ایفا ایوارڈز: ’وار‘ اور ’زندہ بھاگ‘ بہترین فلم قرار پائیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFA
Image caption تقریب کی خاص بات ماضی کی معروف اداکارہ بابرہ شریف کا رقص تھا

کراچی میں اتوار کی شب ہونے والے پہلے اے آر وائی فلم ایوارڈز کی تقریب میں زندہ بھاگ اور وار بہترین فلم قرار پائیں۔

وار کو ناظرین کی پسند جبکہ زندہ بھاگ کو جیوری کی جانب سے بہترین فلم قرار دیا گیا۔

یاد رہے کہ زندہ بھاگ پہلی پاکستانی فلم ہے جو آسکر ایوارڈز کے لیے پاکستان کی جانب سے بھیجی گئی تھی۔

ان ایوارڈز کو ’ایفا‘ کا نام دیا گیا جس کے بارے میں مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بالی وڈ کے آئیفا سے ملتا جلتا نام رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس تقریب کی میزبانی کے فرائض شان نے ادا کیے جبکہ اداکارہ ثروت گیلانی، عائشہ عمر اور اداکار حمزہ علی عباسی اور فہد مصطفیٰ نے معاونین کے فرائض انجام دیے۔

تقریب کے دوران کچھ تلخی بھی پیدا ہوئی جب اداکار شان نے کہا کہ وہ بھارت جا کر بکنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جس پر علی ظفر نے کہا کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور اسے لکیروں سے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFA
Image caption آمنہ الیاس اور خرم پطرس نے فلم زندہ بھاگ کے گانے پر پرفارم کیا

یہ تقریب کافی تاخیر سے شروع ہوئی جس کے باعث اختتام بھی بہت دیر ہوا۔ ریڈ کارپٹ کے بعد تقریب کا آغاز ساڑھے دس بجے کے بعد ہوا جو صبح ساڑھے چار بجے تک جاری رہی۔ رات 12 بجے ہی سے حاضرین کی تعداد میں کمی آنی شروع ہوگئی تھی جو چار بجے تک مایوس کُن حد تک کم ہو چکی تھی۔

تقریب کی خاص بات ماضی کی معروف اداکارہ بابرہ شریف اور صائمہ کا رقص تھا۔ تاہم حاضرین نے نور کے پیش کردہ دھمال کو سب سے زیادہ پسند کیا۔

منتظمین نے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ تمام پرفارمنسز صرف پاکستانی گانوں پر ہی کی جائیں جس میں ماضی کے کئی مشہور گانے بھی شامل تھے۔

ایوارڈز تو حسب توقع سب سے زیادہ فلم ’وار‘ ہی کے حصے میں آئے۔ وار کو ناظرین کی پسند کی کیٹیگری میں بہترین فلم، بہترین اداکار شان شاہد، بہترین اداکارہ عائشہ خان، بہترین ہدایتکار بلال لاشاری کے ساتھ ساتھ بہترین معاون اداکار حمزہ علی عباسی اور بہترین معاون اداکارہ میشا شفی کے ایوارڈ دیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFA
Image caption اداکارہ نور کے دھمال کو بہت پسند کیا گیا

فلم وار ہی کے لیے شمعون عباسی کے منفی کردار میں بہترین اداکاری کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا جبکہ اس کیٹیگری میں زندہ بھاگ کے لیے نصیرالدین شاہ بھی نامزد تھے۔

اپنی پہلی ہی فلم میں بہترین اداکاری کے لیے فلم وار کی ہیروئن عائشہ خان کو جبکہ حمزہ علی عباسی کو فلم ’میں ہوں شاہد آفریدی‘ کے لیے ایوارڈ دیاگیا۔

فلم زندہ بھاگ کی ہیروئن آمنہ الیاس کو بہترین اداکارہ کا جیوری ایوارڈ دیا گیا۔ جیوری کی جانب سے بہترین اداکار فلم ’میں ہوں شاہد آفریدی‘ کے لیے ہمایوں سعید جبکہ بلال لاشاری کو بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ ملا۔ فلم ’زندہ بھاگ‘ کو بہترین کہانی کا جیوری ایوارڈ بھی ملا۔

موسیقی کی بات کریں تو راحت فتح علی خان کو فلم ’زندہ بھاگ‘ کے لیے ایوارڈ ملا جبکہ بہترین موسیقی کا ایوارڈ فلم ’میں ہوں شاہد آفریدی‘ کے حصے میں آیا۔

بہترین مزاحیہ اداکاری کا ایوارڈ بھی فلم ’میں ہوں شاہد آفریدی‘ کے لیے اسماعیل تارا کو ملا۔

علی ظفر کو پاکستانی موسیقی کے فروغ کے لیے خدمات انجام دینے پر خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFA
Image caption اداکارہ صائمہ ڈانس پرفارمنس کے دوران

پاکستان کی فلمی صنعت کے مشہور و معروف اداکار ندیم بیگ کو ان کی کئی دہائیوں پر مبنی خدمات کے صلے میں ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ دیا گیا تو لوگوں نے کھڑے ہوکر ان کے لیے تالیاں بجائیں۔

تقریب کے آخر میں اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال نے بتایا کہ آئندہ سال یہ ایوارڈز لندن میں ہوں گے اور اس کے لیے انھوں نے ابھی سے ہی لندن کا رائل البرٹ ہال بُک کرا لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFA
Image caption اداکار ہمایوں سعید نے بھی ڈانس کیا