اور بات کا حوالہ بے جا نہ ہوگا لیکن ہو سکتا ہے یہ محض تاریخی اتفاق ہو جس کا ذکر میونوز کی اس کتاب میں نہیں ہے۔

1973 میں جب جنرل پنوشے نے خونی مہم جوئی میں مقبول صدر سلواڈور آیندے کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کیا اورچلی کے طول و عرض پر سیاسی کارکنوں، دانش وروں، ادیبوں، طالب علموں، شاعروں اورمزدور رہنماؤں کا وسیع پیمانے پرقتلِ عام کا شروع کیا، تو اقوامِ متحدہ نے پاکستانی سفارت کار، شاعراورادیب جی الانہ (غلام علی الانہ) کی سربراہی میں ’چلی ٹرسٹ فنڈ‘ قائم کیا تھا۔

اقوام متحدہ کے اس ٹرسٹ فنڈ کی ذمّے داری فوجی آمریت سے متاثرہ خاندانوں کو مالی اور قانونی امداد فراہم کرنا اور چلی کے ڈکٹیٹر کے جرائم کومنظرِعام پر لانا تھا۔

جی الانہ نے دس ہزار صفحات پرمشتمل ایک طویل رپورٹ تیار کی تھی مگر یہ رپورٹ چلی کے عوام اور مقتول صدر سلواڈور آیندے کے ورثا کے لیےکسی بڑے فائدے کاسبب نہ بن سکی۔

یہ بات میرے علم میں اس لیے ہے کہ معروف صحافی اور اب جنگ گروپ کے ایڈیٹر نذیر لغاری ایک زمانے میں جی الانہ کی یادداشتیں ریکارڈ کر رہے تھے جو نوائے وقت کراچی میں سلسلہ وار شائع ہو رہی تھیں اور میں ان دنوں اخبار کے میگزین کا نگراں تھا۔

جی الانہ کے صاحبزادے پیار علی الانہ پیپلز پارٹی کے ابتدائی سرگرم لوگوں میں سے تھے۔ وہ کراچی سے 1970 کے انتخابات میں سندھ اسمبلی کے رکن اور پھر صوبائی وزیرِ تعلیم بھی بنے۔

بے نظیربھٹو کے قتل کی اس واردات کے حوالے سے جو کچھ بھی لکھا گیا ہے اُس میں سینیئر پاکستانی صحافی سہیل وڑائچ کی تصنیف ’قاتل کون…؟‘ بھی بڑی اہمیت حامل تصور کی جاتی ہے۔

آخر میں کتاب کے بارے میں پاکستان کے معروف صحافی احمد رشید کی رائے بھی جان لیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ میونوز بے نظیر کی بے وقت اور المناک موت کے ذمّے دار افراد کی نشاندہی کے قریب تر پہنچتے ہوئے پاکستان کی ابتر صورتِ حال اور اُس دوہرے معیار کو سمجھنے میں ہماری رہنمائی کرتے ہیں جو امریکہ کے ساتھ تکلیف دہ تعلقات میں اب تک قائم ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انکوائری کمیشن کے سربراہ کی اس کتاب کا اردو ترجمہ یاسر جواد نے کیا ہے اور باقاعدہ اجازت سے کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ یاسر کی مہارت کا ثبوت ہے، ہونا بھی چاہیے، کیوں کہ وہ اس شعبے میں سنچری بنا چکے ہیں اور اب تک کریز پر ہیں۔

کتاب طباعت کے بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔ ٹائٹل بہت پُرکشش ہے، البتہ کتاب کی قیمت آبادی کے اس طبقے کے لیے بہت زیادہ ہے، جو واقعی بے نظیر بھٹو کے قتل کی تفصیلات جاننا چاہتا ہو گا۔

اسی بارے میں