میں نے رنبیر کپور کے باپ کو نچوایا: سبھاش گھئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سبھاش گھئی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سٹار اداکاروں کے ساتھ نئے اداکاروں کو بھی موقع دیتے ہیں

بالی وڈ کے معروف اداکار سبھاش گھئی نے كالی چرن، قرض، کرما، سوداگر، پردیس، رام لكھن، اور تال جیسی ہٹ فلمیں دی ہیں۔

وہ نہ صرف اپنی ان فلموں کے لیے جانے جاتے ہیں، بلکہ اپنے مخصوص ’ٹریڈ مارک انداز کے ساتھ وہ اکثر فلم کے کسی نہ کسی سین میں بھی ضرور نظر آتے ہیں۔

تاہم گذشتہ برسوں میں ان کی فلموں نے زیادہ تر لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ حال ہی میں ان کی فلم كانچي ریلیز ہوئی۔ اس موقعے پر بی بی سی کی وندنا نے سبھاش گھئی سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

’کچھ عرصے سے آپ نے فلمیں بنانی کم کر دی ہیں اور بلیک اینڈ وائٹ، یوراج، كانچي جیسی چند فلمیں ہی بنائیں۔‘

’جی ہاں، یہ صحیح ہے کہ اب ہدایت کاری کا کام کم ہو گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہے میرا انسٹی ٹیوٹ، جہاں ہم نئی نسل کو سینیما کے ہنر سکھاتے ہیں۔

’زندگی میں ایک پڑاؤ پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ جس انڈسٹری نے ہمیں اتنا کچھ دیا تو بدلے میں ہمیں بھی کچھ دینا چاہیے۔ زیادہ تر وقت انسٹی ٹیوٹ میں گزرتا ہے۔ حال ہی میں فلم كانچي بنائی تھی۔

Image caption سبھاش گھئی آج کل اپنا زیادہ تر وقت اپنے انسٹی ٹیوٹ کو دیتے ہیں

’معروف اداکاروں کے ساتھ ساتھ آپ ہمیشہ سے اپنی فلموں میں نئے یا ابھرتے ہوئے فنکاروں کو بھی جگہ دیتے رہے ہیں۔ جیکی شراف ہوں یا پھر مادھوری دکشت ہوں۔ اتنی پارکھ نظر کہاں سے لاتے ہیں؟‘

’پارکھ نظر کی بات نہیں ہے۔ آپ کردار کے حساب سے فنکار کا انتخاب کرتے ہیں۔ جب میں فلم پردیس بنا رہا تھا تو کئی لوگوں نے کہا کہ سارے بڑے نام لو لیکن میں نے اپورو اگنی ہوتري کو لیا، مہیما چودھری کو لیا۔ کئی بار رول کے مطابق اداکار تلاش کرنے میں وقت لگتا ہے لیکن وہ جو بھی ہو کردار سے مطابقت رکھتا ہو۔‘

’آپ کی فلموں کے نغمے کافی مشہور رہتے ہیں۔ آج نغموں اور موسیقی کا کتنا کردار ہے سینیما میں؟‘

’موسیقی کو میں بہت ضروری سمجھتا ہوں۔ یہ ضرور ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ اب چیزیں بدل گئی ہیں۔ اب فلموں میں گانوں کی تعداد کم ہو گئی ہے، پہلے خوب لمبے لمبے نغمے ہوتے تھے اب نغمے چھوٹے ہو گئے ہیں لیکن موسیقی کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔ سنیما بھی بدل رہا ہے۔ ہر طرح کی فلمیں بن رہی ہیں۔۔۔ مین سٹریم بھی، کم بجٹ کی بھی، یہ اچھی بات ہے۔‘

Image caption سبھاش گھئی کا کہنا ہے کہ انھیں فلم انڈسٹری میں جو ساکھ حاصل ہے وہی ان کی کمائی ہے

’آپ نے رشی کپور کے ساتھ فلم قرض میں کام کیا تھا۔ اتنے سالوں بعد 2014 میں یہ ملاپ کیسا رہا؟‘

’بابا کے ساتھ اتنے سالوں بعد پھر کام کیا، بڑا مزا آیا۔ انھوں نے میری تازہ فلم كانچي میں اداکاری کی ہے۔ انھیں لوگوں نے عام طور پر رومانٹک رول میں دیکھا ہے تو سوچا اس کچھ الگ کروایا جائے۔ لوگ آج کل رنبیر کپور کو ڈانس کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، میں نے رشی کپور سے ڈانس کروایا۔ نئی نسل بھی تو دیکھے کہ رنبیر کا باپ کیا کمال کر سکتا ہے۔‘

’آپ واحد ایسے ہدایت کار ہیں جنھوں نے دلیپ کمار اور راج کمار کو ساتھ کام کرنے کے لیے راضی کیا۔ زیادہ تر بڑے ناموں کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔ فنکاروں کے ساتھ اتنے اچھے تال میل کا راز کیا ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ colors pr
Image caption سبھاش گھئی نے مادھوری دکشت جیسی اداکارہ کو متعارف کروایا

’ہدایت کار کا کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے فنکاروں کو سمجھے۔ میں ان کا احترام کرتا ہوں اور بدلے میں وہ بھی مجھے پیار کرتے ہیں۔ ہدایت کار کا کردار کبھی کبھی ماں جیسا ہوتا ہے۔ اتنے سال ہو گئے انڈسٹری میں، یہی ساکھ میری کمائی ہے۔‘

’آپ کی ایک جھلک اکثر لوگوں کو فلموں میں مل جاتی ہے اس کی کوئی خاص وجہ؟‘

’بس فلموں میں شائقین کے لیے آتا ہوں۔ میں کسی نہ کسی سین میں نظر آ جاتا ہوں۔ اس بار كانچي میں ایک نغمے میں ہوں۔ لوگوں کو انتظار رہتا ہے کہ کب نظر آؤں گا۔‘

اسی بارے میں