’محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنہ 1935 میں دہلی میں پیدا ہونے والی اقبال بانو کا انتقال 21 اپریل 2009 میں لاہور میں ہوا

سنہ 1985 میں پاکستان کے سابق صدر ضیا الحق کی حکومت نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر فیض احمد فیض کی تخلیقات پر غیر اعلانیہ پابندی لگائی ہوئی تھی۔

انتظامیہ نے بہت مشکل سے فیض کی سالگرہ منانے کی اجازت دی تھی اور اسی موقع پر لاہور کے الحمرا ہال میں اقبال بانو نے فیض کو گانا تھا۔

جنرل ضیا کے پاکستان میں نہ صرف فیض پر پابندی تھی بلکہ عورتوں کے ساڑھی پہننے کو بھی پسند نہیں کیا جاتا تھا۔

اقبال بانو اس دن الحمرا ہال میں سلک کی ساڑھی پہن کر آئی تھیں اور پوری انتظامیہ کو نظر انداز کرتے ہوئے انھوں نے ’ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘، گایا اور پورے لاہور نے ان کے ُسر میں ُسر ملائے تھے۔

پاکستان کی نامور گلوکارہ ٹینا ثانی ان خوش قسمت لوگوں میں تھیں جو اس دن الحمرا ہال میں موجود تھیں۔

ٹینا ثانی بتاتی ہیں: ’لوگ اتنے زیادہ تھے کہ ہال کے دروازے کھول دیے گئے۔ لوگوں کے مطالبے پر باہر مال روڈ پر بھی لاؤڈ سپیکر لگائے گئے تھے۔ جیسے ہی اقبال بانو نے ’ہم دیکھیں گے‘ گانا شروع کیا، لوگ کھڑے ہو گئے اور ان کے ساتھ گانے لگے۔ لوگوں کے جوش کو کم کرنے کے لیے پولیس نے ہال کی بتیاں بجھا دیں لیکن اقبال بانو نے تب بھی گانا جاری رکھا اور ان کے ساتھ ہزاروں افراد پر مشتمل مجمعے نے بھی۔‘

وہ بتاتی ہیں،’اس دن میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو مکمل طور پر پاگل ہوتے دیکھا۔ مجھے یاد نہیں کہ انھوں نے اسے کتنی دیر تک گایا لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ یہ گانا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا جب بھی وہ اسے ختم کرنے کی کوشش کرتیں تو لوگ ان کے ساتھ گنگنانے لگتے۔ بعد میں یہ گانا ان کا ٹریڈ مارک بن گیا تھا۔ جہاں بھی وہ جاتی تھیں، اس گانے کی فرمائش سب سے پہلے ہوتی۔‘

اس گیت کو گانے کی سزا اقبال بانو کو یہ ملی کہ ان پر پاکستان کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر پابندی لگا دی گئی۔ پابندی تو لگی لیکن ان کے نغموں کے ٹیپ بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے لگے۔ سرکاری پابندی کے باوجود وہ لوگوں کے گھروں میں خاص محفلوں میں حصہ لیا کرتی تھیں اور کہا جاتا ہے کہ کئی بار صدر ضیا کے جنرل سادہ کپڑوں میں آ کر اقبال بانو کی گائیگی سے لطف اٹھایا کرتے تھے۔

سنہ 1935 میں دہلی میں پیدا ہونے والی اقبال بانو کا بچپن روہتک میں گزرا تھا۔ انھوں نے موسیقی کی تعلیم دہلی گھرانے کے استاد چاند خان سے لی۔ سنہ 1952 میں 17 سال کی عمر میں وہ پاکستان چلی گئیں جہاں ان کی ایک زمیندار گھرانے میں شادی ہوئی لیکن انھوں نے دہلی کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا۔

دہلی گھرانے کے خلیفہ اقبال احمد کہتے ہیں: ’ہم ان کو باجی بلاتے تھے۔ انھوں نے ہمارے نانا سے موسیقی سیکھی۔ وہ جب بھی بھارت آتی تھیں ہمارے یہاں ہی رکتی تھیں۔ جب بھی وہ شام کو بور ہو جاتی تھیں، مجھ سے کہتی تھیں کہ مجھے دہلی گھمانے لے چلو۔ میرے پاس ان دنوں ایک پرانی کار ہوا کرتی تھی اور مجھے انھیں اس پر بٹھانے میں شرم آیا کرتی تھیں لیکن وہ ہنس کر کہا کرتی تھیں کہ دل بڑا ہونا چاہیے۔‘

اقبال بانو بھارت اور پاکستان کے ساتھ ساتھ ایران اور افغانستان میں بھی اتنی ہی مقبول تھیں۔ سنہ 1979 سے پہلے وہ ہر سال کابل کے ثقافتی میلے ’جشنِ کابل‘ میں حصہ لیتی تھیں، وہیں ایک بار افغانستان کے شاہ ظاہر شاہ نے انھیں ایک سونے کا گلدان پیش کیا تھا۔

کچھ موسیقی پنڈتوں کا خیال ہے کہ اقبال بانو اور بیگم اختر کے گانے میں کافی مماثلت ہے۔

امن ہیراند کہتی ہیں: ’اقبال بانو بیگم اختر کو بہت پسند کرتی تھیں۔ غزلوں کی ادائیگی، اسے کہاں توڑنا چاہیے، یہ فن بیگم اختر کے بعد کسی میں تھی تو اقبال بانو میں تھی۔ وہ خیال سیکھے ہوئے تھیں اور اسی انداز میں گاتی تھیں۔‘

یوں تو فیض احمد فیض کو کئی گلوکاروں نے گایا ہے لیکن ان کی غزلوں کو امر کرنے کا سہرا جتنا اقبال بانو کو جاتا ہے اتنا شاید کسی کو بھی نہیں.

فیض کی بیٹی سليمہ ہاشمی کہتی ہیں: ’وہ اکثر ہمارے گھر پر گایا کرتی تھیں۔ انھوں نے پہلی بار 1981 میں فیض کو اس وقت گانا شروع کیا تھا جب وہ بیروت میں جلاوطنی میں رہ رہے تھے۔ ہمارے خاندان کے لوگوں کے دلوں اور دماغ میں ان کے لیے ہمیشہ ایک خاص جگہ رہے گی۔‘

اسی بارے میں