انڈیامیں مزید ریاستوں کے قیام کے امکانات

ری میپنگ انڈیا
Image caption آزادی کے بعد انڈیا میں نئی ریاستوں کا قیام متنازع موضوع رہا ہے لیکن اس کے باوجود وقفے وقفے سے نئی ریاستیں وجود میں آتی رہیں۔

انڈیا کی انتیسویں ریاست تیلنگانہ وجود میں آ چکی ہے۔ تیلنگانہ انڈیا کی ایک اور ریاست آندھرپردیش کو تقسیم کر کے بنائی گئی ہے جو کہ انڈیا کی آزادی کے بعد لسانی بنیادوں پر وجود میں آنے والی پہلی ریاست تھی۔

آزادی کے بعد انڈیا میں نئی ریاستوں کا قیام متنازع موضوع رہا ہے لیکن اس کے باوجود وقفے وقفے سے نئی ریاستیں وجود میں آتی رہیں۔ ابتداء میں نئی ریاستوں کے قیام کو تقسیمِ ہند کے تجربے کی روشنی میں ایک مضبوط انڈیا کے خواب سے متصادم سمجھا گیا۔ تاہم، انیس سو باون میں مدراس کے صوبے سے تیلوگو زبان بولنے والے علاقوں کو الگ کر کے نئی ریاست بنانے کے مطالبے کے حق میں، پوٹی سری راملو کی موت تک بھوک ہڑتال کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کو اپنا موقف نرم کرنا پڑا، اور یوں آندھر پردیش کے نام سے لسانی بنیادوں پر نئی ریاست بن گئی۔

اس کے بعد تمل ناڈو، کیرالہ، کرناٹنک جیسی ریاستیں بنیں جن کا مطالبہ لسانی بنیادوں پر کیا گیا تھا۔ پنجاب کو انیس سو چھیاسٹھ میں اندرا گاندھی کی رضامندی سے ریاست کا درجہ ملا۔ اس سے قبل انیس سو اکسٹھ میں پنڈت نہرو نے یہ کہہ کر یہ مطالبہ رد کر دیا تھا کہ گو پنجاب کی ریاست لسانی بنیادوں پر مانگی جا رہی ہے حقیقت میں یہ ایک مذہبی مطالبہ ہے۔

ریاستوں کے قیام کا ایک فوری نتیجہ تو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ انیس سو باون کے پہلے انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کی تعداد انیس سو ستاون کے انتخابات میں ترپن سے کم ہو کر پندرہ رہ گئی تھی۔

لندن میں کنگز کالج کے انڈیا انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ لیکچرار لویز ٹِلن نے اپنی کتاب ’ریمیپنگ انڈیا‘ (Remapping India) انڈیا میں ریاستوں کے قیام اور بڑی ریاستوں کی تقسیم کی تاریخ کا احاطہ کیا ہے۔لویز نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے کب کسی ریاست کا مطالبہ شروع ہوا اور کیسے ان کے بارے میں سیاسی جماعتوں کا موقف بدلتا رہا۔

لویز نے اپنی کتاب میں بتایا کہ انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے بعد ریاستوں کے قیام کا دوسرا دور وہ تھا جس میں ملک کے شمال مشرق میں میزورام، میگھالیا، اور اروناچل پردیش وجود میں آئیں۔ ان ریاستوں کے قیام کے پیچھے آسام کے قبائیلیوں کو خود مختاری دینا تھا۔ لیکن یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد انیس سو باسٹھ میں چین کے خلاف جنگ کے بعد اس علاقے میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں قائم کر کے وفاقی حکومت کا اثر و رسوخ بڑھانا تھا۔

کتاب میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح انیس سو پچاس کی دہائی میں نئی ریاستوں کی مخالفت ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جن سنگھ کی طرف سے کی گئی اور پھر سن دو ہزار میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ہی تین نئی ریاستوں چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور اترا کھنڈ بنائیں۔ یہ ریاستیں ہندی بولنے والی بڑی ریاستوں کو توڑ کر بنائی گئی تھیں۔

لویز ٹِلن کی کتاب میں اس سوال کا جواب بھی ملتا ہے کہ لسانی بنیادوں پر صوبوں کا قیام کس حد تک کامیاب فیصلہ تھا اور اس سے جمہوریت مضبوط ہوئی یا کمزور اور اس کا علیحدگی پسند جذبات پر کیا اثر پڑا۔

تیلنگانہ کے بعد انڈیا میں مزید ریاستوں کے قیام کا کیا امکان ہے؟ لویز نے کتاب میں چھتیس گڑھ کے پہلے وزیر اعلیٰ اجیت جوگی کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر کانگریس کی حکومت ہوتی تو یہ ریاست کبھی نہ بنتی کیونکہ اس وقت پچاس نئی ریاستوں کے قیام کے مطالبات میدان میں تھے اور کانگریس اس مسئلے میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فوری طور پر کسی ریاست کے قیام کا امکان نہ بھی ہو تو بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مزید ریاستیں نہیں بنیں گیں۔

اسی بارے میں