بچوں کی جیل سے فلمی اعزاز تک کا سفر

تصویر کے کاپی رائٹ Holybull Entertainment
Image caption شری رام ڈالٹن صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے ایوارڈ لیتے ہوئے

شری رام ڈالٹن کو صرف ساڑھے 14 سال کی عمر میں ’ریپ کی کوشش‘ کے لیے سزا کے طور پر چھ ماہ بچوں کے اصلاح گھر یا دوسرے لفظوں میں بچوں کی جیل میں رہنا پڑا تھا۔

اس واقعے نے ان کی زندگی کو اس راہ پر ڈال دیا جس پر چل کر انھوں نے گذشتہ سنیچر کو بھارت کے صدر پرنب مکھرجی سے قومی ایوارڈ حاصل کیا۔

ڈالٹن کو یہ ایوارڈ ان کی مختصر فلم ’دا لوسٹ بہروپيا‘ کے لیے بہترین فن و ثقافت کے زمرے میں دیا گیا ہے۔ اسی تقریب میں معروف نغمہ نگار گلزار کو دادا صاحب پھالکے اعزاز سے نوازا گیا۔

آج شری رام کو لگتا ہے کہ اگر ’سسٹم‘ کو سمجھنا ہے تو ’جیل‘ ضرور جانا چاہیے۔

ڈالٹن کی مختصر فلم ’دا لوسٹ بہروپيا‘ ایک بہروپیے یا سوانگ بھرنے والے فن کار کی کہانی ہے جو فن ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ اس فلم میں کم یاب ہوتے ہوئے ان فنکاروں کی کہانی پیش کی گئی ہے۔

فلم کے بارے میں شری رام بتاتے ہیں: ’یہ ایک ایسے بہروپیے آرٹسٹ کی کہانی ہے جو 12 طرح کے سوانگ بھرنے کا ماہر ہے اور انہی بہروپوں کے سہارے زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ اس آرٹسٹ کا جو انجام دکھایا گیا ہے وہی فلم کی کہانی ہے۔‘

فلم کی طرح شری رام کی اصل زندگي کی کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ انھوں نے یہ کہانی جذبات سے عاری انداز میں بتائی۔

جس واقعے کے باعث انھیں اصلاح گھر جانا پڑا، انھوں نے اس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا: ’سماج کا ایک ایسا ڈھانچہ بن چکا ہے کہ محبت کرنے سے روکے جانے کے تمام رواج، تمام قوانین، نام نہاد کلچر جیسی بہت سی چیزوں کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ بچپن سے آپ کو بتایا جاتا ہے کہ محبت سے دور رہنا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’بچپن سے آپ کو بتایا جاتا ہے کہ لڑکیوں سے دور رہنا ہے۔ 14 سال کی عمر میں آپ محبت کر رہے ہیں۔ لڑکی بھی تقریباً اسی عمر کی ہے۔ آپ دونوں میں تجسس ہے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں: ’آپ اسے چھونا چاہتے ہیں، وہ آپ کو ٹچ کرنا چاہتی ہے۔ آپ ایک دوسرے کو چھو رہے ہوں تبھی ماں آ کر ہنگامہ برپا کر دے۔ یہ بات عام ہو جائے۔ پھر آپ سماج کی چکی میں پس کر رہ جاتے ہیں اور اس چکی سے آپ ایک پروڈکٹ بن کر نکلتے ہیں۔ تو اس طرح میں اس سماج کا چلتا پھرتا پروڈکٹ ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Holubull Entertainment
Image caption ڈالٹن کو یہ ایوارڈ ان کی مختصر فلم ’دا لوسٹ بہروپيا‘ کے لیے بہترین فن و ثقافت زمرے میں دیا گیا

اس بابت رام نے زیادہ نہ کھلتے ہوئے بھی اشاروں میں ہی اپنی بات کہہ دی۔

وہ کہتے ہیں: ’جس شہر میں آپ کا بچپن گزرا ہو، اسی شہر میں پولیس والے 25 فٹ لمبی رسی میں باندھ کر آپ کو ہر چوک پر گھما رہے ہیں۔۔۔ آخر کار ایک 14 سالہ لڑکے کے ساتھ یہ کیا کیا جا رہا تھا؟ آخر آپ اسے کیا بنانا چاہتے تھے؟

ڈالٹن کو جس اصلاحی مرکز میں رکھا گیا تھا وہ بالغوں کی جیل ہی کے ایک حصے میں تھا۔ وہاں کے تجربات کے بارے میں انھوں نے مختصراً بتایا: ’میں نے دیکھ لیا کہ سسٹم کیسی بےوقوفی کرتا ہے۔ میں نے جیل میں ہر طرح کے کردار دیکھے، مجھ سے کم عمر کے، مجھ سے زیادہ عمر کے، میں طرح طرح کے لوگوں سے ملا۔ وہاں میں نے سمجھا کہ جرم کیا ہے، نظام کیا ہے۔ ایسی ہی بہت سی دوسری باتیں میں نے وہیں سمجھیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Holybull Entertainment
Image caption دا لوسٹ بہروپیا کو ایوارڈ بھارت کے 61 ویں قومی ایوارڈ میں دیا گیا ہے

اس اصلاح گھر سے باہر کی دنیا کو شری رام ’دوسری جیل‘ کہتے ہیں۔

اصلاح گھر سے باہر آنے کے بعد کی زندگی کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’باہر آنے کے بعد میں ہر جگہ سے باہر کر دیا گیا تھا۔ میں سماج کے حاشیے پر پہنچا دیا گیا تھا۔ لیکن حاشیہ پر کر دیے جانے سے آپ کے اندر ایک نقطۂ نظر پیدا ہوتا ہے۔ میں ایک جیل سے نکل کر دوسری جیل میں آ گیا تھا۔ میرے لیے یہ ایک نئے جنم کی طرح تھا۔‘

اصلاح گھر سے نکلنے کے بعد ڈالٹن کو فن کی دنیا میں پناہ ملی اور فن کی راہ انھیں بنارس ہندو یونیورسٹی کے فائن آرٹس کے شعبے تک لے آئی۔ فنونِ لطیفہ کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے انھیں فوٹوگرافی سے عشق ہو گیا۔

اپنی اس محبت کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’میں نے فوٹو گرافی سیکھ لی۔ ملک میں گھوم پھر کر تصویریں کھینچنے لگا۔ ایک بڑے سٹوڈیو میں نمائش کی لیکن اس کے بعد سمجھ میں آ گیا کہ گیلری ویلری میرے لیے نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Holybull Entertainment
Image caption فلم میں دکھایا جانے والا بہروپیا 12 قسم کے سوانگ بھرنے کا ماہر ہے

فوٹوگرافی سے اچانک فلم کی طرف آنے کی ان کی کہانی بھی فلمی ہے۔ ان کے کسی دوست نے کہا کہ تم فائن آرٹس کے آدمی ہو تو تمھیں ’موکش‘ فلم ضرور دیکھنی چاہیے۔ اس فلم کی ہدایات مشہور سینیماٹوگرافر اشوک مہتا نے دی تھیں۔ فلم نے شری رام پر جادوئی اثر کیا۔ انھوں نے فلم دیکھتے ہی طے کر لیا کہ انھیں سینیماٹوگرافر بننا ہے اور پھر وہ اس راہ پر چل پڑے جہاں اعزاز و اکرام ان کے منتظر تھے۔

اسی بارے میں