دی لائف اینڈ ٹائمز آف اے بی ایس جعفری

Image caption جعفری صاحب کے دست راست اور ساتھی نعیم مرزا نے کتاب میں ان کی پیشہ ورانہ زندگی پر انتہائی اچھے انداز میں روشنی ڈالی ہے

ٹائٹل: دی لائف اینڈ ٹائمز آف اے بی ایس جعفری

مرتب کردہ۔ عروج جعفری،

ایڈٹنگ: ایم الیاس خان

ناشر: جمہوری پبلکشنز، ایوان تجارت روڈ، لاہور

صفحات: 104

قیمت: چار سو روپے

صحافت کے ابتدائی برسوں میں پاکستان کے چند بہترین مدیروں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ انتہائی پیشہ ور عزیز صدیقی مرحوم، حسن مثنا اور اے بی ایس جعفری ان میں سے چند ہیں۔ خلش صرف اتنی ہے کہ ان کے ساتھ زیادہ وقت بتانے کا موقع نہیں مل پایا۔ نئے صحافیوں کے لیے ان مدیروں کے نام ہی اتنے وزنی ہوتے تھے کہ میرے جیسوں کی جرات نہیں ہوتی تھی ان کے ساتھ بات کرنے کی۔ انہیں ہی اگر کچھ پوچھنا ہو یا طلب کرنا ہو تو مل لیتے تھے ورنہ نہیں۔

یہی رعب اور دبدبہ وجہ تھی کہ اے بی ایس جعفری جیسی شخصیت کا اصل نام بھی آج تک معلوم نہیں تھا۔ ان دنوں میرے لیے بس ’جعفری صاحب‘ ہی کافی تھا جو کسی زمانے میں ملک کے سب سے بڑے اخبار ’پاکستان ٹائمز‘، عرب دنیا کے سب سے پرانے اخبار ’دی کویت ٹائمز‘ اور ’دی مسلم‘ کے ایڈیٹر رہ چکے تھے۔

یہ 1992،93 کی بات ہے۔ پشاور سے اسلام آباد انگریزی اخبار کے دفتر میں تبادلہ ہوا۔ جی ایٹ میں ایک عمارت کی پہلی منزل پر آج بھی قائم اس اخبار کے دفتر کے ایک کونے میں ایڈیر کا کمرہ تھا۔ اے بی ایس جعفری صاحب اپنی پیشہ ورانہ صحافتی زندگی کے آخری ایام میں اس بڑے سے شیشے والے کمرے میں بیٹھا کرتے تھے۔ بولنے سے انہیں تکلیف ہوتی تھی لہذا زیادہ بات کرنے کا بھی موقع نہیں ملتا تھا۔ بس ان کی ہدایات مل جایا کرتی تھیں۔

اس سے زیادہ مجھے ان کے بارے میں کچھ یاد نہیں پڑتا۔ لیکن اب اس نئی کتاب کے ذریعے ان کی پچاس سالہ طویل صحافتی زندگی قبل از موت جاننے کا انتہائی اچھا موقع ملا ہے۔ ان کی وفات کے ایک دہائی کے بعد اس کتاب کے سامنے آنے سے یہ خفت بھی ہوئی کہ جعفری صاحب کا اصل نام اختر بن شاہد تھا لیکن پھر بھی دیر آئید درست آئید یہ کتاب صحافیوں کی نئی پود کے لیے اہم ثابت ہوگی۔

ویسے تو جعفری صاحب خود تیرہ کتابوں کے مصنف رہ چکے ہیں لیکن ان کی اپنی زندگی کے نشیب و فراز پر ’دی لائف اینڈ ٹائمز آف اے بی ایس جعفری‘ ایک اچھی کوشش ہے۔ اس کا سہرا بی بی سی اردو سروس کی سابق ساتھی اور جعفری صاحب کی بھتیجی عروج جعفری کو جاتا ہے۔

یہ کتاب ان کی زندگی میں ان کے ساتھ وقت گزارنے والوں کے تاثرات پر مبنی ہے۔ ان کی بیگم رقیہ جعفری کے علاوہ اس میں وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز، سابق صدارتی ترجمان اور پیپلز پارٹی کے سینٹر فرحت اللہ بابر، حقوق انسانی کے سینر کارکن آئی اے رحمان، جاوید جبار اور مجاہد بریلوی جیسی اہم شخصیات نے جعفری صاحب کی زندگی پر روشنی ڈالی ہے۔

ان کی بیگم نے لکھا کہ جعفری صاحب کو پہلی نظر میں ان سے پیار ہوگیا تھا۔ وہ شادی کے متمنی تھے لیکن وہ انکار کرتی رہیں۔ لیکن پھر ان کی مستقل مزاجی کام آئی اور انہوں نے انہیں شادی پر آمادہ کر دیا۔ یہی مستقل مزاجی ہے جو صحافت میں بھی انہیں نصف سنچری مکمل کرنے میں کامیاب کرواسکی ہے۔ چھبیس سال کی بھاگم دوڑ صحافت کے بعد خود کو تھکا تھکا محسوس کرتا ہوں معلوم نہیں اس وقت کے صحافی پچاس سال کیسے مکمل کرلیتے تھے۔ اس کتاب کی ایک مختصر تشنگی اس میں ان کا پاکستان آبزرور کی مدیرت کا ذکر نہ ہونا ہے۔

جعفری صاحب کے دست راست اور ساتھی نعیم مرزا نے کتاب میں ان کی پیشہ ورانہ زندگی پر انتہائی اچھے انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ کس طرح جعفری صاحب اخبار مالکان کو صحافت سے دور رکھتے تھے۔ کس طرح ایڈیٹر اس وقت نیوز روم کے امین ہوتے تھے اور اس کا فائدہ کیا ہوتا تھا۔ ٹریبیون اخبار میں انہوں نے نیوز روم کے باہر ایک اعلان چسپاں کروا دیا۔

لکھا تھا: مسٹر محمود سپرا، پبلشر اور چیف ایگزیکیوٹو دی ٹریبیون، کا رات نو بجے کے بعد نیوز روم میں داخلہ بند ہے۔’ آج کے ٹی وی چینل کیا اس قسم کا ایڈیٹر برداشت کرسکیں گے؟

یہ کتاب انہیں صحافی یا مدیر کے طور پر ثابت نہیں کرتی صرف انہیں یاد کرنے کا بہانہ ہے۔ اور ایسے تجربہ کار اور محنتی شخص کو یاد رکھنے میں ہی ہم جیسے پیروکاروں کی خیر ہے۔

اسی بارے میں