ڈاکٹر زواگو کی اشاعت، سرد جنگ کی گرم کہانی

ڈاکٹر زواگو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈاکٹر زواگو کی لاکھوں میں فروخت ہوئی۔ اس پر بننے والی فلم کو 1965 میں آسکر انعام دیا گیا۔

بورس پاسترناک کا مشہورِ زمانہ ناول ڈاکٹر زواگو سنہ 1988 تک روس میں شائع نہیں ہو سکا تھا اور وجہ یہ تھی کہ اس میں سوویت نظام پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ سی آئی اے بھی چاہتی تھی کہ سوویت عوام اس ناول کو پڑھیں اور اسی لیے روسی زبان میں ناول کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا۔

ڈچ خفیہ سروس کا ایجنٹ جوپ وان ڈر ولڈن ستمبر سنہ 1958 میں، مغرب اور سوویت یونین کے درمیان استعمال کیا جانے والا، سی آئی اے کا جدید ترین ہتھیار اپنے وطن لایا۔ یہ ہتھیار ایک چھوٹے سے خاکی لفافے میں بند تھا۔

ولڈن کی بیوہ ریچل بتاتی ہیں ’خود میرا بھی جاسوسی کا پس منظر ہے، اس لیے میں جانتی تھی کہ کچھ بہت اہم ہے جو اس نے جا کر لینا اور پھر آگے پہنچانا ہے‘۔

اس اہم ترین چیز کا تعلق فوجی ٹیکنالوجی کے کسی راز سے نہیں تھا بلکہ وہ تو ایک کتاب تھی۔ ایک ناول۔ روسی زبان میں ڈاکٹر زواگو کے پہلے روسی ایڈیشن کی کاپی۔

ریچل بتاتی ہیں کہ ’وہ انتہائی جوش اور تجسس بھرا لمحہ تھا، ہم جلد از جلد جاننا چاہتے تھے کہ یہ طریقہ کارآمد ہو گا یا نہیں اور ہوگا تو کتنا ہو گا۔ ریچل شادی سے پہلے برطانیہ کی ایم آئی 6 کی ملازم تھیں اور شادی کے بعد ہیگ منتقل ہو گئی تھیں۔‘

ان کے پاس اب تک ناول کی وہ کاپی اور وہ خاکی کاغذ محفوظ ہے جس میں ناول لپیٹ کر لایا گیا تھا۔ اس پر ان کے شوہر نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا: 6 ستمبر 1958۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وہ خاکی کاغز جس میں ناول کی پہلی کاپی لپیٹ کر لائی گئی ایجنٹ کی اہلیہ کے ھپاس اب تک محفوظ ہے اور اس پر تاریخ بھی درج ہے۔

سی آئی اے نے یہ ناول خفیہ طور پر شائع کرایا گیا تھا اور اسے ہمسایہ ملک بلجیم میں ہونے والی عالمی نمائش میں شرکت کے لیے آنے والے روسیوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔ پاسترناک شاعر اور مترجم کے طور پر معروف تھے اور توقع کی جا رہی تھی کہ لوگ ضرور ان کا پہلا ناول پڑھنا پسند کریں گے۔

یہ بھی امید کی جا رہی تھی کہ ان میں اکثر لوگ اس ناول کو اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے اور اس طرح یہ ناول نہ صرف ان کے دوست احباب تک پہنچے گا بلکہ خفیہ لٹریچر تقسیم کرنے والے وسیع تر گروہوں کو بھی مل جائے گا۔

اس ناول کی روسی اشاعت کے بارے میں تفصیلات سی آئی اے کی عام کی جانے والی ان فائلوں کے ذریعے سامنے آئی ہیں جنھیں ایک نئی کتاب، ’دی زواگو افیئر: دی کریملن، دی سی آئی اے، ایک ممنوعہ کتاب پر ہونے والی جنگ‘ کے ذریعے جاری کیا گیا ہے۔

اس میں ناول کے بارے میں سی آئی اے کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ناول کے ذریعے سوویت شہریوں کو احساس ہو گا کہ ان کی حکومت میں کیا خرابیاں ہیں اور کیوں روسی زبان میں حاضر دور کے ایک معروف مصنف کا ناول خود اُس کے اپنے ہی ملک میں دستیاب نہیں ہے۔

ناول یوری زواگو نامی ڈاکٹر اور شاعر کی خود نوشت کہانی ہے جو 1917 کے انقلاب، اُس سے پہلے اور بعد کے زمانوں میں اِس شادی شدہ ڈاکٹر کی ایک ایسی خاتون سے محبت کے گرد گھومتی ہے جو ایک کٹر بالشویک کی بیوی ہے۔

ایک اور یادداشت میں کہا گیا کہ اس کہانی کے ذریعے پاسترناک نے یہ کہنے کی کوشش کی کہ ہر آدمی کو ایک نجی زندگی کا حق ہے اور اُس کا یہ حق اس کی سیاسی وفاداریوں اور مملکت کے تقاضوں سے بھی ماورا اور اہم ہے۔ ناول کا یہ تصور کمیونسٹ نظام کے تحت قائم کی جانے والی قربانی کی سوویت اخلاقیات کے لیے ایک بنیادی چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

پاسترناک نے یہ سوچتے ہوئے کہ ناول سوویت یونین میں شائع نہیں ہو سکے گا، ناول کے ٹائپ شدہ مسودے کئی غیر ملکی مہمانوں کو دیے۔ ان میں ایک اطالوی کمیونسٹ سرگیو ڈی انگولو بھی شامل تھے، جو ماسکو میں صحافی کے طور پر کام کر رہے تھے اور جزوی طور پر ایک اطالوی پبلشر کے ایجنٹ کی حیثیت سے بھی کام کرتے تھے۔

کتاب میں سرگیو ڈی انگولو نے مئی 1956 میں 66 سالہ پاسترناک سے ملنے کے لیے جانے کا حال بھی لکھا ہے۔ پاسترناک اُس وقت ماسکو سے باہر ادیبوں کے لیے بنائی گئی ایک کالونی میں رہتے تھے۔

پاسترناک اپنے باغیچے کی باڑھ میں کچھ کر رہے تھے جب ان کی نظر ہم پر پڑی۔ وہ مسکراتے ہوئی ہماری طرف بڑھے اور باغیچے کا دروازہ کھول کر ہم سے باری باری ہاتھ ملایا۔ ان کی گرفت گرم جوشی سے بھری تھی۔

ملاقات کے اختتام پر انھوں نے مسودہ سرگیو ڈی انگولوکے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ ناول باقی دنیا کے سامنے بھی آ جائے۔ اس کے بعد انھوں نے قدرے تلخی بھرے لہجے میں کہا ’آپ کو دعوت دی جاتی ہے کہ مجھے فائرنگ سکواڈ کا نشانہ بنتے دیکھنے کے لیے ضرور تشریف لائیے گا۔‘

سرگیو ڈی انگولو ناول کا مسودہ لے کر ماسکو سے برلن گئے۔ صحافی ہونے کی بنا پر ان کے سامان کی تلاشے نہیں لی گئی اور انھوں نے مسودہ پبلشر تک پہنچا دیا۔ اسی کے بعد پبلشر نے پاسترناک سے ناول شایع کرنے کا معاہدہ کیا۔

سوویت اتھارٹی اور اطالوی کمیونسٹوں نے، اس ناول کے اطالوی پبلشر فلٹرینیلی کو اطالوی ایڈیشن شائع کرنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن نومبر 1957 میں ناول کا اطالوی ترجمہ شائع ہو گیا۔

سی آئی اے کی فائلیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ ایم آئی 6 نے بھی ناول کے مسودے ایک کاپی حاصل کر لی تھی اگرچہ یہ نہیں بتایا گیا کہ مسودہ حاصل کیسے کیا گیا۔ یہی مسودہ ایم آئی 6 نے سی آئی اے کو دیا جو بعد میں ہیگ سے روسی زبان میں کتابیں شایع کرنے والے ایک ماہر پبلشر سے چھپوایا گیا۔

ریچل بتاتی ہیں کہ ناول ہیگ سے اس لیے چھپوایا گیا کہ سی آئی اے نہیں چاہتی تھی کہ اس ناول کی اشاعت میں امریکہ کا نام آئے۔ وہ کہتی ہیں کہ خود ان کا بھی اس ناول کی اشاعت میں کوئی کردار نہیں تھا۔

ان کا خیال ہے کہ ان کے شوہر کا انتخاب بھی اس لیے کیا گیا تھا کہ ان کے ڈچ پبلشروں سے تعلقات سے تھے۔

برسلز کی نمائش میں آنے والے ہزاروں سوویت مہمانوں کو ناول کی کاپیاں ویٹیکن کے لیے مخصوص پویلین میں دی گئیں۔

دی زواگو افیئر بتاتی ہے کہ ان مہمانوں میں سے بہت سوں نے فوراً ہی ناول کی جلد پھاڑ کر جلا ڈالی۔ کچھ نے صفحے الگ کر کے کئی حصوں میں بانٹ لیے تا کہ ناول باآسانی چھپایا جا سکے۔

ناول کی اشاعت کی خبر پاسترناک تک بھی پہنچ گئی۔ جنھوں نے پیرس میں اپنے ایک دوست کے نام پیغام میں لکھا ’کیا یہ درست ہے کہ ڈاکٹر زواگو اپنی اصل زبان میں بھی شائع ہو گیا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ برسلز کی نمائش میں جانے والے کچھ لوگوں نے شائع شدہ ناول دیکھا ہے۔‘

کتاب کے شریک مصنف نے لکھا ہے کہ ناول بہت کم تعداد میں ماسکو پہنچ پایا۔ ناول کی ایک کاپی رشین سٹیٹ لابریری میں موجود ہے۔ یہ کاپی ایک کسٹم افسر کے ہاتھ لگ گئی تھی جہاں سے وہ ایک خاص سیکشن سے ہوتی ہوئی ممنوعہ کتابوں کے شعبے تک پہنچی۔

اس ناول کی اشاعت سے کئی مسائل بھی پیدا ہوئے۔ جب اسے ہالینڈ سے روسی زبان میں شائع کیا جانے لگا تو اطالوی پبلشر نے اجازت دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر ناول شائع کیا گیا تو وہ مقدمہ کر دے گا۔ سی آئی اے مقدمہ نہیں چاہتی تھی، اس لیے اُسے الگ معاوضہ دے دلا کر منا لیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاسترناک کو 1958 میں نوبل انعام دیا گیا لیکن سوویت حکام نے پاسترناک سے دستبرداری کا اعلان کروا دیا۔

سی آئی نے اس کا ایک اور حل یہ نکالا کہ جعلی فرانسیسی پبلشر کے نام سے امریکہ ہی میں ناول کا روسی زبان میں پیپر بیک ایڈیشن شائع کر لیا۔ اس ایڈیشن کی کاپیاں 1959 کے عالمی فیسٹیول آف یوتھ کے شرکا اور سوویت اور مشرقی یورپ کے نوجوانوں میں تقسیم کی گئیں۔ ہر چند کہ اس فیسٹیول کا اہتمام کمیونسٹ تنظیموں نے کیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ ان نوجوانوں کی نگرانی کے لیے جو لوگ آئے تھے انھوں نے نوجوانوں سے کہا۔ ’اسے لینا چاہو تو لو، پڑھنا چاہو تو پڑھو لیکن ہر گز اسے اپنے ساتھ لے کر مت جانا۔‘

ڈاکٹر زواگو کی اشاعت سی آئی اے کے اُن منصوبوں کا حصہ تھی جس کے تحت جارج آرویل کا نائنٹی ایٹی فور، میخائل بلگاکوف کا دی ماسٹر اینڈ دی مارگریٹا، الیگزنڈر سولزے نٹسن کا دی گولاگ آرچی پیلاگو اور یگینی زمیاتن ناول ’وی‘ شائع کرائے گئے۔

اس کے علاوہ جیمز جوایس کا نال پورٹریٹ آف آرٹسٹ ایز اے ینگ مین، جارج آرویل کا اینیمل فارم، چھ منحرف کمیونسٹوں مصنفوں کے مضامین پر مشتمل کتاب ’دی گاڈ دیٹ فیلڈ‘ اور ولادیمیر نیباکوف کے ناول پنن کی کاپیاں مشرقی یورپ اسمگل کرانا بھی منصوبے میں شامل تھا۔

سرد جنگ کے دوران اس منصوبے پر نہ صرف کتابوں پر کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے بلکہ جرائد پر بھی سرمایہ لگایا گیا۔

بعد میں پاسترناک کو 1958 میں نوبل انعام دیا گیا لیکن سوویت حکام نے پاسترناک سے دستبرداری کا اعلان کروا دیا۔ اس کے بعد بھی روسی پریس نے پاسترناک کی تضحیک میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ تاہم دوسال بعد جب پاسترناک کا انتقال ہوا تو ہزارہا لوگ پاسترناک کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے گھروں سے نکل آئے۔

ڈاکٹر زواگو کی لاکھوں میں فروخت ہوئی۔ اس پر بننے والی فلم کو 1965 میں آسکر انعام دیا گیا۔ لیکن سوویت یونین میں اس کی اشاعت 1988 تک ممکن نہ ہو سکی۔

اسی بارے میں