#رمضان پرابلمز

Image caption #رمضان پرابلمز، جب آپ کو اردگرد لوگوں کی بجائے کھانا دکھائی دے

آپ نے شاید ’فرسٹ ورلڈ پرابلمز‘ کا تو سنا ہوگا مگر کیا آپ نے ’رمضان پرابلمز‘ کا سنا ہے؟

گذشتہ ہفتے شروع ہونے والے اسلامی مہینے رمضان میں مسلمان صبح سے شام تک روزہ رکھتے ہیں۔ اسی حوالے سے ہزاروں لوگ رمضان پرابلمز کا ہیش ٹیگ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ رجحان ٹوئٹر، فیس بک، انسٹاگریم اور سماجی روابط کی دیگر بہت سی ویب سائٹوں پر نظر آ رہا ہے۔

جیسے کہ فرسٹ ورلڈ پرابلمز کے الفاظ کا استعمال عموماً مزاحیہ انداز میں کیا جاتا ہے، اسی طرح رمضان پرابلمز بھی مذاق میں ہی استعمال ہو رہا ہے۔ یہ ہیش ٹیگ استعمال کرنے والی دبئی سے عظمیٰ اتچا کہتی ہیں کہ یہ ان روزے دار مسلمانوں کے لیے ہے جو زندگی کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ شاید اس سے دنیا کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھی عام لوگوں کی طرح ہیں اور عام سی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ہیش ٹیگ بہت عرصے سے وجود میں ہے تاہم اس سال یہ بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، پاکستان، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات میں یہ ٹیگ سب سے زیادہ استعمال ہورہا ہے۔

کچھ لوگ اس ٹیگ کے ذریعے مذاق کی جگہ کارآمد مشورہ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ غیر مسلمانوں کو رمضان کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع دیتے ہیں۔ مگر شاید توقعات کے مطابق زیادہ تر بات بھوک کے بارے میں ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ بھی رمضان کے اس سال بہت سے نئے رجحان ہیں۔ مثال کے طور پر ’ہیپی فاسٹنگ‘ کے الفاظ دو لاکھ مرتبہ استعمال ہو چکے ہیں۔

صحافی اور ثقافتی ناقد لائلہ الاوا کہتی ہیں کہ سماجی روابطوں کی ویب سائٹیں مسلمانوں میں ایک فخر اور برادری کے جذبات پیدا کر رہی ہیں۔ لائلہ نے #رمضان پرابلمز کے عنوان سے ایک مباحثے کا بھی اہتمام کیا تھا۔

اس کے علاوہ اس سال بہت سی نئی رمضان ایپس متعارف کروائی گئی ہیں۔ ایک ٹوئٹر ہینڈل ہے ’رمضان ٹپس‘ اور ایسا ہی ایک فیس بک پیج بھی ہے ’پروڈکٹیو مسلم،‘ جسے دس لاکھ سے زیادہ لوگ پسند کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں