بالی وڈ اداکاروں کی اپیل، اشتعال انگیز فلمیں نہ بنائی جائیں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بالی وڈ اداکار اور اداکارہ ہیما مالنی، دھرمیندر اور شتروگھن سنہا نے حال میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی

بالی وڈ کی کئی معروف شخصیتوں نے بھارت اور پاکستان دونوں ہی ممالک کے فلم سازوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی فلمیں نہ بنائے جن سے دونوں ممالک کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں۔

بھارت کے 15 ویں وزیر اعظم کی حیثیت سے نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف سے ایک ملاقات کے دوران اپنے زمانے کے معروف اداکار دھرمیندر، اداکار اور رکن پارلیمان شتروگھن سنہا اور اداکارہ اور رکن پارلیمان ہیما مالنی جیسے فنکاروں نے کہا کہ حب الوطنی سے سرشار فلمیں بنانے کی آڑ میں ایسی فلمیں نہیں بننی چاہیں جس میں کسی ملک کو کمزور دکھایا گیا ہو یا قابل اعتراض چیزیں لوگوں کے سامنے پیش کی گئی ہوں۔

اس کے علاوہ ان فنکاروں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ہی ممالک میں شوٹنگ کے لیے سازگار ماحول بنانا ضروری ہے تاکہ بھارت کے فنکاروں کو پاکستان اور وہاں کے فنکاروں کو بھارت آنے اور شوٹنگ کرنے میں آسانی ہو۔

واضح رہے کہ شتروگھن سنہا کے پاکستان کے سابق صدر جنرل ضیاء الحق سے کافی اچھے تعلقات تھے اور ضیاء الحق کی بیٹی زین ضیاء شتروگھن کو اپنا بھائی کہتی ہیں۔

’میں اینٹی فیمنسٹ ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انوراگ بھارت میں ایک ڈاکیومنٹری فلم پیش کرنے والے ہیں جس کا نام ’ورلڈ بفور ہر‘ ہے

جب خواتین کو با اختیار بنانے کی بات زور شور سے کی جاتی ہو اور ’فیمینزم‘ کے نام پر خواتین کے مفادات کی پرزور ترجمانی کرنے کا دعوی کیا جاتا ہے ایسے وقت میں کسی کا یہ کہنا کہ میں ’اینٹی فیمنسٹ‘ ہوں، اسے سمجھداری کہنا شاید مشکل ہو۔

لیکن معروف فلم ساز اور ہدایت کار انوراگ کشیپ نے ایسا ہی کہا اور اس کے لیے انھوں نے دلیل بھی دی۔

انھوں نے کہا: ’خواتین کو بااختیار بنانا صرف خالی خولی باتیں ہیں جب تک لوگ اسے اپناتے نہیں۔ میں اسے زندگی میں اپنانا چاہتا ہوں کیونکہ بغیر اپنائے اور اپنی سوچ میں تبدیلی لائے یہ ممکن نہیں۔‘

اپنی بیٹی کی مثال دیتے ہوئے انوراگ بتاتے ہیں: ’میری بیٹی 13 سال کی ہے لیکن زندگی جینے کے لیے اسے بااختیار بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے اسے مضبوط بنایا ہے اور وہ سب کچھ کرنے کے لیے آزاد ہے۔‘

انوراگ کا کہنا ہے کہ ’اسے اپنے والد (انوراگ) سے کوئی بھی سوال پوچھنے کی آزادی ہے چاہے وہ سوال سماج کے لیے کتنا بھی قابل پابندی کیوں نہ ہو۔ اس كھلے پن سے اسے آزادی اور خود مختاری دونوں ملتی ہیں۔‘

انوراگ بھارت میں ایک ڈاکومنٹری فلم پیش کرنے والے ہیں جس کا نام ’ورلڈ بفور ہر‘ ہے۔

یہ فلم بھارتی پس منظر میں بنی ہے اور اس فلم کے مرکز میں دو خواتین کردار ہیں جو دو مختلف معاشروں کی نمائندگی کرتی ہیں۔

فلم میں ایک ہی ملک میں باہم متضاد سماج کو فروغ پاتے دکھایا گیا ہے۔

اسی بارے میں