’کس کی لگی ظلمی نظریہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Madhur Bhushan
Image caption مدھو بالا کے والد عطا اللہ خان انتہائی سخت مزاج انسان تھے۔ اپنی بیٹی پر ہر وقت بڑی سخت نگرانی رکھتے تھے

کہتے ہیں عشق اور محبت سے زیادہ خوبصورت کوئی دوسری شے نہیں ہے لیکن بات بگڑ جائے تو تاریخ دردناک انجام کی ہزاروں داستانیں سامنے لے آتی ہے۔

حال ہی میں پریٹی زنٹا اور نیس واڈیا کی محبت کی کہانی کا اختتام جس طرح ایک پولیس تھانے میں درج شکایت سے سامنے آیا ہے اس سے اپنے دور کے دو عظیم اداكار دلیپ کمار اور مدھوبالا کی بے مثال محبت کی وہ دل گداز داستان بھی یاد آتی ہے جس کا اختتام عدالتی کارروائی پر ہوا۔

بات 64 یا 65 برس پرانی ہے۔ ڈائریکٹر رام درياني کی فلم ’ترانہ‘ کے لیے دلیپ کمار کو ہیرو اور مدھوبالا کو ہیروئن سائن کیا گیا۔ ہیرو اور ہیروئین کی آنکھیں کیا چار ہوئیں کہ جادو ہوگیا۔

محبت کا اقرار

اس فلم میں لتا منگیشکر اور طلعت محمود کا مشترکہ گایا ہواگیت اس جادو کو یوں بیان کرتا ہے :’نین ملے نین ہوئے باورے، چین کہاں موہے سجن سانورے۔‘ یہ دلیپ کمار اور مدھوبالا کی محبت کا آغاز تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Madhur Bhushan
Image caption نوعمری کی ناسمجھي میں ہونے والے ناکام معاشقوں کے ان حادثوں سے گزر کر اس بار مدھو بالا دلیپ کے ساتھ رشتے کے بارے میں بہت سنجیدہ تھیں

کہتے ہیں کہ اس کے آغاز میں گلاب کے ایک پھول کا بہت اہم کردار تھا۔ مدھوبالا نے اس دور میں عشق کے لیے مقبول ذریعہ ’نامہ محبت‘ کے ساتھ یہ گلاب دلیپ کمار کو ان کے میک اپ روم میں بھیجا تھا۔

اس نامہ پر لکھا تھا ’اگر مجھ سے محبت کا اقرار ہو تو اس گلاب کو قبول فرمائیں!۔‘ دلیپ کمار کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری اور انھوں نے گلاب اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

مدھو بالا کی طبیعت میں زبردست رومانیت اور نوعمری کا ایک انوکھا امتزاج تھا اور ہوتا بھی کیوں نہیں، مدھوبالا کی پیدائش 14 فروری 1933 کو ہوئی تھی اور یہ دن ویلینٹائنس ڈے یعنی یوم محبت کے طور دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔

جب یہ سلسلہ شروع ہوا تب مدھوبالا کی عمر بمشکل 17 برس کی تھی۔ سترہ برس کی عمر تک آنے سے پہلے ہی مدھو بالا کمال امروہوي اور پریم ناتھ کے ساتھ عشق میں گرفتار ہو چکی تھیں۔

نوعمری کی ناسمجھي میں ہونے والے ناکام معاشقوں کے ان حادثوں سے گزر کر اس بار مدھو بالا دلیپ کے ساتھ رشتے کے بارے میں بہت سنجیدہ تھیں۔ اس عشق میں وہ دیوانگی کی حد تک مبتلا تھیں۔

اس محبت کی ابتدا بے شک مدھوبالا نے کی ہو لیکن دلیپ کمار کی دیوانگی بھی کسی طرح کم نہ تھی۔

ان کے لیے مدھو بالا کے بغیر ایک دن بھی گزارنا تقریباً ناممکن ہو چکا تھا۔ حالت یہ تھی کہ وہ اپنی فلم کی شوٹنگ چھوڑ چھوڑ کر وہاں پہنچ جاتے جہاں مدھوبالا کی شوٹنگ چل رہی ہوتی۔

Image caption مدھوبالا کو اپنے والد صاحب کی سختیوں کے باوجود ان سے بے پناہ لگاؤ تھا

مدھو بالا کے والد عطا اللہ خان انتہائی سخت مزاج انسان تھے۔ اپنی بیٹی پر ہر وقت بڑی سخت نگرانی رکھتے تھے۔

فلمی دنیا کے تمام مردوں کا کردار ان کے لیے شک کے دائرے میں تھا۔ دلیپ کمار بھی اس دائرے سے باہر نہ تھے پھر بھی بات یہاں تک جا پہنچی کہ رشتے کو ایک رسمی شکل دی جا سکے۔

مدھوبالا کی بہن کے مطابق ان کی منگنی بھی ہوگئی۔ دلیپ کمار کی بڑی بہن سکینہ آپا مدھو بالا کے گھر رسمی طور پر دوپٹّے لے کر بھی پہنچی تھیں لیکن ایک دن بات آخر بگڑ ہی گئی۔

اس جوڑی نے ’ترانہ‘ کے بعد 1952 میں ’سنگدل‘ اور 1954 میں ’امر‘ نامی فلموں میں ایک ساتھ لیڈ رول ادا کیے تھے۔ کے آصف کی ’مغل اعظم‘، جو ریلیز بھلے ہی 1960 میں ہوئی، لیکن اس کی شوٹنگ 50 کے عشرے سے ہی چلتی آ رہی تھی۔

ان فلموں کی شوٹنگ کے دوران ہی دلیپ کمار کے ذہن میں عطااللہ خان کے لیے ناپسندیدگی کا عجب سا جذبہ پیدا ہو چکا تھا۔

اس کی وجہ تھی خان صاحب کا مدھوبالا کی زندگی میں قدم قدم پر دخل اندازی کرنا۔ شوٹنگ کے دوران بھی ان کی مداخلت سے ڈائریکٹرز پریشان ہو جاتے تھے۔

کے آصف تو خان صاحب سے اتنے پریشان ہوگئے کہ انہیں سیٹ سے دور رکھنے کے اپنے ایک پي آر او دوست تارك گاندھی کی مدد لی اور خان صاحب کو تین پتّی کے کھیل میں الجھا دیا جس میں انہیں بڑی دلچسپی تھی۔

اس دن سیٹ پر دلیپ کمار مدھوبالا کے درمیان سلیم اور انارکلی کے انتہائی رومانٹک سین کی شٹوٹنگ ہونی تھی۔ مدھوبالا کی سوانح عمری لکھنے والے صحافی موہن دیپ کے مطابق ’ کے آصف نے 25 ہزار روپے دے کر گاندھی سے کہا کہ جیتنے دو سالے کو۔‘

حقیقت یہ ہے کہ اس کھیل کے فاتح آصف ہی رہے جنہوں نے اس دن من پسند طریقے سے رومانٹک سین کی شوٹنگ کی اور عطا اللہ خان جوئے میں جیتے ہوئے نوٹ گنتے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Madhur Bhushan
Image caption کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس دن دلیپ کمار نے سر عام اس محبت کا اظہار کیا تھا اسی دن اس محبت کی کہانی کا اختتام بھی ہوگیا

دلیپ کمار کو یہ تمام پابندیاں اور خان صاحب کی عادتیں قطعی ناپسند تھیں۔ انہوں نےمدھوبالا سے صاف کہہ دیا تھا کہ شادی کے لیے انہیں فلموں میں کام کرنا تو چھوڑنا ہی ہوگا، ساتھ ہی اپنے والد سے سارے رشتے بھی توڑنے ہوں گے۔

مدھوبالا کو اپنے والد صاحب کی سختیوں کے باوجود ان سے بے پناہ لگاؤ تھا۔ جن مشکلوں سے انہوں نے اپنا خاندان شروع کیا تھا وہ اس کی بڑی قدر کرتی تھیں۔

اسی مسئلے کے حوالے سے ان دو محبت کرنے والوں میں اکثر جھگڑے کی نوبت آ جاتی تھی۔

سنہ 1956 میں ڈائریکٹر بی آر چوپڑہ نے اپنی فلم ’نیا دور‘ کی منصوبہ بندی کی۔ اس فلم کے لیے دلیپ کمار کے ساتھ مدھوبالا کو کاسٹ کیا گیا۔ اس کا آغاز بھی اچھا ہوا۔

مہورت سے لے کر سٹوڈیو میں پہلے دس دن کی شوٹنگ بھی مزے سے ہوئی۔ اس کے بعد آؤٹ ڈور شوٹنگ کی بات آئی۔ فلم کی زیادہ تر شوٹنگ بھوپال کے پاس بدھني قصبے میں کوئی دو ماہ تک ہوتی رہی۔

بی آر چوپڑا کی اس بات سے خان صاحب متفق نہیں تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ بمبئی کے ہی کسی سٹوڈیو میں گاؤں کا سیٹ لگا کر شوٹنگ کی جائے لیکن چوپڑا صاحب اس بات پر بالکل تیار نہ تھے۔

بالآخر یہ تنازع اتنا بڑھا کہ طیش میں آ کر چوپڑا صاحب نے مدھوبالا کی جگہ وجنتي مالا کو سائن کر لیا۔

دلیپ کمار اس پورے معاملے میں چوپڑا صاحب کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان کا خیال تھا کہ عطا اللہ ان کی وجہ سے مدھوبالا کو بھوپال نہیں جانے دے رہے ہیں۔

جبکہ مدھوبالا کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ اصل میں مدھوبالا دل میں سوراخ ہونے کی وجہ سے بیمار رہتی تھیں اور اس راز کو انہوں نے دنیا کے ساتھ ساتھ فلم انڈسٹری سے بھی چھپا رکھا تھا۔ آؤٹ ڈور بھیجنے پر طبیعت بگڑ سکتی تھی اور راز بھی کھل سکتا تھا۔

چوپڑا نے وجنتی مالا کو لینے کے بعد اس کا اعلان ایک اخباری اشتہار کے ذریعہ کیا۔ اس اشتہار میں مدھوبالا پر ایک کٹ کا نشان لگا کر اس کی جگہ وجنتی مالا کی تصاویر شائع کرائیں۔

عطاللہ خان کا خون كھول گیا اور جواب میں انہوں نے ایک اشتہار شا‏ئع کروایا جس میں مدھوبالا کی تمام فلموں کے نام دے کر آخر میں ’نیا دور‘ کے نام پر ویسا ہی کٹ کا نشان لگا دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Madhur Bhushan
Image caption محبت کی ابتدا بے شک مدھوبالا نے کی ہو لیکن دلیپ کمار کی دیوانگی بھی کسی طرح کم نہ تھی

اس سے بھی ایک قدم اور آگے جا کر انہوں نے عدالت میں فلم کی شوٹنگ پر پابندی لگانے کے لیے مقدمہ دائر کر دیا۔ اس کیس کے جواب میں چوپڑا نے بھی مدھوبالا کو فلم کی سائننگ کے طور پر جو تیس ہزار روپے کی رقم دی تھی اس کی واپسی کے لیے مقدمہ دائر کیا۔

انھیں عدالتی جھگڑوں کی سماعت کے دوران دلیپ کمار کو گواہی کے لیے بلایا گیا۔ باقی تمام سوالات کے علاوہ ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا وہ مدھوبالا سے محبت کرتے ہیں۔ دلیپ کمار نے مجسٹریٹ آر ایس پاریکھ کی عدالت میں سب کے سامنے کہا ’ہاں میں مدھو سے محبت کرتا ہوں اور اس سے ہمیشہ محبت کرتا رہوں گا۔‘

کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس دن دلیپ کمار نے سر عام اس محبت کا اظہار کیا تھا اسی دن اس محبت کی کہانی کا اختتام بھی ہوگیا۔

اس پوری کہانی سے وابستہ ایک انتہائی اہم بات یہ ہے کہ ان مقدمات اور تلخیوں کے باجود بھی فلم مغل اعظم کی شوٹنگ میں دونوں ساتھ ساتھ کام کرتے رہے۔

محبت کے مناظر تو دیکھئے کہ فلم کے سین کرنے کے بعد وہ ایک دوسرے سے منہ پھیر لیتے تھے لیکن ایک سین ایسا بھی آیا جب سلیم انارکلی کو غصے میں ایک تھپڑ جڑتا ہے۔

اس سین میں دلیپ کمار نے مدھوبالا کو ایسا زور دار طمانچہ مارا تھا کہ سیٹ پر موجود تمام لوگ ہل گئے تھے۔ مدھوبالا کو بھی اپنے ہوش سنبھالنے میں کچھ وقت لگا تھا۔

فلم 'ترانہ' میں ہی لتا منگیشکر کا گایا ہوا ایک اور گیت تھا: ’موسے روٹھ گيو مورا سانوریا، کس کی لگی ظلمی نظریہ‘۔

کاش کبھی کسی بھی محبت کو ایسی نظر نہ لگے کہ وہ نفرت میں بدل جائے۔